پاکستان کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو

رحمت خان وردگ کا شمار پاکستان کے سینئر سیاست دانوں میں ہوتا ہے وہ تحریک استقلال کے مرکزی صدر ہیں پاکستان کے سیاسی حالات کے نشیب و فراز پر گہری نظر رکھتے ہیں کی اہم واقعات کے چشم دید گواہ اور حقائق سے باخبر ہیں سچے پاکستانی مخلص اور دیانتدار انسان ہیں سیاست کے ساتھ ساتھ کاروبار اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی وجہ سے ان کی اپنی ساکھ ہے ہمیشہ دو ٹوک گفتگو کرتے ہیں دل میں خوف خدا اور خلق خدا کا درد رکھتے ہیں میڈیا کے ساتھ بالعموم اور جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ رحمت خان وردگ کا تعلق روز اول سے انتہائی دوستانہ ہے ۔ہر سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دوستوں کے اعزاز میں افطار پارٹی بھی کرتے ہیں۔
موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے رحمت خان وردگ کا کہنا ہے کہ حکومت نے کشکول توڑنے کے دعوے کیے تھے لیکن مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر نے لوگوں کے لئے جینا مشکل بنا دیا ہے حکومت پرانے قرضے اور سود ادا کرنے کے نام پر نئے قرض لینے پر مجبور نظر آتی ہے لیکن عوام کو مہنگائی سے ریلیف نہیں دے پا رہی میں سوچتا ہوں کہ یہ غیر مؤثر پرائس کنٹرول کمیٹیاں کب فعال ہو گئی آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے خط غربت سے نیچے زندگی دراصل فاقہ کشی ہوتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف خود حکومتی سطح پر کیا گیا ہے یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے کیونکہ تقریبا ڈیڑھ دہائی قبل تک پاکستان میں بھوک شاید نہ ہونے کے برابر تھی مگر ڈیڑھ دہائی میں پاکستان کی نصف آبادی بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہوگئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ حکومتوں کی نااہلی کرپشن میرٹ کا قتل بڑے آبی ذخائر تعمیر نہ کرنا اور ملک کے قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل نہ کرنا ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھوک فاقہ کشی میں زبردست اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور میرے خیال میں حکومتی اعدادوشمار حقائق کے منافی ہیں اور اصل حقائق جو صورتحال بتائی جارہی ہے اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ تو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر گیس بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور سبسڈی کا خاتمہ ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت نے 2018 کی انتخابی مہم میں دعوی کیا تھا کہ ہم اقتدار میں آکر کشکول توڑ دیں گے مگر انہوں نے اقتدار میں آکر پہلے ہفتے ہی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے خفیہ مذاکرات کیے اور حکومت میں آنے کے صرف آٹھ یا نو ماہ بعد ہی قوم کو یہ خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لینے جا رہے ہیں اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف نے جو قرضہ دینا ہے اس کے لئے نئی شرائط کیا رکھی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی شرائط سخت ہوگئی اور ان کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی اور غربت اور بےروزگاری کا نیا سے علاوہ آئے گا۔


ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو حکومتی پالیسیوں کا صرف اس وقت فائدہ نظر آتا ہے جب اس کی زندگی میں کوئی ریلیف آئے اگر کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آتی تو عام آدمی کو ایسی پالیسیوں کا کیا فائدہ ۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی حکومت کا پرائز کنٹرول بالکل نظر نہیں آتا جس کا جو جی چاہتا ہے وہ قیمت مقرر کرکے اشیاء فروخت کرنے لگ جاتا ہے مکمل آزادی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے جس رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی ہے جس میں تمام ممکنہ حد تک اضافہ کیا جانا چاہئے صوبائی حکومتوں کو بھی چاہیے کہ رمضان پیکج کا اعلان کریں اور تمام بنیادی ضروری اشیاء کم از کم نصف قیمت پر عوام کو فراہم کی جائیں اور صرف یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے فروخت کرنے کی بجائے ہر تحصیل میں تین یا چار مقامات پر سرکاری کیمپ لگا کر سستی اشیاء عوام کو فراہم کی جائیں۔