علیم خان کی ضمانت ہوجاتی ہے فواد حسن اور احد چیمہ کی کیوں نہیں؟

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے چیئرمین نیب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے ٹھیکیدار نہ بنیں انہیں سیاستدانوں کی بےعزتی کا کوئی حق نہیں ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدقسمتی اور افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں نیب  غیرجانبدار ادارہ نہیں رہا ملکی معیشت تباہ کرنے میں اس ادارے کا بہت بڑا حصہ ہے چیئرمین نیب نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے انہیں رشوت دینے کی کوشش کی گئی انہوں نے جو باتیں کیں وہ کبھی نہیں ہوئیں، چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آجائے گا شاہد خاقان عباسی نے کہا سیاستدانوں کو بد نام کرنا روایت بن گئی ہے 3500 کیسے چل رہے ہیں کسی کا فیصلہ نہیں ہو رہا عجیب بات ہے علیم خان کی ضمانت ہوجاتی ہے لیکن فوادحسن،  احد چیمہ کی نہیں ۔


فواد حسن فواد پر سفارش کرانے پر مقدمہ ہے، سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں حقیقت یہ ہے کہ نیب نے بیوروکریسی کو مفلوج کردیا ہے کہا گیا احد چیمہ تکبر کا شکار ہوئے، نواز شریف اور شہباز شریف پر ڈیل آفر کرنے کا الزام لگا کر کردار کشی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ،کہا گیا نیب کا کوئی ریکارڈ ضائع نہیں ہوا غیر جانبدار ادارہ ہے لیکن میں افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں نیب غیر جانبدار نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کا عہدہ حکومت  چناؤ کرتی ہے ہم سے زیادہ کوئی احتساب کے حق میں نہیں ہے احتساب سب کا ہونا چاہئے ہم حاضر ہیں ہمارا احتساب آپ نے کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں