کمشنر کراچی افتخار شالوانی اور ڈی ایس ریلوے سید مظہر علی شاہ کا سٹی ریلوے اسٹیشن سے بلدیہ تک ریل ٹرالی پرٹریک کا دورہ

کراچی -کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کہاہے کہ کے سی آر کو بحال کروانے میں پندرہ دن سے زیادہ لگیں گے،سپریم کورٹ نے بھی ری ہیبلیٹیشن کے لئے ایک سال دیا ہے ۔ڈی ایس ریلوے کراچی سید مظہر علی شاہ نے کہاکہ ضلع شرقی میں آپریشن جاری ہے اور دیگر اداروں کا تعاون بھی ہے۔ہفتہ کوکمشنر کراچی افتخار شالوانی اور ڈی ایس ریلوے سید مظہر علی شاہ نے دیگر افسران کے ہمراہ سٹی ریلوے اسٹیشن سے بلدیہ تک ریل ٹرالی پرٹریک کا دورہ کیا اور تجاوزات کے خاتمہ کا جائزہ لیا گیا۔


انہوں نے وزیر مینش سائٹ لیاری اوربلدیہ تک ٹریک کامعائنہ کیا۔ بعدازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کہاکہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سٹی اسٹیشن سے بلدیہ تک کوئی تجاوازت نہیں ہیں۔ پچاس فٹ جگہ پر آپریشن کرکے واہ گزار کرالیا گیا ہے۔اب ڈی ایس ریلوے ،ڈی آئی جی ریلوے کے ساتھ جگہ کا وزٹ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ کے سی آر کو بحال کرانے میں پندرہ دن سے زیادہ لگیں گے،سپریم کورٹ نے بھی ری ہیبلٹئشن کے لئے ایک سال دیا ہے ۔ ابتدائی طور پر ایسٹ زون میں آپریشن جاری ہے پھر ویسٹ میں ہوگا۔ڈی ایس ریلوے سید مظہر علی شاہ نے کہاکہ سرکلر ریلوے کی زمین پر جوائنٹ آپریشن کے زریعے ہمارے ایک دوسرے سے رابطہ بحال ہے۔


ہمارا اس وقت ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آپریشن جاری ہے۔ٹریک کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ کتنا فنکشنل ہے اور کتنا نہیں۔ہمارے ساتھ کمشنر کراچی اور دیگر اداروں کا تعاون ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ناظم آباد ڈرگ روڈ 30 کلو میٹر جگہ سے انکروچمنٹ ہٹائی جائیگی۔ضلع شرقی میں ہم آپریشن کر رہے ہیں شرقی کے بعد پھر آگے جائیں گے ۔سرکلر ریلولے کے لئے ساڑھے گیارہ ایکڑ زمین کلیئر کرنا ہے ساڑھے 3 ایکڑ کلیئر کرچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں