بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 9

الہ آباد میں ایک پاکستانی میجر جاسوس کی گرفتاری کی خبر نے میرے خدشات کو سچ ثابت کردیا اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ لکھا گیا کہ ایک پاکستانی میجر جاسوس کی گرفتاری اور اس کے تین ساتھیوں کی ٹرانسمیٹر کے مسلسل استعمال کی وجہ سے ا ہم گرفتاری ہوئی اخبارات پاکستانی میجر اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اور سنسنی خیز انکشافات کی توقع سے بھرے ہوئے تھے لیکن کیا انکشاف ہوئے ان کے متعلق کبھی کچھ نہ چھپا ۔یہ تو کرنل شنکر نے ہفتہ دس دن بعد ایک ملاقات میں تفصیل سے بتایا کہ احسن نام کا ایک پاکستانی میجر بھارتی ماؤنٹین ڈویژن 39 کی وردی پہنے کسی اسپیشل ڈیوٹی کا کہہ کر ٹھہرا ۔وہ میس میں مقیم ایک بھارتی کرنل کی ڈائری کے پیچھے لگا ہوا تھا ۔ کئی دنوں کی لاحاصل کوشش کے بعد اس نے کرنل کے مسلمان بیٹ مین کو پیسے کے زور پر را م کرنا چاہا اور اسے اعتماد میں لینے کے لئے یہاں تک بتا دیا کہ وہ خود پاکستانی اور مسلمان ہے کرنل کی ڈائری لاکر دینے کے عوض اس نے بیٹ مین کو خاصی بڑی رقم کی پیشکش کی اور آ د ھی رقم پیشگی ادا کردی۔یہ بیٹ مین کچھ زیادہ ہی محب وطن بھارتی تھا اس نے کرنل کو سب کچھ بتا دیا۔میجر احسن کو فوری گرفتار کر لیا گیا اور یہ تصدیق ہونے پر کہ اس کا 39 ماؤنٹین ڈویژن سے جو پونا میں قائم تھا کوئی واسطہ نہیں ۔اس پر انتہائی تشدد کیا گیا لیکن اس نے سوائے اپنا نام رینک اور نمبر کے کچھ نہ بتایا بھارتی انٹیلی جنس نے جلد از جلد اس کے ساتھیوں اور ہمدردوں کے نام آنے کی خواہش میں اس میجر کو بریک کرنے کے لیے تشدد کی انتہا کردی ۔اس کے دونوں پاؤں کی انگلیاں کاٹی گئیں ہاتھ کاٹے گئے اور دونوں بازو بھی کاٹ دیے گئے لیکن میجر احسن کی زبان سے ایک لفظ تک نہ نکلا حتیٰ کہ وہ شہید ہوگیا ۔


اس کے ساتھی انتظار میں تھے میجر احسن جب وقت مقررہ اور کافی دن بعد تک وہاں نہ پہنچا تو وہ بوکھلا گئے اور بار بار ٹرانسمیٹر پر لاہور سے رابطے شروع کردیے ۔ٹریسر نے ان کے سگنل کو پکڑا اور جگہ کا تعین کیا اور وہ تینوں بمعہ ٹرانسمیٹر پکڑے گئے ۔کرنل شنکر نے جو کچھ مجھے بتایا میں سنتا گیا میں نے خود کوئی ایسا سوال نہ کیا جو کرنل کو میرے متعلق شک میں ڈال سکے یہ ساری روداد میں نے اپنی ڈاک میں لاہور بھیج دی بہت بعد میں مجھے پتا چلا کہ میجر کے تینوں ساتھیوں کو بھی تشدد سے شہید کر دیا گیا لیکن انہوں نے بھی اپنی زبان نہ کھولی۔اناللہ واناالیہ راجعون …
قارئین شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ پاکستان سے اس فراوانی سے بھارتی کرنسی کی آمد کی وجہ سے ہمیں اسے خرچ کرنے کی کھلی اجازت تھی تو ایسا ہرگز نہیں تھا ۔بلکہ میرے ہوٹل اور ساتھیوں کے مکان کے کرائے کی ادائیگی کے علاوہ مجھے چار ہزار روپیہ اور میرے ساتھیوں کو تین تین ہزار روپیہ ماہوار ذاتی اخراجات کے لیے مقرر کیے گئے تھے ۔ان رقوم کے علاوہ ہمیں ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا پڑتا تھا مشن کی مد میں اخراجات کی تفصیل اور وجوہات بیان کرنا پڑتی تھیں ۔میرے ساتھیوں کے پاس چو نکہ ذاتی اخراجات کی مد میں رقم ایڈوانس میں جارہی تھی اس لیے میں نے اس بار انہیں کچھ نہ دیا اور ہمدرد سے لی ہوئی رقم کا بقیہ اور اب ملنے والے 50 ہزار ہوٹل میں اپنے لا کر میں رکھ دیئے سب روپیہ ملک اور قوم کی امانت ہے اور جب ہم نے اپنی زندگی اپنے وطن کے لئے داؤ پر لگا رکھی تھی تو اس امانت میں خیانت کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔


میں نے اپنے ساتھیوں کو میجر احسن اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا بتایا اور کہا کہ اب ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا میں نے انہیں سختی سے ہدایت کی کہ کبھی بھی اکیلے باہر نہ جائیں بلکہ ہمیشہ دو جائیں ۔دونوں مسلح ہوں اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر چلیں اگر محسوس ہو کہ آپ کا پیچھا کیا جارہا ہے تو چھپنے  کی پوری کوشش کریں۔اور اگر چھپنے میں ناکام ہوجائیں اور بچنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو پہلے پیچھا کرنے والے کو گولی مار کر ہلاک کر دیں اور وہاں سے غائب ہو جائیں میری ہدایت سن کر ساتھیوں نے بتایا کہ سرائے بیرم خان میں گھومنے کے دوران انہوں نے چاقو چھری اور خنجروں کی ایک دکان سے ایسی پانچ چھر یاں خریدی ہیں ۔چھر ی واقعی بہت سخت اور بہت تیز تھی بیت کے اندر فٹ ہونے پر چوری کا دستہ بیت کا حصہ دکھائی دیتا تھا یہ واقعی کارآمد ہتھیار تھا جس سے آواز کیے بغیر دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا تھا ۔۔اب یہاں سے غائب ہو جائیں میری یہ ہدایت سن کر ساتھیوں نے بتایا کہ سرائے بیرم خان میں ہونے کے دوران انہوں نے ہندوؤں کی ایک دکان سے ایسی پانچ خریدی ہیں ۔بید کے اندر فٹ ہونے پر چھری کا دستہ بید کا حصہ دکھائی دیتا تھا یہ واقعی ایک کارآمد ہتھیار تھا جس سے آواز نکلے بغیر دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا تھا ۔پاکستان سے بھیجے گئے سائلنسر والے پسٹل کو رکھنے کے لئے کور اور ایسی بیلٹس بھیجی گئی تھی جن سے لباس کے اندر بالکل چھپ جاتا تھا۔

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

اپنا تبصرہ بھیجیں