مکہ پر میزائل حملے کا دعویٰ سچا یا جھوٹا ؟

حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ ساریہ نےا س سعودی دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب پر داغے گئے دو میزائلوں میں سے ایک کا رخ مکہ کی جانب تھا ۔حوثی باغیوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی حکومت عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جھوٹا دعوی کر رہی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ایئر ڈیفنس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک مزائل کا ہدف صوبہ مکہ اور دوسرے کا رخ جدہ تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر ڈیفنس نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرکے ناکارہ بنا دیا۔


ایک میزائل کو صوبہ مکہ کی جانب چلا گیا تھا جبکہ دوسرا میزائل حملہ جدہ کی جانب کرنے کی کوشش کی گئی تھی یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق دونوں میزائلوں کو جدہ اور طائف کی حدود میں مار گرایا گیا جبکہ واشنگٹن میں واقع سعودی سفارتخانے کے ٹوئٹ میں دونوں میزائلوں کو مکہ صوبے کی حدود میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
مکہ پر حملے کے حوالے سے متضاد خبریں آنے کی وجہ سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ کب کہا کیا جارہا تھا اور اس کا اصل ہدف کیا تھا ۔پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعادہ بھی کیا ہے اور ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں سعودی فوج کی طرف سے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے عمل کو سراہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں