بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 6

میرا مشن یہ تھا کہ میں احمد نگر کے ٹریننگ سینٹر میں جاکر نئے درآمدی ٹینکوں کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرو ں کہ کون کون سی رجمنٹ یہاں کن ٹینکوں پر ٹریننگ حاصل کررہی ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کرو ں کہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد یہ رجمنٹس کہاں جائیں گی اور کن انفینٹری ڈویژنو ں کے ساتھ ان کو شامل کیا جائے گا ۔مجھے بری طرح احساس تھا کہ یہ معلومات پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں ۔بھارت کے بعد ملکی ساختہ و جینیت ٹینک بھی تھے جو بہت وزنی اور نقل و حرکت میں سست تھے ۔1965 میں بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چوہدری کو ان ٹینکوں پر بہت غرور تھا انہیں سیاہ ہا تھی کا نام دیا گیا تھا ۔دیکھنے میں یہ پہاڑ جیسا ٹینک پاکستانی R.R بز و کا اور ہوائی جہازوں کے لیے سٹنگ ڈک بیٹھی ہوئی بطخ ثابت ہوا ۔بھارت کے پاس ان کے علاوہ فرانسیسی ساختہ اے ایم ایکس.13 … روسی . PT 76. ..اور روسی ٹی سیریز کے ٹینک تھے اور انیس سو اکتر کی جنگ کے فوری بعد روس نے بھارت کو ٹی سیریز کے بہتر کوالٹی اور کارکردگی کے ٹینک بھی دیے تھے جبکہ ہمارے پاس پرانے امریکن شرمن پیٹن اور ایم سیریز کے ٹینک تھے۔
ٹریننگ کے بعد ان ٹینکوں کی رجمنٹس کو ہندو پاک بارڈر پر تعینات کیا جانا تھا ۔پاکستان کے لیے ان ٹینکوں کی کارکردگی اور انکی ڈپلائمنٹ پوزیشن سے آگاہی حاصل کرنا بہت ضروری تھی مثلا ٹی ففٹی سیون بھارتی ٹیںنک کے سامنے ہم اپنے جنگ عظیم دوم کے فرسودہ شرمن ٹینک رکھیں تو سوائے اپنے ٹینکوں کی تباہی کے کچھ حاصل نہ ہو سکتا تھا …T.57
کے سامنے پاکستان کو امریکہ سے ملے ایم سیریز کے نئے ٹینک اور پیٹن ٹینک لانے تھے اسی وجہ سے مجھے یہ مشن سونپا گیا تھا۔
احمد نگر بمبئی سے 500 کلومیٹر پہلے گوداوری دریا کے قریب بالکل الگ تھلگ جگہ پر واقع ہے اس کے گردونواح میں بھی کوئی بڑی صنعت یا بڑا شہر نہیں ہے گوداوری دریا کی ایک نہر احمد نگر کے بالکل قریب سے گزرتی ہے یہ علاقہ ٹینکوں کی تربیت کے لئے نہایت موزوں ہے ۔یہ اونچے نیچے ٹیلوں ریت کیچڑ اور پانی کی موجودگی سے ٹینکوں کی ہر طرح کی تربیت دی جاسکتی ہے۔



قریب 22 گھنٹے سفر کے بعد میں احمدنگر پہنچا اور ایک ٹھیک ٹھاک ہوٹل میں کمرہ لے لیا میرا اہم مسئلہ ان ممنوعہ حدود میں داخل ہونا تھا یہاں برگیڈ ہیڈکوارٹر اور ڈویژن ہیڈکوارٹر تھے ٹریننگ کے علاقے میں داخل ہونا اول تو فضول تھا اور دوسرے تقریبا ناممکن تھا بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور پھر اس کے توسط سے ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں پہنچنے کے لئے میں نے اپنی بلینڈر چائے کا سہارا لیا اور دونوں جگہوں پر 2-ic اور ADSO  تک پہنچ گیا اور لنگر کے لیے اپنی چائے پیش کی ۔میں نے انہیں اپنا بمبئی کا نیو نانگ پا ڑے گا ایڈریس کارڈ … ( یہ بزنس کارڈ میں نے دہلی ہی سے بنوا لیے تھے ) دیا اور ہمت نگر میں ہوٹل میں رہائش کا بھی بتا دیا ۔مجھے یقین تھا کہ میری چائے کی کوالٹی اور قیمت ان کے لیے باعث کشش ہوگئی دونوں ہیڈکوارٹرز میں جاتے ہوئے میں نے ڈویژن اور رجمنٹل نشانوں سے ان کی شناخت کی ۔وہ سب تقریبا ایک ہی ڈویژن کے بریگیڈ اور رجمنٹس کے تھے اب مجھے تلاش تھی ٹریننگ لینے والوں کی۔
شام کو میں شہر میں گھومنے نکل گیا میں نے سائیکل رکشا لیا اور سارا شہر گھمانے کا کہا ۔ٹریننگ سینٹر کی جانب جہاں شہر کی حدود ختم ہوتی ہیں وہاں چھاؤنی سے باہر شراب خانے تھے جہاں میں نے فوجی جوانوں کو اندر جاتے اور باہر نکلتے دیکھا ۔میں ایک شراب خانے میں داخل ہوا وہاں مختلف رجمنٹوں کے نشان لگائے ہوئے فوجی موجود تھے ۔پاکستان میں ٹریننگ کے دوران مجھے کیوں کہ بھارت کی تمام ڈویژنوں اور رہ گئے تھے اس لئے میں نے فورا پہچان لیا کہ یہ سب مختلف ٹینک رجمنٹوں کے ہی جوان تھے۔
بھارت میں اس وقت فوجیوں کو ہر روز راشن میں دواونس شراب مفت ملتی تھی ظاہر ہے کہ صرف دو اونس شراب سے ان کا نشہ پورا نہیں ہوسکتا تھا اس لئے چونی کے گرد شراب خانے بنے ہوئے تھے جہاں دیسی شراب ملتی تھی اور وہیں پر یہ فوجی اپنی بقیہ طلب پوری کرتے تھے میں نے ان شراب کے نشے میں جھومتے فوجیوں سے اپنے مطلب کی باتیں اگلوانے کا منصوبہ بنایا اور واپس لوٹ آیا۔
اگلے دن میں پھر تو 2۔IC اور ADOS کے دفاتر میں گیا میری چائے کے نمونے بھی وہیں پڑے تھے .دونوں جگہوں سے مجھے کہا گیا کہ ایک مہینے کے اندر وہ فیصلہ کریں گے کہ میری چائے خریدی جائے یا نہیں اور اگر فیصلہ میرے حق میں ہوگیا تو مجھے مسلسل سپلائی جاری رکھنے کے لئے مجھے ز ر بیعانہ جمع کروانا پڑے گا ۔میرے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا کہ میں کب سے صفائی شروع کروں دفتر کے کلرکوں وغیرہ کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ڈویژن ہیڈکوارٹر میںADOS اور بریگیڈ ہیڈکوارٹرز میں 2IC اور ایڈ جوئنٹ سے رابطہ بڑھانا یوں کہہ لیجئے کہ انہیں خوش کرنا لازمی ہوگا تب ہی مجھے کنٹریکٹ مل سکے گا.
میں نے ADOS کے دفتر کے ایک ذرا زیادہ ہی کھلنڈرے قسم کے کلرک کو اپنے ہوٹل میں شام کو گپ شپ کرنے کے علاوہ خوش کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے کی دعوت دی ۔اس نے ہوٹل میں تو آنے سے معذرت کر لیں کیونکہ شہر میں کافی قحبہ خانے ہونے کی وجہ سے فوجیوں کے لیے اکثر علاقے آؤٹ آف باؤنڈ تھے ۔اور ایف آئی یو اور ملٹری پولیس والے فوجیوں کو الممنوع علاقوں سے پکڑنے کے لیے گھومتے پھرتے تھے ۔ایک فوجی کلرک کو شہر کے ایک ہوٹل میں ایک اجنبی اصولیین کے ساتھ دیکھ کر وہ شخص کر سکتے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ پھر چھاؤنی کے باہر شراب خانوں میں سے کسی ایک پر مجھے مل لے ۔وہ مان گیا اور مجھے ایک شراب خانے کی لوکیشن سمجھائیں کہ وہاں آٹھ بجے شام ملے گا اسے دعوت دینے سے میرا ایک مقصد تو حل ہو گیا کہ میں ان شراب خانوں میں اجنبی بن کر نہ جاؤ بلکہ کوئی فوجی بھی میرے ہمراہ ہو ۔ایک بار وہاں متعارف ہوگیا تو پھر وہاں دوسروں سے اپنے مطلب کی باتیں اگلوانے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔
شام پونے آٹھ سے پہلے میں اس شراب خانے جاپہنچا اور باہر ٹہلنے لگا دروازے سے اندر دیکھا تو وہ پہلے ہی بیٹھا ہوا تھا میں اندر اس کی ٹیبل پر گیا اس نے پرتپاک خیر مقدم کیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ آرڈر دے میں نے ویٹر کو سب سے اچھی شراب کی پوری بوتل لانے کو کہا چند لمحے اس نے رسمی سا احتجاج کیا جس پر میں نے کہا کہ تم فوجی ملازم پیشہ اور قلیل تنہا پانے والے ہو جبکہ میں کاروباری آدمی ہوں ۔اس دوران اس کے دو تین واقف کار بھی آ گئے انہیں بھی میں نے اپنے ٹیبل پر بلالیا شراب خانے کے اس ہال میں مختلف ٹینک رجمنٹوں کے جوان اور این سی او موجود تھے ۔وہ بہت غل غپاڑہ مچا رہے تھے مجھے ایک ایسے ہی ماحول کی تلاش تھی ۔میں خاصہ چکنا بھی تھا لہذا اس رات سوئے ادھر ادھر کی باتوں اور ہنسنے ہنسانے کے اپنے کام کی کوئی بات نہ کی ۔وہاں پر ہی معلوم ہوا کہ اس شہر کا یہ سب سے ماحول شراب خانہ ہے اور تمام شراب خانے رات بارہ بجے لازمی طور پر بند ہو جاتے ہیں کھانے کے لئے بھی سب کی پسند کا آرڈر میں نے دیا اور جب ہم اٹھے وہ تین بوتلیں ڈکار چکے تھے اکادکا رکشا جارہے تھے وہ اپنی ترنگ میں چھاونی کی طرف چلے گئے جبکہ میں نے ایک رکشے پر ہوٹل کی راہ لی وہاں کا ماحول دیکھ کر میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اگلی شام سے میں اپنے کام کا آغاز کر دوں گا۔


اگلے روز میں 7 بجے شام ہیں وہاں پہنچ گیا اس وقت بھی شراب خانے میں خاصے کا حق تھے گزشتہ رات کی بڑی کی وجہ سے ویٹر نے بڑی خوش اخلاقی سے مجھے ایک خالی ٹیبل پر بٹھایا اور اس عمدہ شراب کی بوتل لے آیا ۔تھوڑی دیر بعد میں گلاس ہاتھ میں تھا میں اٹھا اور ایک ٹیبل کے پاس سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر لڑکھڑایا اور گلاس ایک فوجی پر انڈیل دیا اس ٹیبل پر پانچ فوجی بیٹھے تھے وہ مجھے گھورنے لگے میں نے معذرت کی مسکرایا اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا اس سے پہلے کے وہ کچھ بولیں میں نے کہا بمبئی سے آیا ہوں آپ ہی کی چھاؤں نہیں میں ADOS سے کاروباری سلسلے میں مل چکا ہوں آپ کا مہمان ہوں لیکن اب آپ پانچوں میرے مہمان ہیں شرابی انداز میں میں نے بیرے کو کہا کہ میرے ٹیبل سے میری بوتل اور دو مزید بوتلیں اسی ٹیبل پر لے آئے۔
ہر جگہ پر نچلے رینک کے فوجی اور جوان عموما محدود سوچ رکھتے ہیں اور پھر جب ADOS جو کہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کا ہوتا ہے سے ملنے والا کاروباری شخص ایسے رینکس میں بے تکلفی سے بیٹھ جائے تو وہ خاصے مود ب ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے پہلے تو میرا مہمان بننے سے انکار کیا لیکن جب میں نے بے تکلفی سے انہیں یار یار کہنا شروع کیا تو ان کی جگہ ختم ہوگئی اور خاصہ دوستانہ ماحول پیدا ہوگیا اور تھوڑی ہی دیر میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ میرے ساتھ ہنسی مذاق کرنے لگے ۔میں نے نہایت ہوشیاری سے گفتگو کا ر خ ا پنے چائے کے کاروبار بھارتی بنگال اور پھر سابقہ مشرقی پاکستان سے چائے بھارت سمگل ہونے کی طرف پھیرا ۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہماری فوج نے پاکستانی فوج سے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈلوائے بجائے اس کے کہ پورے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیتے تو اکھنڈ بھارت کا آدھا خواب بھی سچ ہوجاتا اور ہمارے دیس کی سرحدوں پر و سعت بھی آجاتی ۔اس کے بجائے آپ 90000 پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا کے لے آئے نامعلوم پاکستان انہیں واپس لے گا بھی یا نہیں ۔اب تو وہ ہم پر محض خوراک وغیرہ کا بوجھ بن کر رہ گئے ہیں وہ ہنسنے لگے ۔ان میں سے ایک ذرا سمجھدار دکھائی دیتا تھا وہ بولا ۔صاحب ہم نقصان میں ہرگز نہیں بلکہ فائدے میں ہیں 90 ہزار پاکستانی فوجی ہماری قید میں ہیں اس شکست سے باقی ماندہ مغربی پاکستان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور آپ کو ہم بہت جلد د کھائیں گے کہ یہ بچا کچھا پاکستان بھی ہمارے قبضے میں آجائے گا ۔میں نو سال سے فوج میں ٹینک رجمنٹ میں ہوں ہم شرنارتھی ہیں اور پشاور کے رہنے والے ہیں میرے سور گباشی پتا بھی فوجی تھے و ہ پینسٹھ کی جنگ میں امر ہوگئے وہ کہا کرتے تھے کہ پور بی پاکستان ۔ مشرقی پاکستان کے مقابلے میں مغربی پاکستان کو فتح کرنا آسان ہے ۔اس لیے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان ہمارا دوست ہے آدھے سے زیادہ کشمیر پر ہمارا قبضہ ہے جہاں پر ہم بلندی پر ہیں ہم نے اسی مقصد کے حصول کے لیے انیس سو پینسٹھ میں سچ میں پاکستان میں جنگ لڑی تھی کہ اٹک تک افغانستان آگے بڑھ کر قبضہ کرلے گا اور اپنے باڈر سے آگے بڑھ کر ہم گوجرانوالہ تک کا علاقہ فتح کرلیں گے ۔ادھر کشمیر سے ہماری فوج گجرات میرپور اور مری کے راستے آگے بڑھ کر سارے پاکستان کا تیاپانچا کردیں گی۔پاکستان کی فوج بیک وقت تین محاذوں پر لڑنے کے قابل نہیں اس کے مقابلے میں پور بی پاکستان میں دریاؤں کی بہتات اور دلدلی علاقوں کی وجہ سے لڑنا ا و ر فتح کرنا زیادہ مشکل ہے ۔برما بھی ہمارا ایسا دوست نہیں جو ایسے وقت ہماری مدد کرے اب پور بی پاکستان میں پاکستانی فوجیوں سے ہتھیار ڈلوا کر اور قیدی بنا کر ہم انہیں اپنے دیش میں لے آئے ہیں ۔پوربی پاکستان سے ہمارا فوجی معاہدہ ہے کہ وہ بیس سال تک دو ڈویژن سے زیادہ فوج نہیں رکھے گا ۔ہمارے زیراحسان مجیب کی وہاں حکومت ہے اب پاکستان کی فوج ہم سے لڑنے سے پہلے سو بار سوچے گی کے نوے ہزارمسلے فوجی پہلے ہی ہماری قید میں ہیں ۔بہت جلد ہم آپ کو ایک اور بڑی فتح کی خبر دیں گے ۔وہ نشے میں کافی بکو ا س کر چکا تھا میرا جی چاہتا تھا کہ بوتل توڑ کر اس کے ٹکڑے کر دوں ۔ میرا خون کھولنے لگا ۔  ….جاری ہے۔  راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

 

اپنا تبصرہ بھیجیں