بیرون ملک خواتین ارکان اسمبلی اپنے ہمراہ بچوں کو لاسکتی ہیں تو پاکستانی خواتین کو اجازت کیوں نہیں؟

پاکستانی خواتین ارکان اسمبلی کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ جب مختلف ملکوں میں ارکان اسمبلی اپنے بچوں کو اسمبلیوں میں ہمراہ لاسکتی ہیں تو پاکستان میں یہ اجازت کیوں نہیں ہے ۔۔۔یہ سوال اس وقت اٹھایا گیا ہے جب بلوچستان کی ایک خاتون رکن نے اپنے بیمار بچے کو اسمبلی سیشن کے دوران ایوان میں لانے کی کوشش کی تو انہیں منع کردیا گیا اور ان کی ساتھی خواتین ارکان اسمبلی نے بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی جس کا انہیں دکھ ہوا اور انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا مختلف ملکوں میں وزراء اور خواتین ارکان اسمبلی اپنے ہمراہ چھوٹے بچوں کو ایوان میں لے جاتی ہیں لیکن پاکستان میں قانون اور قاعدے کے مطابق اس کی اجازت نہیں ہے اس لیے بلوچستان اسمبلی میں یہ واقعہ پیش آیا۔


سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر آج بےنظیر بھٹو جیسی قائد ایوان میں موجود ہوتی ہیں تو کیا اس طرح کے واقعات پر وہ قانون سازی کے لئے حکم نہ دیتی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے اور جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے پر غور ہونا چاہیے یا اسمبلیوں میں بھی ڈے کیئر سینٹر بنائے جائیں جن ارکان اسمبلی کے بچے چھوٹے ہیں وہ ایوان کی کارروائی میں شامل ہونا چاہتی ہیں تو اپنے بچوں کو اسمبلی کے ڈے کیئرسینٹر میں رکھیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون سازی خود ان ارکان اسمبلی نہیں کرنی ہے جن کو یہ مسئلہ درپیش ہے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں