بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 7

ہماری ایجنسی کا ایک مقولہ ہے
ہم زمانہ امن میں جنگ کرتے ہیں اور جنگ کے دوران اپنی کی ہوئی جنگ کے نتائج دیکھتے ہیں، میں تو اس وقت حالت جنگ میں تھا۔
شام کو جب میں رسٹورینٹ پہنچا تو ٹرانسمیٹر والا ساتھی پہلے سے ہی موجود تھا ۔میں نے مختصرا اسے بتایا کہ میں اپنے مشن سے کامیاب لوٹا ہوں ۔ہم نے باقی ساتھیوں کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ آپ کی غیر موجودگی میں ہم نے کافی مفید معلومات اکٹھی کی ہیں جن کے متعلق ہم سب کو اپنی کارکردگی بتانا چاہتے ہیں ۔میں نے اسے کہا کہ باقی تینوں اور تم اگلے روز ٹھیک اسی وقت اسی ریسٹورینٹ میں آجانا اس وقت تو سب سے ضروری اور اہم کام یہ ہے کہ ٹرانسمیٹر پر پیغام بھیجنا ہے کیا تم نے اپنے ہوٹل سے ٹرانسمیٹر پر آزمائشی رابطے کی کوشش کی ہے؟
اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں نے اسے کہا کہ ابھی ہوٹل چلو میں پیغام لکھ کر دیتا ہوں اسے میرے سامنے ٹرانسمٹ کرو۔
ہم دونوں اکٹھے کارو نیشن ہوٹل پہنچے باقی ساتھیوں کو پتہ بھی نہیں چلا اور ہم ٹرانسمیٹر والے کمرے میں داخل ہوگئے کمرہ احتیاط سے بند کیا یہ کمرہ ہوٹل میں دوسری منزل پر کونے میں تھا ۔ہم نے کھڑکیاں کھول دیں میرے ساتھی نے ٹرانسمیٹر نکالا اور کمرے کی بجلی سے اسے چالو کرنے لگا میں نے پیغام لکھا اشد ضروری ۔علاوہ ڈاک کے دو انتہائی اہم فائل بھیجنا ہے ایک کے بجائے دو کورئیر بھیجیں مجھ سے صرف پہلے والا کورئیر ہی ملے جبکہ دوسرا اس کی نگرانی کرے۔
جب یہ پیغام بھیج دیا گیا اور جواب …پیغام موصول ہوا …بھی مل گیا تو مجھے تسلی ہوئی ۔اس دور میں ایک نئی دسیوں ٹرانسمیٹر خفیہ پیغامات پاکستان بھیجتے تھے ہر ایک کیلئے مختلف کوڈ تھا اور جواب بھی پہلے خفیہ کوٹ جوہر ٹرانسمیٹر کے لیے مختلف تھا بتا کر دیا جاتا تھا ۔شاید پہلے بھی کہیں تحریر کرچکا ہوں کہ انتہائی ضرورت اور ایمرجنسی کے لیے ہیں ٹرانسمیٹر استعمال کرنے کی اجازت تھی اور بہت ہی تھوڑے وقت کے لئے ۔بھارتی ایجنسیوں کو بھی علم تھا کہ پاکستان سے بھارت پیغامات ٹرانسمٹ ہوتے ہیں ۔انہیں شاید ہماری ایک دو فریکوئنسیز تک رسائی بھی حاصل ہوچکی تھی اسی لیے ٹرانسمیٹر کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنی لازمی تھی ۔بھارت کے پاس ایسے آلات بھی تھے جن سے ٹرانسمیٹر کے محل وقوع کا پتہ چلایا جا سکتا تھا۔


پیغام بھیجنے کے بعد میں اسی ریسٹورینٹ میں آگیا اور ٹرانسمیٹر والے ساتھی کو کہا کہ آدھے گھنٹے میں وہ باقی تینوں کو بھی وہی پہنچنے کا کہہ دے اس نے مجھے بتایا کہ ہم چاروں ہوٹل میں مختلف کاروباری لوگوں کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے ہیں اور ڈائننگ ہال میں ایک دوسرے سے متعارف ہو چکے ہیں اور یہ تعارف کچھ دوستانہ رنگ میں بدل کر ہم اکثر نہ صرف لابی اور ریسٹورینٹ میں ملتے ہیں بلکہ چند منٹ کا وقفہ دے کر باہر اکٹھے ہی جاتے ہیں۔
آج پون گھنٹے میں ہم پانچوں کناٹ پیلس کے ایک ریسٹورنٹ میں اکٹھے ہوئے سب سے پہلے تو میں نے انہیں مختصرا بتایا کہ میں اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرکے لوٹا ہوں پھر میں نے ٹرانسمیٹر والے ساتھی سے گروپ لیڈر کا چارج واپس لیا اور انہیں کہا کہ میری غیر موجودگی میں اپنی کارکردگی مجھے بتائیں۔
سب سے بڑی خبر جو انہوں نے مجھے بتائیں یہ تھی کہ محلہ فراش خانہ پرانی دہلی میں انھوں نے ایک تین کمرے کا مکان تلاش کیا ہے جو ایک مسلمان کی ملکیت ہے اور اس دو منزلہ مکان کی دوسری منزل کرائے کے لیے خالی ہے کسی ایک ہوٹل میں قیام ہوٹل والوں کو شک میں ڈال سکتا ہے مکان کے دو اطراف اور سامنے بھی مسلمانوں کے مکان ہیں ۔مالک مکان کو ہم نے یہ بتایا ہے کہ ہم مسلمان ہیں وہ کاروبار کے سلسلے میں دہلی میں ایک ہوٹل میں ہماری ملاقات ہوئی کیونکہ ہمیں اکثر دہلی انا اور کافی روز رہنا ہوتا ہے اس لئے ہم چاروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مکان کرائے پر لے لیا جائے مالک مکان مان گیا ہے کرایہ اور پیش کیتے کر چکے ہیں صرف آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔
مجھے یہ تجویز پسند آئی کیونکہ دشمن ملک میں مسلمان جاسوسوں کا ہندو بن کر رہنا اور خصوصا ہوٹل میں زیادہ عرصہ قیام نہ صرف انہیں مشکوک بنا دیتا ہے بلکہ ایک مسلمان کے مستقل طور پر ہندو کے روپ میں رہنے سے احتیاط کے باوجود اس سے غیر ارادہ تو ایسی غلطی ہونے کا امکان ہے جس سے اس کی اصلیت ظاہر ہو سکتی ہے ۔ہم اس قسم کا کوئی رسک لینے کو تیار نہ تھے بات کے اوراق میں آپ پڑھیں گے کہ نادانستہ طور پر مجھ سے بھی دو تین ایسی فاش غلطیاں ہوئیں جن کی وجہ سے دشمن کی گرفت میں آتے آتے بچا میں نے انہیں مکان کرایہ پر لینے کی اجازت دی ایک اور کامیابی جو انہوں نے حاصل کی تھی یہ تھی کہ بھارتی آرمی چیف کے ہیڈکوارٹرز کے باہر اسٹیٹک سرویلنس اور موبائل نگرانی کرکے انہوں نے ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والے چند سویلین اہلکاروں کی دفتری پوزیشن اور رہائش گاہوں کا پتہ چلایا تھا۔یہ خاصی اہم معلومات تھیں جو ہمارے آئندہ مشنوں میں بہت مفید ثابت ہوسکتی تھی تربیت یافتہ فوجی تو خاصے محتاط ہوتے ہیں لیکن سویلین ملازمین کی طرح لاپرواہی برتتے ہیں اور انہیں قابو کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے ۔کچھ اور معلومات بھی انہوں نے مجھے دی تقریبا ایک گھنٹے کی میٹنگ کے بعد ہم نے اپنی اپنی راہ لی میں نے انہیں دو دن بعد اسی جگہ کسی وقت ملنے کا کہا ان دو دنوں میں انہوں نے مکان کرائے پر لے کر شفٹ کرنا تھا۔
فائلیں تو میرے قبضے میں آ چکی تھی لیکن ایک پریشانی ایسی تھی جس کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا میں نے یہ فائلیں اپنے رابطے کے حوالے کرنی تھی اور رابطہ نے یہ فائلیں لاہور میں میرے سینیرس کو پہنچانی تھی بارڈر کراس کرنے میں وہی خطرات تھے اگر خدانخواستہ رابطہ پکڑا جاتا تو اتنی اہم معلومات جن کی نہ صرف پاکستان کو بے حد ضرورت تھی بلکہ جن کے حصول کے لیے میں نے اپنی زندگی موت کے منہ میں ڈال دی تھی اپنی منزل تک نہ پہنچ پاتیں ۔ان دنوں فوٹواسٹیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا اور اگر تھا بھی تو صرف مغربی ملکوں میں میرے پاس نہ تو کوئی کیمرہ تھا اور نہ ہی اتنا قیمتی کیمرہ لے سکتا تھا جس سے ان فائلوں کے مواد کی تصویریں اتار سکتا۔
بہت سوچ سوچ کے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دقت طلب کام لیکن اسے فائلیں رابطے کو دینے سے پہلے ضرور پورا کرنا ہے دربیلے میں ملازمت کے دوران کمپنی کی طرف سے ہم ایک ہفت روزہ شمارہ آواز نکالتے تھے جو جنگ پریس راولپنڈی میں چھاپا جاتا تھا کتابت تو لیتھو میں ہوتی تھی لیکن چھپتا آفسٹ پر تھا ۔رسالے میں چھپنے کے لیے جو تصویریں ہم دیتے تھے انہیں فوٹوفلم پر منتقل کیا جاتا تھا فوٹو فلم بالکل نیگیٹیو کی طرح ہوتا ہے جس کے آر پار دیکھا جا سکتا ہے ۔لیکن اس پر تصویر پوزیٹیو ہوتی ہے اور وہی فوٹو فلم چھپائی کے لئے استعمال ہوتا ہے مجھے کسی ایسے اخبار یا رسالے کی تلاش تھی جو دہلی سے فوٹو آف سیٹ پر چھپتا ہو ۔میں نے ایک اسٹال پر جا کے رسالے اور اخبار دیکھنے شروع کیے بالآخر ایک مشہور فلمی ماہنامہ ایسا ملا جو آف سیٹ پر چھپتا تھا اس رسالہ کا ایڈریس بھی میں نے نوٹ کر لیا اور آصف علی روڈ پر اس کے دفتر جا پہنچا۔


بجائے مالکان اور چیف ایڈیٹر سے ملنے کے میں ایک چپڑاسی کے ذریعے کاتبوں کے کمرے میں گیا اور ایک کاتب سے جو شکل سے مسلمان لگتا تھا فوٹو فلم بنانے والے کا پوچھا اس نے اس کا نام اور پتہ بتادیا یہ دفتر کا ملازم نہ تھا بلکہ اس کی اپنی دکان اور اپنے آلات تھے اور مختلف رسالوں اور اخبارات کے لیے فوٹوفلم بناتا تھا ۔میں اس کے پاس پہنچا اور ارجنٹ فوٹو فلم بنانے کی بات کی میری دونوں فائلوں میں 200 سے زیادہ صفحات تھے ۔ میں نے اسے سائز بتایا تو اس نے کہا کہ بجائے فل سائز کے آپ پوسٹ کارڈ سائز میں بنوا لیں تو لاگت بھی کم آئے گی اور وقت بھی نسبتا کم لگے گا ۔میں نے اسے اس رقم سے زیادہ رقم دینے کا وعدہ کیا لیکن دو شرائط کے ساتھ ۔زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے میں تمام کام ختم کرنا ہوگا اور فوٹو فلم بنانے کے دوران میں موجود رہوں گا پیسوں کے لالچ میں اس نے دونوں باتیں مان لیں ۔خدا اس کے تین اسسٹنٹ بھی تھے جنہیں اس نے روک لیا میں فورا لودھی ہوٹل آیا فائلوں میں سے کاغذات نکال کر ان پر نمبر لگائے اور اس کے سٹوڈیو جا پہنچا۔میں نے فائل کا ایک ایک کاغذ اپنی نگرانی میں چھوٹا کروایا اور فلم بنانے کے تمام مرحلوں میں موجود رہا ۔جب تک ان میں کام کرنے کی ہمت نہیں وہ کام کرتے رہے کاغذات کو چھوٹا کرنے کا مرحلہ سب سے پہلے طے کر کے کاغذات اپنے قبضے میں کی ہے باقی مراحل بعد میں طے کیے اور جو باقی رہ گیا اسے اگلے دن مکمل کیا ۔نہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کاغذات کے اس قسم کے ہیں اور میں اتنی تعداد میں فوٹوفلم کیوں بنوا رہا ہوں اور نہ ہی میں نے انہیں کچھ بتایا یہ سارا کام محض روپے کی چمک سے ہوا ۔انہوں نے یہ بھی جاننے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔یہ بالکل اسی طرح ہوا جیسے آجکل ہمارے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے دفاتر میں بنگالیوں برمیوں سری لنکن اور افغانیوں کو مشرف بہ پاکستان کہا جاتا ہے ۔غیر ملکی دہشت گردوں کے پاس بھی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں صرف کراچی میں ایک لاکھ سے زیادہ غیر ملکیوں کو پاکستانی بنایا جا چکا ہے سعودی عرب میں منشیات لے جانے والے جو لوگ پکڑے گئے ہیں اور جن کے سر قلم کئے گئے ہیں ان سب کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے جبکہ درحقیقت وہ پاکستانی باشندے نہ تھے بلکہ چمک کے زورپر انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ بنوا لیے تھے۔
میں نے تمام فوٹو فلم ترتیب وار ایک ڈبے میں محفوظ کر لئے اور فائلوں کے حالات کو بھی دوبارہ ترتیب دے کر فائل کردیا اور دونوں فائلوں کو پلاسٹک میں اس طرح باندھ دیا کہ پانی میں گرنے سے وہ خراب نہ ہوجائیں ۔میں نے مکمل واٹر پروفنگ کے بعد انہیں جیوٹ کے ایک تھیلے میں رکھ کر سی دیا ۔اب میں مطمئن تھا کہ اول تو انشاءاللہ یہ فائلیں باہر عزت میرے سینیرس تک پہنچ جائیں گی اور اگر خدانخواستہ نہ پہنچ سکیں تو ان کی فلم فوٹو میرے پاس موجود ہے جو میں کسی اور ذریعے سے پاکستان پہنچانے کا انتظام کروں گا۔
میں نے خفیہ روشنائی سے احمد نگر میں مشن کی کامیابی اور مزید معلومات تحریر کی ۔وقت مقررہ پر میرے ساتھی اس ریسٹورینٹ میں مجھے ملے وہ مکان میں شفٹ ہو چکے تھے کچھ فرنیچر انہیں مالک مکان نے دیا تھا اور کچھ انہوں نے خود خرید لیا تھا ۔میں نے اپنی ڈاک میں اخراجات کی تفصیل لکھ دی تھی مجھے اور میرے ساتھیوں کو مزید رقم کی ضرورت تھی کیونکہ اب مجھے دہلی میں مجھے تب کے لوگوں سے میل جول بڑھانا تھا اور میرے ساتھیوں نے بھی اپنے مشن کی تکمیل کی طرف بڑھنا تھا۔
ہم سب کو اب رابطے کی آمد کا انتظار تھا ٹرانسلیٹر پر ہمارے پہلی بار رابطے کے بعد امکان تھا کہ ہمیں نئی ہدایات ملتی میرے دو ساتھی جھانسی اور بابینا دوبارہ جانے کو بیتاب تھے تاکہ اپنا مشن پورا کرسکیں لیکن میں نے انہیں ڈاک ملنے تک اس ارادے سے باز رکھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی فوجی علاقے میں ایک دو دھماکے کرکے ہم بھارتی سیکورٹی کو چوکس کر دیں ۔علاوہ ازیں دھماکہ خیز مادہ اور ہینڈ گرنیڈز ہمیں بھارت میں اپنے ہمدردوں سے حاصل کرنے تھے جن کے حصول کے لیے مجھے ان سے رابطہ کرنا تھا میں چاہتا تھا کہ یہ کام مؤخر کردیا جائے ۔بہرحال میرے چاہنے یا نہ جانے کی بات نہ تھی بلکہ ہمیں اوپر کے احکامات کی تعمیل کرنی تھی۔
رابطے کی آمد میں صرف دو دن رہ گئے تھے میں نے ان دو دنوں کی شامی اشوکا اور اکبر ہوٹل میں گزاری اور اب میں نے اپنی پوری توجہ سروسز کلب میں داخل ہونے اور وہاں راہ ورسم بڑھانے پر مرکوز کر دی تھی۔
مقررہ دن اور وقت پر رابطہ ملا اس نے مجھے اشارے سے بتایا کہ اس کے ہمراہ ایک اور آدمی بھی بھیجا گیا ہے اور وہ نزدیک ہی کھڑا ہے ۔اپنی تسلی کے لئے میں ٹہلتے ٹہلتے اس نئے آدمی کے قریب سے گزرا ہوں سگریٹ جلانے کے لیے اس سے ماچس مانگی جواب اس نے کہا ماچس تو لیجئے لیکن ایک سیگریٹ آپ مجھے دیں ۔یہ ہمارا نئے آدمی کے لئے مستقل کوٹ تھا صحیح جواب ملنے پر میں نے اسے سگریٹ دیا اور اپنا سگریٹ سلگا کر پھیلتے پھیلتے واپس آگیا ۔رابطہ وہی تھا میں نے اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کیا جو مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا میرے سامنے سے گزر کر دوسری جانب کھڑا ہوا یہاں سے رابطہ اسے نہیں دیکھ سکتا تھا ڈاکو اس کے پاس تھی میں نے رابطے سے اپنی ڈاک لیں اور اسے کہا اس جانب چلو جدھر میرا ساتھی تھا ۔پیچھے پیچھے میں بھی چل پڑا ادھر رابطے کا ساتھی بھی فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چل پڑا میں نے اپنے ساتھی کے پاس سے گزرتے ہوئے ڈاکو سے تھمائی اور بھیجنے والی ڈاک کا پیکٹ اس سے لے لیا میرا ساتھی فورن وہاں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا اور ڈاک کا پیکٹ دیے میں رابطے کے پاس پہنچ گیا ۔کسی کی نظروں میں آئے بغیر میں نے پیکٹ اس کے حوالے کیا اس سے پہلے میں رابطے کو اگلی ملاقات کے لیے نئی جگہ دن اور وقت کا بتا چکا تھا پیکٹ لے کر رابطہ فوری وہاں سے چل پڑا میں نے دیکھا اس کا ہمراہی کچھ فاصلہ دے کر اس کے پیچھے جا رہا تھا ۔۔ہماری ڈاک لے کر میرا حمزہ ہیں پہلے سے وقت مقررہ پر گھر سے باہر آکر میرا منتظر تھا میں نے ڈاک کا پیکٹ اس سے لیا اور اپنے ہوٹل آگیا ناک میں کچھ نہیں ہدایات تھیں اور بیس ہزار روپے میرے ساتھیوں کے لیے اور 10000 میرے لیے تھے ہمیں رقم تو حاصل مل رہی تھی لیکن ہمیں ایک ایک پیسے کا حساب رکھناتھا ہمارے ذہن میں ہمارا مشن تھا۔ ….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

 

اپنا تبصرہ بھیجیں