معاشی ترقی کے لیے بحری تجارت کو فروغ اور بندرگاہ کے وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائے … پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق حلیم کی جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو ، ملاقات … محمد وحید جنگ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سابق نائب صدر اور چیئرمین پاکستان شپنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے موجودہ چیئرمین طارق حلیم قابلیت اور تجربے کے ساتھ ساتھ اپنی شرافت متانت اور دیانت کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں ملک بھر کے تجارتی اور صنعتی حلقوں میں ان کا نام بڑی عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے بزنس کیمونٹی کے لیے اپنی شاندار خدمات کی وجہ سے وہ منفرد اور ممتاز مقام کے حامل ہیں ملکی معیشت کی مضبوطی اور خوشحالی کے لیے ان کے پاس مفید تجاویز ہیں وہ ہر فورم پر کھل کر اپنے خیالات کا دوٹوک انداز میں اظہار کرتے ہیں سچے پاکستانی ہیں اس لئے ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور معیشت کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں طارق حلیم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے قدرت نے ہمیں بہت بڑا سمندر اور اس کے وسائل فراہم کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے بحری تجارت کے فروغ اور سمندری وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے معاملے میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا ہے آج بھی دیر نہیں ہوئی اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اور ان کے متعلقہ حکام یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے بحری تجارت کو فروغ دینا ہے اور بندرگاہ کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنا ہے تو بہت مختصر عرصے میں ہم نمایاں تبدیلی حاصل کر سکتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہمارا ملک بہت تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ سکتا ہے۔


انہوں نے اپنی معاشی ٹیم کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کیے ہیں اس وقت ملک کی معیشت مشکل وقت سے ضرور گزر رہی ہے لیکن اگر درست سمت میں مشکل اور جراتمندانہ فیصلہ کرنے سے  آنے والے وقت میں اچھے ثمرات اور نتائج برآمد ہوں گے ۔انہوں نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار اور ذہین انسان ہیں اپنے شعبے پر مکمل دسترس اور کمانڈ رکھتے ہیں ان کا علم اور تجربہ وسیع ہے وہ مشکل وقت میں اس اہم عہدے پر لائے گئے ہیں ان سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں انہوں نے آتے ہی جو اہم اقدامات اٹھائے ہیں وہ خوش آئند ہیں ان پر بزنس کمیونٹی نے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے یہ بہت اچھی علامت ہے اگر شبر زیدی کو کام کرنے کا موقع اور اختیار دیا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں اس کے بہت مفید اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔کیونکہ شبر زیدی اس شعبے کی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ماضی میں کس طرح تاجر برادری کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے اسی لئے انہوں نے آتے ہی چھاپے مارنے اور ہراساں کرنے کے راستے بند کرنے کا اعلان کیا ہے یہ بڑا جرات مندانہ اقدام ہے اسی لئے ہر فورم پر ان کو سراہا جا رہا ہے ۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہے اگر اس کو ہراساں نہ کیا جائے بلکہ اعتماد دیا جائے اور بزنس کے لیے بزنس فرینڈلی ماحول فراہم کیا جائے تو یہی بزنس کمیونٹی پاکستان کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھا سکتی ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے سے جو ایف آئی آر درج ہیں اور جو شکایات موجود ہیں ان کی تفتیش ہونی چاہیے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایک جے آئی ٹی بنا لیں جس میں ایف آئی اے کسٹم انٹیلی جنس ۔بارڈر اتھارٹیز کو بھی شامل کرلیں اور پھر ایک ہی مرتبہ سب کا احتساب کریں جن لوگوں کے خلاف شکایات ہیں جن لوگوں کے خلاف کیس درج ہیں ان کا فیصلہ کریں ایک مرتبہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے۔
ایک سوال پر طارق حلیم نے کھل کر کہا کہ پاکستان جیسے ملکوں میں اسمگلنگ اور انڈر یا اوور انوائسنگ اور مس ڈیکلئیریشن ایک ناسور بن چکے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے جو عناصر بھی یہ کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں آنی چاہیے جو لوگ دو نمبری کر کے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتے آئے ہیں یا پہنچا رہے ہیں وہ کسی رعایت اور رحم کے مستحق نہیں ہیں انہوں نے بہت دو نمبری اور بدمعاشی کر لیں اور جتنی چوریاں کرنی تھیں کرلیں اب ان کا راستہ بند ہونا چاہیے اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے ان کے ساتھ ملی بھگت کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے سرکاری اداروں کہ وہ تمام افسران اور ملازمین جو دراصل کالی بھیڑیں ہیں ان کو بے نقاب ہونا چاہیے اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔


انہوں نے اسمگلنگ کی روک تھام اور انڈر انوائسنگ اور اوور انوائسنگ پر قابو پانے کے لیے ایک اسپیشل ٹاسک فورس قائم کرنے پر زور دیا اور نئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس پر کوئی وقت ضائع کئے بغیر اقدامات اٹھائیں۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مس ڈیکلریشن کے مسائل بہت زیادہ ہیں 6 ارب ڈالر تک اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں اگر مس ڈ یکلریشن اور انڈرانوائسنگ پر قابو پا لیا جائے تو حکومت کو ملنے والے ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے ایک اندازے کے مطابق 2014 کے مقابلے میں سال 2015 میں چین کے ساتھ مسٹر ریشن اور انڈرانوائسنگ کے معاملات نے ایک طرف 75 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا اس حوالے سے الیکٹریکل اور الیکٹرونک مصنوعات سمیت مختلف شعبے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کسٹمز اور چینی حکام دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حوالے سے جو ہزاروں شمار پیش کرتے ہیں ان میں آپس میں فرق پایا جاتا ہے سال 2015 میں پاکستان نے جو اشیاء وہاں سے منگوانے کی بات کی یا چین نے جو شیعہ پاکستان سے منگوائی اور بیچی ان کے اعداد و شمار آپس میں نہیں ملتے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مس ڈیکلریشن ہوتی ہے انڈرانوائسنگ کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مس ڈیکلریشن  مس رپورٹنگ انڈرانوائسنگ اور اوور انوائسنگ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے  متعلقہ حکام کو وقت ضائع کئے بغیر توجہ دینی چاہیے انکوائری ہونی چاہیے جو لوگ بھی اس عمل میں ملوث ہیں ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے ہر سال ملک کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے امید کرتا ہوں کہ نئے چیئرمین شبر زیدی اس حوالے سے ایکشن لینگے اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
طارق حلیم نے آخر میں اس اہم معاملے کی نشاندہی اور اسے اجاگر کرنے کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو اہم قرار دیا اور جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں اس کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔