ایمنسٹی اسکیم بہترین اسکیم ہے وفاقی حکومت صوبوں کو بھی اعتماد میں لے۔ محمد حنیف گوہر

آباد کے سابق چیئرمین اور بہت گروپ آف کمپنیز کے سربراہ محمد حنیف گوہر نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم یقینی طور پر ایک بہترین اسکیم ہے اور اس کے ثمرات اور فوائد عوام تک پہنچنے چاہیے اس سے معیشت اور ریونیو کو مدد ملے گی وفاقی حکومت کو چاہیے کہ صوبوں کو بھی اعتماد میں لے جیوے پاکستان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے محمد حنیف گوہر کا کہنا تھا کہ شبر زیدی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے ہماری انڈسٹری کے دل کی آواز تھی اسے وزیراعظم عمران خان تک پہنچایا جہاں تک ریسپریشن فیس کا تعلق ہے تو ٹرانزیکشن پر فیس 9- 10 فیصد بڑی بڑھتی ہے یہ زیادہ ہے اس پر ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کے بعد حکومت فیئر مارکیٹ ویلیو تسلیم کرے گی جو w236 پر ہے .



میری تو وفاقی حکومت کو تجویز ہے کہ وہ صوبوں کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لے اور جائیداد پر صوبہ بھی ایک فیصد ٹیکس لے لے اور ایف بی آر بھی ایک فیصد ٹیکس وصول کرے جس طرح ہر انسان کو پتہ ہوگا کہ اسے ایک فیصد وفاقی حکومت کو دینا ہے اور ایک فیصد صوبے کو ٹیکس ادا کرنا ہے اگر یہ فارمولہ اپنا لیا جائے تو ایف بی آر کے پاس 5فیصد آئے گا کیونکہ اس کے پاس چاروں صوبوں سے بھی وفاق سے بھی حکومت سے ٹیکس جمع ہوگا ۔انہوں نے شہزادی کو تجویز پیش کی کہ رمضان کے مہینے میں لوگ کام نہیں کرتے اس لیے 30 دسمبر تک کس کو توسیع دے دی جائے 30جون 2019 سے آگے بڑھایا جائے ۔
ایمنسٹی اسکیم کے بارے میں آباد کے ارکان کی رائے کیا ہے اس حوالے سے سوال پر محمد حنیف گوہر نے کہا کہ آباد کے تمام ارکان اس اسکیم کو سراہتے ہیں ہم چاہتے بھی ہیں کہ چونکہ ہم اربوں روپے کا کام کرتے ہیں تو بلڈرز کا اس میں فائدہ ہے بلڈرز اپنے بارے میں مافیہ مافیا کے الفاظ سن کر تنگ آ چکے ہیں یہ ایک ایسی اسکیم ہے کہ اس میں ملک اور بیرون ملک سے لوگ اثاثے آکر ظاہر کریں گے اور ملکی معیشت کا فائدہ ہوگا ۔



محمد حنیف گوہر نے کہا کہ یہ اسکیم تو میں سمجھتا ہوں آئی ہیں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے فائدے میں ہے کیونکہ یہاں ہر چیز کی پرچیزنگ پہلے سے ہوئی ہوئی ہے پہلے لوگ پراپرٹی کو ڈیکلیئر کر کے پرانی اسکیم سے فائدہ اٹھاتے تھے اب جو اسکیم آئی ہے اس میں اگر آپ کو اثاثے ظاہر کرنے ہیں تو بینک اکاؤنٹ میں ایک ارب روپیہ ظاہر کرنا پڑے گا پھر اس کو تسلیم کیا جائے گا ۔
محمد حنیف گورنی ایک مرتبہ کی سپریم کورٹ آف پاکستان سے مدعوبا نہ درخواست کی یہ کراچی میں بھی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت برقرار رکھی جائے جس طرح باقی ملک میں وزیراعظم جاکر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا اعلان کر رہے ہیں ۔پہلے ہی کراچی میں دو سال تک پابندی کی وجہ سے کافی نقصان ہو چکا ہے کراچی میں 26 کھڑکی ایسی ہیں جہاں پر کمرشل عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی اور ایک ہزار سے زائد پلاٹ رہائشی سے کمرشل ہوچکے ہیں حکومت نے کروڑوں روپے کی فیس بھی اصول کر رکھی ہے ان پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور غیر یقینی صورتحال سے لوگوں کو نکالنا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں