پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو آج افطار کی دعوت کو سیاسی مبصرین بعد از عید حزب اختلاف کے احتجاج کی ابتدا  مان رہے ہیں

پیپلز پارٹی کے مطابق بلاول بھٹو نے خود دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو افطار کی دعوت دی ہے۔ حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو آج افطار کی دعوت نے دلچسپ سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ کچھ اسے بعد از عید حزب اختلاف کے احتجاج کی ابتدا مان رہے ہیں تو دوسری جانب حکومت اسے افطار کے نام پر ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش قرار دے کر اس کی مذمت کر رہی ہے۔ افطار کا فیصلہ پاکستان پیپلزپارٹی کور کمیٹی کے گذشتہ روز اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں دیگر رہنماؤں کے علاوہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور نیر حسین بخاری ببھی شریک تھے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق بلاول نے خود مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی، جعمیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے سراج الحق، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ اور بلوچستان سے اختر مینگل کو افطار پر مدعو کیا۔ اطلاعات ہیں کہ مریم نواز نے دعوت قبول کر لی ہے اور حالیہ دنوں میں والد کو جیل چھوڑنے والی ریلی کے بعد یہ ان کی دوسری بڑی سیاسی سرگرمی ہوگی۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی، نائب صدر حمزہ شہباز اور سینیٹر پرویز رشید بھی افطار میں موجود ہوں گے۔ ’پیپلز پارٹی حکومت گرانے کا سیاسی حربہ استعمال کر رہی ہے‘


پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) پہلے ہی عید کے بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کے اشارے دے چکے ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمان بھی حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے کافی عرصے سے متحرک رہ چکے ہیں۔ لیکن ملک میں بگڑتی معاشی صورتحال نے حزب اختلاف کو نیا ولولہ دیا ہے۔ ان کے خیال میں حکومت کو معیشت پر ٹف ٹائم دینے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اب دیکھا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی مشترکہ لائحہ عمل پر رضا مند ہوتے ہیں یا نہیں۔ پیپلز پارٹی کی اس افطار کی دعوت کو حکومتی حلقوں میں توقعات کے مطابق اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔


وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’رمضان کا ماہ مقدس حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے اس بابرکت مہینے میں عوام کو مسائل کا روزہ رکھوانے والے افطاریوں کی آڑ میں ذاتی، سیاسی اور کاروباری مفادات کے تحفظ میں مصروف عمل ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کو اپنی نیت کی مار پڑ رہی ہے۔ یہ صرف اپنی دولت اور اولاد کے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں افطار کے نام پر منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنا افسوسناک ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے افطار سے حکومت پریشان ہوگئی ہے۔’حزب اختلاف اکٹھی ہونے سے بیساکھیوں پر قائم حکومت لرز رہی ہے. فردوس عاشق اور شیخ رشید رونے کی ریہرسل شروع کریں. تحریک انصاف موجودہ معاشی بدحالی کی صورتحال اور مہنگائی کی وجہ انہیں حزب اختلاف کی جماعتوں کو قرار دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں