سندھ اسمبلی نے پولیس ایکٹ 8161 کی منسوخی پولیس آرڈر دو ہزار دو بل کو منظور کرلیا، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں  سے بات کرتے ہوئے کہا کہسندھ اسمبلی نے پولیس ایکٹ 8161 کی منسوخی پولیس آرڈر دو ہزار دو بل کو منظور کرلیا ہے۔ اپوزیشن کی بیس تجاویز کو شامل کیا، آج سلیکٹ کمیٹی نے رپورٹ کی منظوری دی جس کے بعد بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ ایوان نے بل کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے، ایم کیوایم پاکستان ، جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے دوست بل کے حوالے سے غلط تاثر قائم کررہے ہیں۔ یہ بل پولیس کو بااختیار اور مضبوط بناتا ہے۔ پولیس آزاد اداروں کے سامنے جوابدہ ہوگی۔ ٹرانسفر پوسٹنگز پولیس اور وزیراعلیٰ کی مشاورت سے ہوگی۔ اپوزیشن  لیڈر کی تجویز ہے کہ آئی جی کے عہدے کی تقرری کے لئے تین نام وزیراعلیٰ کو بھیجے جائیں یہ شامل کی گئی۔


اپوزیشن کی اسی فیصد تجاویز کو شامل کیا گیا صرف بیس فیصد رد کی گئیں. اس بل کی منظوری سے پولیس کا تشخص بحال ہوگا. آئی جی کو مالی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے. اگر کوئی شخص عدالت جانا چاہتا ہے بے شک جائے. قانون سے جہاں جہاں حکومت کا لفظ تھا اسے ہٹا کر وزیراعلی کردیا گیا ہے. کیونکہ روزانہ ہر معاملے پر کابینہ اجلاس نہیں بلائے جاسکتے تھے. بل کے تحت پولیس کو جوابدہ بنانے کے لئے پبلک سیفٹی کمیشن بنائے جائینگے۔ اچھا بل ہے اپوزیشن اس بل پر سیاست نہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں