سستی بجلی عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے میں بنیادی کردارادا کرتی ہے۔

mian zahid hussain business man fpcci chairman
چھوٹے بجلی گھر بنانے اورسولروونڈ انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
درآمد شدہ ایندھن، ٹرانسمیشن کی خرابیاں بجلی کو مہنگا کر رہی ہیں۔ میاں زاہد حسین

02اگست2021
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سستی بجلی عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے میں بنیادی کردارادا کرتی ہے کیونکہ اس سے صنعتی و زرعی پیداواراورخدمات سستی ہوجاتی ہیں۔ ملک میں چھوٹے بجلی گھر بنانے اورسولروونڈ انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کے مسئلے کومستقل بنیادوں پرحل کیا جا سکے۔ اس ترقی یافتہ دور میں بڑے گرڈ سٹیشن ماضی کی یادگار بنے ہوئے ہیں اس لئے پاکستان میں یہ سلسلہ بتدریج ختم کیا جائے تاکہ سالانہ کھربوں روپے کے نقصانات میں کمی لائی جا سکے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیس فیصد بجلی چوری اورکمزورانفراسٹرکچر کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے اور ٹرانسمیشن نظام کی کمزوری اوراہلکاروں میں کارکردگی کی کمی کی وجہ سے سالانہ ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ کم ازکم نوکروڑ افرادکولوڈ شیڈنگ بھگتنا پڑتی ہے جس سے وہ بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور معاشی ونفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے لئے بڑی مقدار میں پٹرولیم درآمدات پرانحصار کرنا پڑتا ہے جس پراربوں ڈالرلاگت آتی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی بدولت بجلی بنانے سے آلودگی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ساری دنیا میں بجلی بنانے کے لئے کوئلے، تیل اورگیس پرانحصارکم کیا جا رہا ہے مگرپاکستان میں اس وقت بھی چونسٹھ فیصد بجلی درآمد شدہ ایندھن سے بنائی جا رہی ہےاوراقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تیل کی کھپت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ بجلی کے ڈسٹریبیوشن نظام میں خرابیاں دور کرنے اور پیٹرولیم کے بجائے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لئے نیم دلانہ کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ ضرورت بھرپورکوششوں کی ہے۔ میاں زاہد حسین نے مطالبہ کیا کہ توانائی کی پالیسی کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ عوام کو سستی بجلی ملے، صنعتی و زرعی پیداوار کی لاگت کم ہواوربرآمدات میں اضافہ ہو سکے جس کے بغیرملکی ترقی ناممکن ہے۔