بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 8

میرے ساتھیوں نے جن آرمی ہیڈ کوارٹرز کے سول افسروں اور کلرکوں کے گھر اور دفتر میں ان کی پوزیشن کا پتہ لگایا تھا ان کے گھریلو حالات اور گھر میں رہنے والے افراد خصوصا بچوں جوان بچیوں اور غیر شادی شدہ بہنوں کے متعلق بھی معلومات حاصل کی تھی یہ تمام معلومات دیں اور میں نے اپنی ڈائری میں کوڈ ورلڈ میں نوٹ کرلیں یہ معلومات ہمارے لیے بہت کارآمد ثابت ہوسکتی تھی۔
یہ ہفتے کی شام تھی جب اشوکا ہوٹل میں ایک تفریحی پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں فلور ڈانس بھی تھا اس پروگرام میں داخلہ ٹکٹ پر تھا میں نے ٹکٹ لینا چاہا تو معلوم ہوا کہ صرف جوڑوں کو داخلے کی اجازت ہے ۔مجھے خاتون ساتھی کی ضرورت تھی جو اشوکا ہوٹل کی لابی میں پوری ہوگی اونچی سوسائٹی میں داخل ہونے کی خواہشمند غریب گھرانوں کی خوبصورت لڑکیاں ان فائیو سٹار ہوٹلوں کی لابی میں اکثر شام کو مل جاتی ہیں ۔وہ ایسے لوگوں کی تلاش میں آتی ہیں جو ان کی شام کا خرچہ اٹھا سکے میں نے ایسی ہی ایک لڑکی کو دعوت دی جسے وہ فورا ہی مانگی میں نے ٹکٹ لیا ہال میں داخل ہوئے اور ایک ٹیبل پر قبضہ جمالیا آہستہ آہستہ مختلف جوڑے ہال میں داخل ہو رہے تھے کچھ دیر بعد فلور پر ڈانس شروع ہوگیا اکبر ہوٹل میں دو تین بار دیکھا ہوا ایک جوڑا بھی وہاں موجود تھا۔
شوہر بوڑھا اور بیوی جوان مے نوشی میں مصروف تھے میں نے ذاتی لڑکی کو ڈانس کی دعوت دی وہ تیار ہوگئی اور ہم فلور پر آگئے اسکوائر ڈانس کے لئے شروع ہوئی اکسٹرا کی دھوم تیز ہوتی گئی اور بالآخر اس دور کے مشہور ترین راک اینڈ رول پر ختم ہوئی بوڑھے شوہر پر بھی مے اپنا اثر کر چکی تھی وہ بھی اپنی ساتھی کے ہمراہ فلور پر آگیا ۔راک اینڈ رول کی تیز دھن پر ناشتے ہوئے جلد ہی وہ ہانپنے لگا میں ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا مغربی اصول کے مطابق میں نے اس بوڑھے کی پیٹھ پر آہستہ سے انگلیاں بجائیں وہ اس عورت سے الگ ہو گیا اور وہ عورت میرے ساتھ ناچنے لگی ۔لاش میں وقفہ ہوا تو میں اس عورت کو اس ٹیبل پر چھوڑنے گیا ۔اپنا تعارف کروایا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا اس عورت نے مجھے اپنے ٹیبل پر بیٹھنے کی دعوت دی اور میں ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔


گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ موصوف ایک ٹھیکیدار ہیں اور خاتون ان کی بیگم ہیں ۔اکسٹرا کی تیز آواز اور دوسرے مے نوشوں کی اونچی آواز میں گفتگو نے جارحانہ شور مچا رکھا تھا مجھے محسوس ہوا کہ ٹھیکدار صاحب نے اپنے ٹیبل پر میری موجودگی اور ان کی بیگم کے ساتھ میرے ناچنے کو پسند نہیں کیا میں ان سے اجازت لے کر اٹھنے ہی والا تھا کہ ڈانس پھر شروع ہوگیا ۔مجھے خوب یاد ہے کہ آرکسٹرا نے میری پسندیدہ دھن come September بجانی شروع کی .یہ اس دور کی بات ہے جب آتش جوان تھا میرے پاؤں بےاختیار فرش پر بجنے شروع ہوئے ٹھیکیدار کی بیوی جوان اور خاصی پرکشش تھی اس نے مخمور آنکھوں سے مجھے اشارہ کیا میں کرسی سے اٹھے اور میرے احساس ہیں وہ بھی کھڑی ہوگی ہم فلور پر آ کر ناچنے لگ گئے اس دن پر اسکوائر یعنی سلو ناچ کیا جاتا ہے اور ناچنے والوں کے جسم ایک دوسرے کے بہت قریب آجاتے ہیں کچھ ماحول کا اثر کچھ مے کا نشہ اور جوانی کا جوش چند قدم لینے کے بعد ہی اس عورت نے اپنا سر میرے سینے سے لگا دیا میں نے سرگوشی میں اس کا نام پوچھا تو اس نے آ شا بتایا ۔میں نے اسے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تمہارے شوہر نے میرے تمہارے ساتھ ناچنے کو پسند نہیں کیا ۔وہ سوائے ناپسند کرنے کے اور کر بھی کیا سکتا ہے ؟ اس نے بڑے ذومعنی انداز میں جواب دیا میں نے اسے کہا میں نے اکبر ہوٹل میں تمہیں دو تین بار دیکھا تھا اور تمھارے حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا آج اشوکا میں اس پروگرام میں تمہیں داخل ہوتے دیکھا تو رہ نہ سکا ۔لابی سے ایک لڑکی ساتھ لیں اور اس کے ہمراہ اندر آیا کیونکہ صرف جوڑوں کو آنے کی اجازت ہے ۔اس نے کہا کہ میں تو سمجھی تھی کہ وہ تمہاری بیوی ہے پھر وہ ہنس پڑی اور اسی مخمور لہجے میں کہنے لگی۔تم مرد بڑے شیطان ہوتے ہو میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ٹھیکیدار صاحب کی پہلی بیوی مر چکی ہے اور اس بیوی سے اولاد عمر میں اس سے بڑی ہے ۔میں نے اسے کہا شاید تم اسے بہت جلد سمجھو لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں تم سے بہت متاثر ہوں میں ممبئی سے آیا ہوا ہوں اور لودھی ہوٹل میں مقیم ہوں ۔کاروبار کے سلسلے میں دہلی میں چند ماہ رہنا ہے غیر شادی شدہ ہوں اور محض اس لیے کہ اب تک پسند کی کوئی عورت ملی نہیں بالکل تنہا ہوں ۔میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس سے بہت سی باتیں کرکے اسے اپنی جانب راغب کر لو کیونکہ ممکن ہے بعد میں ایسا موقع نہ ملے اس نے اسی مخمور لہجے میں کہا پہلے تنہا تھے اب تنہا نہیں ہو۔اس نے لودھی ہوٹل میں میرا کمرہ نمبر پوچھا اور ذہن نشین کرنے کے لیے دوبارہ نام بھی پوچھا اور ناشتے ہوئے میرے سینے پر سر ٹکا دیا۔
جن کا ارینکو ایسی اونچی سوسائٹی میں جانے کا موقع نہ ملا ہوں انہوں نے ضرور سنا تو ہوگا کہ برصغیر سے رخصت ہوتے ہوئے انگریز اپنی لعنتی زندگی کی روایت یہاں چھوڑ گئے ۔اور اس اونچی سوسائٹی کے لوگ مغرب کی نقل میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ مغرب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ مغربی معاشرہ بھی ان کی بے حیائی سے شرمانے لگا ۔بھارت میں دو اب آدھی شہری آبادی اسکرٹ اور جینز پہنتی ہے یہ مڈل کلاس لوگ ہیں جبکہ اپر کلاس تو مغرب نوازی میں حدوں کو بھی پار کر چکا ہے ۔بھارتی فلموں کے ویڈیو کیسے میری بات کی گواہی دیں گے جو اوریانیت مغربی فلموں میں دیکھ نہیں پاتے وہ ہمیں بھارتی فلموں میں ملتی ہے۔
ناچ ختم ہوا اور میں آ شا کو اس کے ٹیبل پر چھوڑ کر اپنے ٹیبل پر آگیا ۔میری معاوضے پر آئی ہوئی لڑکی اس دوران بیر اور وسکی کے نشے میں مدہوش ہو چکی تھی میں خود بھی اس ماحول سے آپ نکلنا چاہتا تھا اشوک اور اکبر جیسے فائیو سٹار ہوٹلوں میں عام دنوں میں صرف دوسو روپے میں کوئی جوڑ اپنی شام گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔تفریحی پروگرام اور کم ٹکٹ کی وجہ سے نچلی کلاس کے شور و غل مچانے والے لوگ وہاں طوفان بدتمیزی بپا کیے ہوئے تھے اور یہ شور میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔
میں نے بال ادا کیا اور پیڈ فرینڈ کو لا بی میں کوئی اور شکار ڈھونڈنے کے لئے چھوڑ کر اپنے ہوٹل چلا آیا۔
اگلے روز صبح گیارہ بجے میرے فون کی گھنٹی بجی میں حیران تھا کہ مجھے فون کرنے والا کون ہو سکتا ہے میں نے فون اٹھایا تو آ شا تھی اس کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ ابھی تک اس کا نشہ نہیں اترا رسمی کلمات کے تبادلے کے بعد اس نے کہا کہ میں تم سے ملنے تمہارے ہوٹل آ رہی ہوں اور لنچ تمہارے ساتھ ہی کروں گی ۔میں نے اسے لابی میں ملنے کا کہا اور تیار ہوکر لابی میں آ بیٹھا تھوڑی ہی دیر میں وہ پہنچ گئی اور ہم کافی شاپ کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے میں نے اس سے پوچھا کہ رات بھی تمہارا شوہر ناچنے پر ناراض دکھائی دیتا اور اب تم اکیلی یہاں آئی ہو وہ ہنسنے لگی اور بولی کے چند اس کے شوہر کا نام تھا کی ناراضگی اور غصہ شراب کا نشہ اترتے ہی غائب ہو جاتا ہے ۔وہاب اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ میرے ساتھ اس کا نبا ہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھے ۔اونچی سوسائٹی میں جوان بیوی کے بوڑھے شوہر کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔
ہم دونوں ایک ٹیبل پر بیٹھے اپنے اپنے منصوبوں اور خواہشات کی تکمیل کے متعلق سوچنے لگے گفتگو کا آغاز کرنے کے لیے میں نے اس سے پوچھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے شوہر کے علاوہ تمہاری زندگی میں داخل ہونے والا میں پہلا مرد نہیں ہوں۔
وہ ہنسنے لگی اور کہا اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو تم میں ایک احمد ہو وہ بلاججھک مجھے بتانے لگی کہ میرا شوہر ٹھیکے لینے کے لئے صاحب اختیار افسران کو اکثر پارٹیاں دیتا ہے اور انھیں خوش کرنے کے لیے مجھے آگے کرتا ہے ۔صاحب اختیار بنتے بنتے وہ عمر کی اس حد میں ہوتے ہیں جہاں جسمانی طور پر بیکار ہو جاتے ہیں میرے والد بھی ٹھیکے دار تھے اور فرقے میں انہیں نقصان ہوا تو وہ سنبھل نہ سکے اور جے چند نے میرے والد کی مالی امداد کرکے مجھے خرید لیا ۔اگر یہ چند مجھ سے مخلص ہوتا تو میں آمروں کے اتنے فرق کے باوجود ایک اچھی بیوی ثابت ہوتی لیکن یہ چند کے ٹھیکوں کے حصول کے لیے مجھے بیچنا شروع کردیا اب ہم دونوں میں ایک سمجھوتا سا ہو گیا ہے کہ میں اس کی دی ہوئی پارٹیوں میں اس کے لئے ٹھیکے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہوں اور وہ میری ذاتی سرگرمیوں کے متعلق کچھ نہیں پوچھتا ۔شراب کے نشے میں اگر اسے کبھی کبھار حصہ آپ ہی جاتا ہے تو میں اس کی کمزوریاں اس کے سامنے لے آتی ہوں اور وہ خاموش ہوجاتا ہے ۔کافی دیر باتیں کرنے کے بعد جب میں نے اسے لنچ کے لیے ڈائننگ ہال چلنے کا کہا تو اس نے کہا کہ کافی شاپ میں سنیکس سے ہی پیٹ بھر چکا ہے وہ بار بار مجھے کہہ رہی تھی کہ اپنے کمرے میں چلو اور میں ہر بار اس کا دھیان کسی دوسری طرف پلٹ دیتا تھا۔


اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ میں کوئی متقی یا فرشتہ نہیں ۔ایک حسین اور جوان عورت کی ایسی کھلی دعوت کو ٹھکرانا بہت مشکل تھا لیکن میں عورت کی فطرت سے بخوبی واقف تھا کہ جب تک اس قماش کی عورت کی خواہش پوری ہوتی وہ تسکین خواہش کے لئے نہ صرف تڑپتی رہتی ہے بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے خطرناک حد تک آگے جا سکتی ہے ۔ایک بار خواہش پوری ہو جائے تو وہ شخص کو اپنا فتح شدہ مردوں کی فہرست میں شامل کرکے کسی نئے ایڈوینچر کی تلاش شروع کر دیتی ہے ۔اس نے اپنی زندگی کے جو پہلو مجھے بتائے تھے ان کے مطابق وہ میرے بڑے کام آ سکتی تھی۔
بالآخر میں نے اسے کہا کہ میں استقبالیے پر جا کے بتا دو کہ شام تک نہ تو کوئی ملنے والا مجھے ڈسٹرب کرے اور نہ ہی کوئی فون کال مجھے ٹرانسفر کی جائے ۔استقبالیہ پر جاکر میں نے پچاس روپے استقبالیے پر موجود شخص کی مکھی میں دیے اور کہا کہ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ مجھے کمرے میں فون کرے وہ میری آواز سنتے ہی فون بند کردے ۔یہ انتظام کرکے میں اس کے پاس واپس آیا وہ بے چین تھی اسے لے کر اپنے کمرے میں آگیا کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے بے تکلفی سے میرے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں اور ادائیں کھلی دعوت دے گناہ دیتے ہوئے مجھے اشارہ کیا میں نے فوری حملے سے بچنے کے لئے اسے کہا کہ کیوں نہ ہم اس موقعے کو اور پرلطف بنائی میں نے فون پر بارمین سے کہا کہ ایک بوتل اسکوچ وسکی اور برف بھیجے ۔یہ فون کرکے میں نے پلٹ کر دیکھا تو آ شا اپنی ساری سے خود کو آزاد کرچکی تھی ۔میں نے اسے اشارے سے بتایا کہ میں باتھ روم جا رہا ہوں ابھی میں باتھ روم سے نکلا بھی نہیں تھا کہ فون کی گھنٹی بجی فون آ شا نے اٹھایا اور رسیور میز پر رکھ دیا ۔میں اس دوران باتھروم سے باہر آ چکا تھا اس نے مجھے بتایا کہ میرا فون ہے دوسری طرف استقبالیہ والا تھا میری آواز سن کر اس نے فون بند کر دیا ادھر میں نے فون پر یکطرفہ بعد شروع کر دیں کہ رمیش صاحب آپ ؟اپنے آنے کی کیوں زحمت کی مجھے فون کر دیا ہوتا میں فورا حاضر ہو جاتا ۔اچھا تو کیا آپ کے پارٹنر بھی ساتھ ہیں آپ برائے کرم لابی میں بیٹھے میں حاضر ہوتا ہوں ۔یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا ۔عائشہ نیم باز آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی میں نے اسے کہا کہ غضب ہوگیا دہلی میں میری چائے کے پنجاب اور ہریانہ کے ایجنٹ اپنے پارٹنر کے ساتھ آگئے ہیں میں نے استقبالیہ کو کوسہ کہ میری ہدایت کے برعکس اس نے انہیں کیوں بتا دیا کہ میں کمرے میں ہو ہم مجھے ان سے ملنا اور ان کے ہمراہ ان کے دفتر جانا پڑے گا۔
آ شا مایوس ہوگئی میں نے اسے کہا آج تو رنگ جمنے سے پہلے ہی بھنگ پڑ گئی لیکن آئندہ آنے والے دنوں میں آج کی کوفت کی پوری طرح سے تلافی کریں گے آ شا نے ساڑھی پہنی میں کب درست کیا میں نے اسے کہا کہ اگر وہ مجھے اپنا فون نمبر دے دے تو میں اسے فون پر نئے پروگرام سے آگاہ کردوں گا ۔اس نے خاموشی سے میز پر پڑے پیڈ پر نمبر لکھا اور اچانک مجھ سے لپٹ کر کہنے لگی ونود میں وعدہ کرتی ہوں میں تمہیں جیت لوں گی۔
اس نے دوبارہ اپنا میک اپ ٹھیک کیا اور ہم اکٹھے کمرے سے نکل کر لفٹ میں نیچے آ گئے میں اسے چھوڑنے کے لئے باہر تک آیا پارکنگ میں وہ ایک غیرملکی گاڑی میں بیٹھی اور تیزرفتاری سے ڈرائیو کرکے چلی گئی۔میں واپس کمرے میں آیا ۔آ شا کہانے کے بعد کے حالات میں مجھے بھی ایبنارمل کردیا تھا میں بستر پر دراز ہو گیا اس نے میرا پسندیدہ پرفیوم چینل سیونٹین لگایا ہوا تھا اور اس کی خوشبو سے بستر مہک رہا تھا میرا جسم ٹوٹنے لگا اور میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے کرتے سو گیا۔
آنے والے دنوں میں ہمارا مشن بہت احتیاط کا تقاضا کر رہا تھا….

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

 

اپنا تبصرہ بھیجیں