چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا تیسرا اہم اجلاس

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا تیسرا اہم اجلاس ہوا، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق بلاول بھٹو زرداری کو وزیربرائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بریفنگ دی، پاکستان نے انسانی حقوق کے حوالے سے کون سے عالمی معاہدے کئے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمل درآمد کی تفصیلات طلب کرلیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پاکستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر بھی اظہار تشویش،انسانی حقوق کی وزارت کے پاس خواتین پر تشدد کے حوالے سے کوئی ڈیٹا بیس نہیں ہے، شیریں مزاری کا اعتراف، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بچوں کی شادی اور انسداد تشدد بل پر بھی تفصیلات طلب کرلیں، انسداد تشدد بل وزارت قانون کے پاس ہے، شیریں مزاری کا جواب، انسانی حقوق کی وزارت کو آپ ہی کی حکومت کمزور کررہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری برہم، اگر حکومت اپنی ہی وزارت کے کردار کو کمزور کررہی ہے تو اپوزیشن کیا توقع کرسکتی ہے؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری۔ انسانی حقوق سے متعلق تمام بل قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بحث کے لئے آنے چاہئیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایات۔ انسداد تشدد بل سینیٹ نے پاس کردیا ہے، وہ اب تک پیش کیوں نہیں ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سوال۔ ہیومن رائٹس کمیٹی کے بل دوسری وزارتوں کو کیوں دئیے جارہے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری۔ انسانی حقوق کمیٹی کے بل کا مینڈیٹ کسی دوسری وزارت کے پاس نہیں ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی شاہ زیب جیلانی کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلالیا۔ ایف آئی اے قانون میں دی گئی اپنی حدود کی پاسداری نہیں کررہا، شاہ زیب جیلانی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے بل (پیکا) پر نظر ثانی کی ہدایت کردی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اگلے اجلاس میں ایف آئی اے سربراہ کو بھی طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں