بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 10

میجر حسن کی شہادت کے واقعہ کے بعد ہم سب بہت محتاط ہو گئے تھے پیر کے روز ہم نے پاکستانی رابطے سے ڈاک وصول کی اور بھیجی تھی اور اگلے روز یشو نت سے میرے ساتھیوں نے دودھ دہی کی دکان پراس کی ڈاک کا تھیلا وصول کرنا تھا ۔منگل کو میرے ساتھیوں نے یشونت سے ڈاک وصول کی اور کاپیاں بنا کر بدھ کو مغل محل ریسٹورنٹ میں میرے حوالے کردیں ۔کاپیوں کے علاوہ یشونت کا دیا ہوا ایک لفافہ بھی مجھے دیا ۔جس پر موسٹ ارجنٹ لکھا ہوا تھا ۔
اس نے لکھا تھا ایک بہت ہی اہم مسئلہ درپیش ہے آپ سے فوری ملنا چاہتا ہوں ۔بدھ کو رات 8 بجے گولچہ سینما کے ریسٹورنٹ میں آپ کا منتظر رہوں گا ۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رات پونے آٹھ بجے گولچہ سینما کے ریسٹورنٹ میں الگ الگ جا بیٹھیں اور میری یشونت سے ملاقات کے دوران چوکنا رہیں۔
میں جان بوجھ کر 15 منٹ لیٹ ریسٹورنٹ میں پہنچا پہلے سے وہاں بیٹھے ہوئے میرے دونوں ساتھیوں نے مجھے گرین سگنل دیا ۔یشونت کونے کی ایک میز پر سر جھکائے بیٹھا اور پریشان حال دکھائی دے رہا تھا ۔میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے سر اٹھایا مجھے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل اٹھیں ۔بہت انتظار کروایا آپ نے، میں تو مایوس ہو چلا تھا ۔میں نے کہا میں تو صرف 15 منٹ لیٹ ہوا ہوں بہر حال بتائیں کیا ضرورت آن پڑی …یشو نت نے میرے آگے فل ا لحقیقت ہاتھ باندھ دیے اور کہا میری عزت اور زندگی اب آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔میں نے کہا یشو نت بابو بتاؤ تو سہی کیا بات ہے۔
یہاں میں بتاتا چلوں کہ یشو نت کو میں نے اپنا ہندو نام ابھی تک نہیں بتایا تھا اس لئے وہ مجھے صرف صاحب کہہ کر مخاطب کرتا تھا ۔چند سیکنڈ موز وں الفاظ سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے وہ چپ رہا اور پھر بولا۔
صاحب آپ سے تو آپ میری کوئی بات پو شیدہ نہیں میں شمی کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔کل شام میں اس کے ہاں گیا تو اس کی ماں نے مجھے الگ بلا کے کہا کہ شمی کا ایک خریدار اس کے 35 ہزار دینے کو تیار ہے نامعلوم وہ سچی ہے یا جھوٹ بول رہی تھی لیکن مجھے اس نے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ روپوں کا بندوبست کر لو ورنہ یہ شمی کو دوسرے خریدار کے حوالے کر دے گی ۔یہ کہہ کر وہ میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا میں نے کہا بابو میں اس معاملے میں کیا کرسکتا ہوں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ۔وہ اور زیادہ گڑگڑانے لگا ۔آپ جانتے ہیں کہ میں کسی صورت بھی اتنی رقم کا بندوبست نہیں کر سکتا آپ میری آخری امید ہیں ۔بھگوان کے لیے مجھے یہ رقم ایڈوانس دے دیں میں آئندہ اپنی ڈاک کا معاوضہ اس ایڈوانس سے کٹواتا رہوں گا ۔دیکھو بابو میں نے بے نیازی سے کہا ۔آرمی ہیڈ کوارٹرز کی ساری ڈاک ہمارے مطلب کی نہیں ہوتی آپ کے بھیجے ہوئے بیشتر خطوط ہم ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں میں نے اب تک جو رقم آپ کو دی ہے وہ آپ کی دی ہوئی ڈاک کے مناسب معاوضے سے کہیں زیادہ ہے آپ سے دوستی ہوگئی ہے اس لئے میں نے یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اب آپ کو 35 ہزار روپے درکار ہیں تو وہ میں اس قسم کی ڈاک کے عوض ایڈوانس نہیں دے سکتا میں بھی آگے جواب دیتا ہوں ۔اس کی صرف ایک صورت ہے اگر تاراپور کی فائلیں آپ مجھے لا دیں تو پھر یہ رقم آپ کو مل سکتی ہے۔
لیکن وہ فائلیں تو جنرل صاحب کی سیف میں رکھی ہیں اور سیف کی چابیا ں جنرل صاحب کے پاس ہوتی ہیں۔


اس نے مایوسی سے جواب دیا اور خاموش ہو گیا میں نے فورا ہی اس سکوت کو توڑ دیا اور کہا بابو ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔آپ کے بقول جنرل صاحب کی سیف کھولتے بھی آپ ہیں اور بند بھی آپ کرتے ہیں یہ دو موقع ایسے ہیں جن میں آپ چابیوں کا نقش صابن کی ٹکیوں پر لے سکتے ہیں آپ نقش لے لیں اور چابیاں بنوا لیں ۔جنرل صاحب کے دفتر جانے کے بعد آپ آسانی سے سیف کھول کر فائلیں نکال سکتے ہیں دفتر سے واپسی پر فائلیں آپ میرے آدمی کے حوالے کریں اور اسی رات کو فائلوں کے ساتھ آپ کو 35 ہزار روپے مل جائیں گے ۔وہ سوچ میں پڑ گیا اس کی خاموشی ڈ ر کی وجہ سے تھی میں نے اسے سوچنے کی مہلت نہ دی اور کہا چابیوں کے نقشہ اتارنے میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ لگتا ہے اور فائلیں نکالنے میں بھی اتنا ہی وقت لگے گا ۔رسک تو آپ پہلے ہی لے رہے ہیں یہ تو کل دو منٹ کی بات ہے جس کے عوض آپ اپنی سب سے بڑی حسرت پوری کر سکیں گے ورنہ اگر اسی آرزو کو دل میں لیے آپ کا دیہانت ہوگیا تو آپ کی آتما بھی بھٹکتی رہے گی اور مرنے کے بعد بھی اسے شانتی نہ ملے گی۔
اس کا کچھ خوف تو میں نے دور کیا اور کچھ اس کی خواہش نے ۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعد وہ بولا ۔صاحب ۔جب زندگی میں کوئی خوشی ہی نہیں تو پھر ایسی بے رنگ زندگی کو رنگین بنانے کے لیے میں یہ رسک بھی لے لوں گا ۔دیسی صابن کی ٹکیا تو میں آج ہی لے لوں گا جن پر نرم ہونے کی وجہ سے نقش نمایاں طور پر لیا جا سکتا ہے ۔سیف کھولتے اور بند کرتے وقت میری پیٹھ جنرل صاحب کی طرف ہوتی ہے اس لیے نقش بھی آسانی سے اتار لوں گا جنرل صاحب چونکہ ٹائپنگ کے لئے مجھے ہی بلا تے ہیں اس لئے ان کے جانے کے بعد صفائی ہونے سے پہلے کوئی بہانہ بنا کر اس کمرے میں جا سکتا ہوں اور فائلیں نکال سکتا ہوں کسی کو بھی شک نہیں ہوگا ۔لیکن ایک ا ر چن ہے جنرل صاحب اس محدود مدت میں مجھے نہیں بلواتے تو پھر کیا ہوگا۔
محدود مدت سے اس کی مراد شمی کی ماں کی دی ہوئی مہلت تھی میں نے کہا اگر اس دوران جنرل نے تمہیں نہ بلوایا تو تم اپنا قلم سیف میں بھول جانے کا کہہ کر بھی جنر ل سے چابی لے سکتے ہو ۔اگر لگن سچی ہے تو بھگوان خود رستہ بنا دے گا آپ روپیہ تیار رکھیں ۔میں فائلیں لانے کی پوری کوشش کروں گا یہ کہہ کر اس نے مجھے نمستے کہا اور رخصت چاہی اور میں سوچ رہا تھا کہ اس کا بھگوان تو اس کا راستہ بنائے یا نہ بنائے میرا اللہ یقینا ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی دے گا ۔اچانک مجھے ایک خیال آیا اور میں نے اس کو کہا کہ چونکہ تمہاری ایمرجنسی ہے اس لیے میرا ایک آدمی ہر روز دفتر سے تمہاری واپسی کے وقت دودھ دہی کی دکان پر تمہارا انتظار کرے گا کیونکہ ڈاک کی وصولی کے لئے تو وہ منگل اور ہفتہ کے دن مقرر تھے ۔اس نے شکرانے کے انداز میں دوبارہ مجھے نمستے کہا اور چلا گیا ۔تھوڑی دیر بعد میں بھی اپنے منصوبے کی اب تک کامیابی اور آئندہ کامیابی کے خیالات میں کھویا ریسٹورنٹ سے باہر آگیا اور اپنے ساتھیوں کے گھر چلا گیا اور انہیں کہا کہ آئندہ منگل تک ہر روز دو ساتھی دودھ دہی کی دکان پر یشونت کی واپسی کے وقت اس کا انتظار کریں اور ہم ڈاک کے علاوہ جو کچھ بھی وہ دے اسے لے کر فورا مجھے ٹیلی فون بوتھ سے فون کر کے مقررہ وقت پر مغل محل ریسٹورنٹ میں مجھے دے دیں۔
میں نے اپنی طرف سے تمام انتظامات مکمل کر لئے تھے اور اب ہمیں یشونت کی کامیابی کی خبر سننے کا بیتابی سے انتظار تھا ۔میرے دو ساتھی ہر روز دودھ کی دکان پر اس کی دفتر سے واپسی کے وقت موجود رہتے تھے اور اسے اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتے تھے ایسی صورتحال میں کئی دن بیت گئے اس دوران یشو نت نے مقررہ دن کو انھیں ڈاک لفافہ دیا ۔اس ڈاک میں ہیڈکوارٹرز کے خطوط کے علاوہ تین سوئپرز کے نام اور گھریلو ایڈریس بھی تھے ہر ایک کے نام کے ساتھ لکھا ہوا تھا کہ وہ کس سینئر افسر کے کمرے کی صفائی کرتا ہے اس بار ہم نے یشو نت کی دی ہوئی ڈاک کی مناسب لائٹ میں تصویریں بھی ا تاریں اور اپنی کاپی کرنے والی سلیٹوں سے کاپیاں بھی بنا لیں کیوں کہ فلموں کے روز تو پاکستان پہنچ کر ہی ڈویلپ ہونے تھے اور تب ہی ان کے رزلٹ کا پتہ چل سکتا تھا ۔کاپیاں ہم نے حفظ ماتقدم کے طور پر بنا لی تھیں۔اسی انتظار واہ بیم کی کیفیت میں ایک روز عبدالکریم میرے ہوٹل میں آیا اور اپنے کرنل کے متعلق اپنے خیالات پر مبنی 4 صفحہ دے کر چلا گیا ۔عبدالکریم اردو بولتا تو صاف ستھری تھا لیکن اس کی تحریر بہت معمولی تھی. 
کرنل شنکر کے متعلق اس نے جو کچھ لکھا تھا اس کا لب لباب یہ تھا کہ کرنل شنکر اگرچہ ایک سخت گیر شخص تھا اور اسے گالیاں بھی دیتا تھا لیکن دل کا بہت نر م تھا ۔اپینڈکس کے آپریشن کے لئے عبدالکریم کو سی ایم ایچ میں داخل کیا گیا تو کرنل نہ صرف یہ کہ ہر روز اس کی تیمارداری کو آتا تھا بلکہ اس کے لیے پھل فروٹ بھی لاتا تھا ۔عبدالکریم کی تحریر کی ایک بات نے مجھے چونکا دیا کہ کرنل جنگ کر کبھی کبھی نشے کی حالت میں بھارت اور بھارتی افواج کو گالیاں بھی نکالتا تھا اور کہتا تھا کہ کشمیر کے معاملے میں بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے جانی دشمن بن چکے ہیں ۔بقول عبدالکریم کے بھارت نے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش تو بنا دیا لیکن اب بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی باری ہے اور یہ کہ جو آئندہ پاکستان بھارت کی جنگ ہوگی وہ ایٹمی جنگ ہوگی ۔ایٹمی جنگ کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں جو تباہی ہوگی وہ پاکستانی مسلمان تو برداشت کر جائے گا لیکن بھارتی ہندو ہرگز برداشت نہ کر سکے گا اور جنگ کے بعد بھارتی ہندو خود بھارت کی اکائی کو توڑ کر چھوٹی چھوٹی مختلف ریاستوں میں تقسیم کر لیں گے ایم ریاستوں کے پاس نہ تو اتنی طاقت ہوگی اور نہ ہی وسائل کے جنگ کرنے کا سوچ بھی سکیں ۔عبدالکریم نے لکھا تھا کہ کرنل شنکر سر پیٹ کر کہتا تھا کہ ایسا ضرور ہوگا لیکن تباہی اور بربادی کے بعد ۔کاش بھارت کے ٹکڑے جنگ سے پہلے ہی ہو جائیں اور ایک بہت بڑی اور بھیانک تباہی اور بربادی سے بچا جا سکے ۔کر نل شنکر کے مطابق دنیا بھر کے مسلمان ممالک پاکستان کی ڈھال بن جائیں گے جبکہ بھارت تنہا رہ جائے گا۔


عبدالکریم نے لکھا تھا کہ رات کے نشے میں کر نل شنکر جو کچھ کہتا ہے اسے اگلی صبح مجھ سے ضرور پوچھتا ہے کہ کسی اور نے تو نہیں سنا ۔مجھ سے تسلی کر لینے کے بعد مجھے دس پندرہ روپے دے کر کہتا، جان بناؤ… بھارتی مسلمانوں کو آئندہ جنگ میں بہت بڑا رول ادا کرنا ہے اس کی تیاری کرو۔
کر نل شنکر کے متعلق عبدالکریم کی تحریر کو میں نے کئی بار پڑھا بہت سوچا اور بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میں عبدالکریم کی نگاہ میں بھارتی ہندو اور کرنل شنکر کا دوست ہوں اس نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہوگا ۔اگر عبدالکریم کو معلوم ہوتا کہ میں مسلمان یا پاکستانی ہوں یا کنونشن کا دشمن اور اس کا افسر ہوتا تو وہ پہلی صورت میں مجھے خوش کرنے اور دوسری صورت میں کرنل شنکر سے بدلہ لینے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیے غلط بیانی کر سکتا تھا ۔یہ تحریر خود اسے بھی بے حد نقصان پہنچا سکتی تھی لہذا اسے درست سمجھا جانا چاہیے ۔کرنل شنکر خود مجھے ایک شام باتوں باتوں میں بتا چکا تھا کہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے دوران اس کے جوان ریکی کرتے ہوئے ہماری سپر ہیوی گنوں  کی صحیح نشاندہی کر چکے تھے ۔اور کرنل شنکر نے یہ اطلاع نہ دے کر ان گنوں کو بھارتی تو پ خانے اور ہوائی بمباری سے بچا لیا تھا۔ اب تک غیر شادی شدہ ہونا ان سب باتوں کو پس منظر میں رکھ کر عبدالکریم کی تحریر کو میں نے درست سمجھا ۔میں نے کرنل شنکر کا جو زائچہ کھینچا وہ جنگ سے نفرت کرنے کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی کو سمجھنے والے مسلمانوں کے دل میں نرم گوشہ رکھنے والےا یسے شخص کا تھا ۔جو باا مر مجبوری بھارتی فوج میں ملازمت کر رہا تھا اور وقت پڑنے پر بھارتی مسلمانوں کو ہندوؤں کے تعصب کا مقابلہ کرنے اور ممکنہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے کا خواہاں تھا ۔ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے مزید قریب رہ کر بہت مفید معلومات حاصل کر سکتا تھا ۔میں نے کرنل شنکر کو اپنی ویٹنگ لسٹ میں سرفہرست رکھ لیا تھا لیکن یشونت کا معاملہ طے ہوجانے تک میں نے کسی اور ایشو پر نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار