چیئرمین نیب کے انٹرویو کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا، نیب نے تردید کردی، جاوید چوہدری اپنے لکھے ہوئے الفاظ پر قائم

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے انٹرویو کا معاملہ گھمبیر ہوگیا ہے ۔نیب نے یکے بعد دیگرے دو تردیدی بیانات جاری کیے ہیں جن کے مطابق حقائق کو درست انداز میں بیان نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب کالم نویس جاوید چوہدری اپنے لکھے ہوئے الفاظ پر قائم ہیں ۔انہوں نے حامد میر کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقات تھی انٹرویو نہیں تھا اس حد تک چیئرمین نیب اور نیب کی تردید ٹھیک ہے لیکن حقائق کو نہیں چلایا گیا چیئرمین نیب سے دو مرتبہ ملاقات ہونے کے باوجود ملتوی ہوگئی تھی۔


پھر نیب کے بلانے پر 12 بج کر 45 منٹ پر میں مقررہ جگہ پہنچا نیب ہیڈکوارٹر میں چیئرمین نیب سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی انہوں نے بہت سی باتیں بتائی جو باتیں ان ریکارڈ تھی وہ میں نے چھاپ دیں جوباتیں آف دی ریکارڈ تھیں وہ میں نے نہیں چھاپی ۔میں نے جو کچھ لکھا ہے اس پر قائم ہوں۔
حامد میر کے سوال پر جاوید چوہدری نے بتایا کہ میرا پہلا کالم   چھپا تو نیب آفس سے فون آیا اور کہا گیا کہ دوسری قسط روکی نہیں جاسکتی… میں نے بتایا کہ اب دوسری قسط نہیں روکی جاسکتی یہ میری ساکھ کا معاملہ ہے میں نے اس کا اعلان کر رکھا ہے۔


اس پر کہا گیا کہ چیئرمین نیب کچھ چیزوں پر ترمیم چاہتے ہیں میں نے کالم کی دوسری قسط ترمیم شدہ چھاپی۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ چکے ہیں کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو کے حوالے سے  جاویدچوہدری خود بول رہے ہیں یا خود چیئرمین نیب، کوئی ایک غلط ضرور بول رہا ہے۔ جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ نیب کے چیئرمین کا عہدہ انٹرویو کی اجازت نہیں دیتا اگر نیب چیئرمین نے انٹرویو دیا ہے تو پھر قانونی کارروائی کی جائے گی ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں