بلاول اور مریم کی جانب سے اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کے بعد نیب کی پھرتیاں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے اکٹھے افطارڈنر کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کو عید کے بعد حکومت مخالف تحریک پر راضی کرنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے عمران خان کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے دباؤ کا شکار ہو گئی ہے ایک طرف وفاقی وزراء کے بیانات ان کی پریشانی کو واضح کر رہے ہیں دوسری طرف نیب کی پھرتی ابھی سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں نیب نے 33 بلٹ پروف گاڑیوں کی مبینہ خریداری کے الزام میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں نئی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں احتساب عدالت سے اجازت بھی لے لی گئی ہے نواز شریف سے فواد حسن فواد کہ بیان کی روشنی میں پوچھ گچھ کی جائے گی نیب ذرائع کے مطابق 2015- 2016 میں گاڑیاں خریدی گئی تھی تفتیشی افسر اس حوالے سے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد کا کیمپ جیل میں بیان لے چکے ہیں۔


دوسری طرف نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اپنے خلاف ہونے والی تنقید کے جواب میں فوری طور پر ایک پریس ریلیز بھی جاری کردیا ہے جس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف جاری تحقیقات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیب نے اچانک سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جو معاملہ اٹھائے ہیں یہ بظاہر نیب کی تحقیقات کا انداز ہے لیکن اسے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کا نتیجہ قرار دیا جائے گا جس عجلت میں چیئرمین نیب نے پریس کانفرنس کی اس سے پہلے ایک کالم نما انٹرویو شائع ہوا اس پر سیاسی حلقوں میں کافی بحث ہو رہی ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر چیئرمین نیب نے انٹرویو دیا ہے تو پھر قانونی کاروائی کریں گے۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میں آپ کی پھرتیاں اسے اپوزیشن کے خلاف ایک فریق کے طور پر پیش کر رہی ہیں جو اس ادارے کی غیر جانبداری پر نئے سوالات اٹھائے گا ابتک نیب نے حکومتی کیمپ میں شامل شخصیات پر ہاتھ نہیں ڈالا پرویز خٹک کی گرفتاری کے حوالے سے ابھی تک اپوزیشن انتظار کر رہی ہے جبکہ پریس کانفرنس میں چیئرمین نیب سے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کے ساتھ ان کے تعلقات کا سوال اٹھایا گیا تھا اور غصہ آگیا تھا کہ ان کے خلاف چار ریفرنس یہی تو ان کی گرفتاری کیوں عمل میں نہیں لائی گئی سیاستدانوں کو تو فورا گرفتار کے لئے جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیب ا ور ا پوزیشن جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے چیئرمین نیب پر دباؤ کون ڈالتا رہا اس نے ڈالا شاید خاقان عباسی نے وضاحت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف نے کبھی چیئرمین نیب سے ملاقات نہیں کی۔چیئرمین نیب کو پریس کانفرنس کرنی چاہیے تھی یا نہیں اس حوالے سے بھی بحث ہو رہی ہے کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب نے پریس کانفرنس کرنے میں اجلاس کی کچھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے درست قدم اٹھایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں