قمر زمان کائرہ … آواز آئی کہ آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے

ہم آپ کے لئے ایک خبر لائیں ہیں آپ کے بیٹے کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔
کس کی ڈیتھ۔
پھر ایک اور آواز آئی کہ آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔
یہ سن کر پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور چلتے ہوئے شاید گھر فون کیا۔
اس دوران قدم لڑکھڑائے۔لیکن ایک رہنما نے سہارا دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔
ایک اور منظر
قمر زمان کائرہ اپنے گھر پہنچے۔پر نم آنکھوں کے ساتھ لوگوں سے گلے ملتے رہے۔
شدت غم سے نڈھال باپ اپنے جواں سالہ بیٹے کی المناک موت پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
ہمیں گلا تو اس صحافی سے ہے جس نے کس انداز سے ایک باپ کو بیٹے کی موت کی خبر دی۔
باپ سمجھ تو گیا تھا کچھ ہونے والا ہے لیکن ضبط کا بندھن نہیں ٹوٹا شکریہ کہہ کر روانہ ہوگیا۔
کیا صحافی ہر چیز سے آزاد ہوتا ہے۔
کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہے۔
جو دل میں آئے وہ کہہ دے۔
اس صحافی کو اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا خبر دے رہا ہے۔
وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔گھر پر رابطہ کرلیں۔
کیا ضروری تھا موت کی خبر دھڑلے سے دے دے۔
کسی کو کسی کے جوان سال بیٹے کی موت کی خبر اس طرح دی جاتی ہے۔
اس دوران اگر قمر الزمان کائرہ کو اچانک اطلاع سے کچھ ہوجاتا اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟
ایک اور بھلے صحافی نے صرف حادثے کا ذکر کیا موت کی اطلاع نہیں دی ۔ اس نے بہتر طریقے سے اطلاع دی۔
اللہ پاک قمرالزماں کائرہ کو صبر جمیل عطا کرے اور بیٹے کی مغفرت فرمائے…آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں