عمران حکومت کے لیے بجٹ منظور کرانا مشکل ہوگا اپوزیشن نے حکمت عملی تیار کرلی

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کی ملاقات اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان رابطوں میں تیزی سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آئندہ بجٹ منظور کرانا عمران خان کی حکومت کے لیے مشکل ہوگا اپوزیشن پوری کوشش کرے گی کہ بجٹ کو منظور نہ ہونے دے اور اس کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا کی جائیں ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے بی این پی مینگل اور ایمکیم کو بھی بجٹ میں ووٹ نہ دینے کا مشورہ دے دیا ہے اپوزیشن اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ حکومت اور ایم کیو اور حکومت اور بی این پی کے معاہدے پر جو عمل ہونا تھا وہ عمل نہیں ہوا۔


بی این پی لاپتہ افراد کی بازیابی اور ایمکیم ترقیاتی پیکج پر عملدرآمد کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں لہذا اپوزیشن اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے اور ان دونوں جماعتوں کو بجٹ میں ووٹ نہ دینے پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق بھی ہیں انہوں نے کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ڈی جی ایف آئی اے کو بلاکر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق پوچھا جائے گا اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن کمیٹی سیف الرحمن نے کہا کہ راؤ انوار نے اتنے قتل کئے ہیں ان سے بھی تو پوچھیں جس پر بلاول کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے بلاول نے زور دیا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ زیادہ اہم ہے۔


لہذا ڈی جی ایف آئی اے سے انسانی حقوق کے معاملے پر پوچھا جائے گا اس موقع پر بلاول کا کہنا تھا کہ مینگل صاحب کی پارٹی کا اہم کردار ہے مینگل صاحب کی پارٹی کو چاہیے عوام دشمن بجٹ کو ووٹ نہ دیں بلاول نے مینگل اور ایمکیم کو مشورہ دیا کہ چونکہ حکومت کے ساتھ آپ کے معاہدوں پر عمل نہیں ہوا لہذا آپ آنے والے بجٹ میں حکومت کو ووٹ مت دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں