عالمی قرضوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان مختلف عالمی مقدموں میں سو ملین ڈالر سے زائد رقم لیگل فیس کے طور پر ادا کر چکا ہے

بال بال قرضے میں جکڑی ہوئی پاکستانی قوم کے لئے یہ انکشاف ان پر بجلی گرنے کی مانند ہے کہ حکومت پاکستان اب تک مختلف عالمی مقدمات میں لیگل فیس کے طور پر سو ملین ڈالر سے زائد رقم ادا کر چکی ہے جن میں سے دس ملین ڈالر کی فیس موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے ادا کی ہے جبکہ مختلف عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی پر پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد جرمانے کا سامنا صرف تین مقدمات میں کرنا پڑ رہا ہے ۔پاکستان کو جرمانے کے طور پر 900 ملین ڈالر کی رقم کار کے کیس میں ۔145 ملین ڈالر کی رقم 9 آئی پی پی کے مقدمات میں… اور 21 ملین ڈالر کی رقم براڈ شیٹ کے  ادا کرنی ہے۔


اس کے علاوہ 11 ارب ڈالر سے زائد کے مختلف کلیم پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر زیرالتوا ہیں ۔صرف ریکوڈک کیس میں ٹیچرانکا پر کمپنی نے 11 ارب ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کر رکھا ہے اور خدشہ ہے کہ بہت جلد یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف عالمی ثالثوں کی جانب سے آ جائے گا ۔جبکہ 300 ملین ڈالر اور پچاس ملین ڈالر کے دو الگ الگ کلیم پاکستان کے خلاف آئی پی پی کے اور حیدرآباد فنڈ کے اس میں آنے والے ہیں۔ یہ تمام تفصیلات وفاقی کابینہ کو اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کی جانب سے دی گئی خصوصی بریفنگ کے دوران سامنے آئے ہیں ۔


انور منصور خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں جو بھی عالمی معاہدے کیے جائیں ان پر اٹارنی جنرل آفس کو ان بو رڈ لیا جائے اور ان سے مشاورت کی جائے ۔اٹارنی جنرل کا بتانا تھا کہ پاکستان کےاٹارنی جنرل آفس کے پاس افرادی قوت کی شدید کمی ہیں لہذا خالی اسامیوں کو فوری طور پر کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مقدمات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے افرادی قوت کی کمی کے باوجود ان مقدمات میں پاکستان کی پیروی کی گئی ہے گزشتہ چھ سال میں 16 عالمی مقدمات میں سے 13 پاکستان کے حق میں آئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں