رمیز راجہ کی پہلی فلم ڈور باز Dorbaz

دو سال پہلے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کرکٹ کمنٹیٹر اور سابق ٹیسٹ کپتان رمیز حسن راجہ نے اپنی پہلی فلم بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے سنجے دت کو ہیرو کے رول کے لیے سلیکٹ کیا تھا اور سنجے دت کے مقابل بھارتی اداکارہ کترینہ کیف اور پاکستانی مشہور اداکارہ ماہرہ خان کے نام بطور ہیروئن سامنے آئے تھے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانوں کو دہشتگردی اور غلط کاموں سے بچانے کے لئے چاہتے ہیں کہ ایک پرامن ماحول کی طرف ان کو کھلایا جائے اور انہوں نے کرکٹ کے موضوع پر فلم بنانے کا اعلان کیا تھا.


کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس پورے خطے میں کرکٹ سے زیادہ مقبول کھیل اور کوئی نہیں رمیز راجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلم کا کوئی بارڈر نہیں ہوتا ۔رمیز راجہ سے پوچھا گیا تھا کہ سنجےدت کا خیال کیوں آیا تو انھوں نے کہا کہ سنجے دت میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو میری فلم کے ہیرو میں ہونی چاہیے دس سال سے یہ آئیڈیا میرے ذہن میں تھا اور پھر ایک فلم کمپنی کے ساتھ جب بات ہوئی تو انہوں نے اس کو منظور کیا اور سنجے دت سے بھی بات کی وہ بھی کافی خوش ہوئے اور انہیں کہانی پسند آئی ۔فلم میں بنیادی طور پر ساری کہانی ہیرو کے کردار کے گرد گھومتی ہے اس میں ہیروئن تو ہے لیکن ہیروئن کا کردار بہت زیادہ نہیں ہے اسلئے فلم میں کسی آئٹم سونگ کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔


چودہ اگست انیس سو باسٹھ کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے رمیز حسن راجہ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رکھا ہے انہوں نے 57 ٹیسٹ میچوں اور 198 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی وہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے اب ان کا شمار دنیا کے مشہور کرکٹ کمینٹریٹر اس میں ہوتا ہے ان کی شادی امبرین راجہ سے ہوئی ۔ان کے بڑے بھائی وسیم حسین راجہ بھی پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہے مرحوم وسیم راجہ کے بیٹے علی وسیم راجہ سر ے سیکنڈ ایلیون سے کرکٹ کھیلتے ہیں ۔رمیزراجہ انیس سو بانوے میں پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنے والے فاتح اسکواڈ کا اہم رکن تھے انہوں نے ورلڈکپ میں سینچریاں اور سب سے زیادہ رنز بھی بنائے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں