بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 5

ہم نے دو دن دہلی میں گھوم پھر کر گزارے اور نئی اور پرانی دلی کے مختلف رہائشی علاقے دیکھے ۔میرے ساتھیوں کو پرانی دلی میں اور مجھے نئی دلی میں قیام کرنا تھا ۔پاکستان سے آنے والے Contact سے ملنے کی جگہ میٹنگ پوائنٹ میں نے دیکھا اور وہاں سے نکلنے کے مختلف راستے بھی ذہن نشین کر لیے۔

دو روز بعد میں نے ساتھیوں کو مختلف اوقات میں کارو نیشن ہوٹل میں چیک ان ہونے کا کہا اور خود لودھی ہوٹل کا رخ کیا ۔یہ فور اسٹار ہوٹل پاکستان سے ہیں میرے قیام کے لئے منتخب کیا گیا تھا ۔نئی دہلی میں اس ہوٹل کے قریب ہی فائیو اسٹار اشوکا اور اکبر ہوٹل تھے اور بھارتی بری بحری اور ہوائی افواج کے ہیڈ کوارٹرز بھی اسی علاقے میں تھے۔

ہم سب مختلف اوقات میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے سے بھی گزرے پاکستانی سفارت خانہ اسلامی طرز تعمیر کا بہت اچھا نمونہ تھا لیکن ان دنوں با لکل اجڑا ہوا تھا ۔لوگوں نے پتھر مار مار کے بیشتر شیشے وغیرہ توڑ دیے تھے سفارتخانہ بند تھا پولیس کا ایک سپاہی رسمی سا پہرا دے رہا تھا اب ہمیں انتظار تھا اپنے contact کا جس نے ہماری روانگی کے دسویں دن مجھے ملنا اور ڈاک دینی تھی جس میں ہمیں مزید ہدایات ملنی تھی اس دوران ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کرنا تھا۔

میں نے اپنے دو ساتھیوں کو جھا نسی بھیجا جھا نسی سے پہلا اسٹیشن بابینا ہے ان دو اسٹیشنوں کے درمیان بھارتی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن یعنی ایک پورا ٹینک ڈویژن اور ٹین آرمرڈ بریگیڈ کی بیس تھی ۔اس کے ذمے یہ کام تھا کہ جھانسی میں کوئی معقول ہوٹل دیکھیں اور معلوم کریں کہ کورہیڈکوارٹرز تک جانے کے لیے ٹیکسی یا کوئی اور سواری مل سکتی ہے ۔جھانسی کا پرانا قلعہ بھی فوج کے زیر استعمال تھا اس کے متعلق بھی اگر کوئی مفید اطلاع مل سکتی ہو تو حاصل کریں۔

اپنے دوسرے دو ساتھیوں کو میں نے آگرہ بھیجا کہ وہاں پر فوجی چھاؤنی کے متعلق جو بھی معلومات مل سکتی ہو وہ حاصل کریں ۔خود اپنے لئے میں نے آرمی نیول اور ائیر ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہونے کے ذرائع تلاش کرنے تھے ۔یہ ہمارا ایک طرح سے ہوم ورک تھا جسے ہم نے اپنے رابطے کے آنے سے پہلے مکمل کرنا تھا ۔اس کے علاوہ اپنے ہمدرد دوستوں کے ٹھکانے بھی دیکھنے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان کے ٹھکانوں کی تلاش نہ کرنی پڑے ۔غرض یہ کہ دہلی میں دو دن کے قیام کے بعد ہم نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ۔اپنے ساتھیوں کو میں نے چار دن کے اندر واپس آنے کا کہا چوتھے روز مقررہ وقت پر ہمیں کناٹ سرکس میں ایک ریسٹورنٹ میں طے شدہ وقت کے مطابق ملنا تھا۔

میں نے اپنی اکثر شامی اشوکا اور اکبر ہوٹل میں گزارنی شروع کردیں وہاں شام گہری ہوتے ہیں ملکی اور غیر ملکی لوگ آنے لگتے ہیں ۔گرمی کی وجہ سے ان مکمل ائیرکنڈیشنڈ ہوٹلوں میں گہما گہمی بڑھ جاتی تھی اور میں نے ان ہی میں سے اپنے مطلب کے لوگ تلاش کرنے تھے۔

ان اونچی سوسائٹی کے ہوٹلوں میں کسی سے جان بوجھ کر ٹکراجانے اور آئی ایم سوری کہہ کر تعریف کرنا اور پھر ان کی دعوت پر ان ہی کی ٹیبل پر بیٹھ جانا ایک معمولی بات تھی خاص طور پر جب کہ وہ مخمور ہو ں ۔ایک آدھ گھنٹے میں ہی بالکل اجنبی لوگ خاص فری ہو جاتے ہیں میں نے وہاں خود کو لوز ٹی loose tea کا ایک بیوپاری ظاہر کیا جو کلکتے سے چائے بمبئی منگواتا اور اپنی کمپنی میں بلینڈ کرکے چائے کہ بیو پار یو ں کو بیچتا تھا ۔
میرا ہدف چھاؤنیوں میں چائے بیچنے کے آرڈر حاصل کرنا تھا اشوکا اور اکبر ہوٹل میں میں کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں جاتا تھا کہ کسی طرح بریگیڈ کوارٹرز میں میں بھی لوکل سپلائی کے تحت مجھے آرڈر مل سکتے تھے اور اسی طرح میری رسائی افسران اعلی تک ہو سکتی تھی۔


اس دوران میرے چاروں ساتھی بھی واپس لوٹ آئے اور نہایت مفید معلومات لائے ۔آگرہ چھاؤنی تقریبا خالی تھی اور چھاؤنی میں مقیم بیشتر فوجی مغربی پاکستان کی سرحد پر گئے ہوئے تھے جاٹ اور سکھ رجمنٹ کی دو دو بٹالین وہاں موجود تھیں ۔ادھر جھانسی اور بابینا کے درمیان آرمڈ ڈویژن کے علاقے میں کسی سویلین کا داخلہ کافی خطرناک تھا اور مکمل تحقیق اور تلاشی کے بعد ہی کسی کو اس علاقے میں جانے کی اجازت تھی ۔جھانسی کے قلعے میں ایمونیشن ڈیپو تھا اور وہاں کی سیکیورٹی بہت سخت تھی ۔ہم فلمیں دیکھنے اور محض سیر و تفریح کے لیے دشمن ملک میں نہیں آئے تھے اپنے مشن کی تکمیل میں جو بھی رکاوٹیں تھیں ہمیں انہیں بہرحال دور کرنا تھا۔

اب ہم رابطے کے منتظر تھے مقررہ دن اور وقت پر میں مقررہ جگہ پر پہنچ گیا مجھے سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ رابطے سے صرف میں ہی ملوں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ تک مقررہ جگہ پر انتظار کروں اگر رابطہ نہ آئے تو وہاں سے فوراٗ غائب ہو جاؤ ں اور ٹھیک ایک ہفتے بعد اسی جگہ اور اسی وقت پندرہ منٹ انتظار کرو ں۔

میں مقررہ وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے اس جگہ کے قریب پہنچ گیا کافی گنجان علاقہ تھا ،
میں نے قریب ہی ایک بک اسٹال پر مختلف رسالے دیکھنے شروع کردیئے مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے مجھے رابطہ دکھائی دیا ہم دونوں نے ایک دوسرے کی پہچان اور سب خیریت کے لیے لباس پر مخصوص رنگ کے رومال لگائے ہوئے تھے ۔دوسری چیکنگ کے لیے نظریں ملنے کے بعد مجھے اپنے دائیں بازو کو ایک مخصوص حرکت دینی تھی جس کے جواب میں رابطے میں نے بھی ایک مخصوص حرکت کرنی تھی ۔دونوں طرف سے مثبت حرکات کا مطلب سب اچھا تھا اور کسی خطرے کی صورت میں بھی رومالوں کو ہاتھ میں پکڑنا اور دوسری قسم کی جسمانی حرکت تھی ۔میں ان طریقوں کی وضاحت اس لیے نہیں کروں گا کہ بہت ممکن ہے اب بھی یہی طریقہ رائج ہو اور یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں میں نے ایک رسالہ خریدا اور واپس چل پڑا ۔رابطہ مجھ سے چند قدم پیچھے تھا آگے ایک فروٹ کی دکان تھی میں نے مختلف فروٹ دیکھے اور دام پوچھنا شروع کیے میں کپڑے کا ایک پھیلا ہمراہ لے گیا تھا ان دنوں پلاسٹک کے شاپرس نہیں ہوتے تھے میں نے پہلے دو کلو آم لیے پھر دکاندار نے کاغذ کے لفافے میں عام ڈال کر مجھے دیے جو میں نے پہلے میں ڈال دیئے اب میں بائیں ہاتھ میں پھیلا پڑے تھا رابطہ میری بائیں جانب کھڑا تھا میں نے الیچی دکھانے کو کہا جیسے کی دکاندار الیچی اٹھانے کو واپس گھوما رابطے نے ایک پیکٹ انتہائی تیزی اور پھرتی سے میرے تھیلے میں ڈال دیا میں نے کچھ الیچی لیں اور دام دے کر واپس چل پڑا ۔رابطہ نے بھی میرے جانے کے بعد یقیناً کچھ فروٹ ضرور خریدا ہوگا قریب ہی سے میں ایک کیمپوں میں سوار ہوگیا اور کچھ دور جانے کے بعد ٹیمپو چھوڑا اور بس پکڑ لی پھر بس چھوڑی اور دوبارہ ٹیمپو میں بیٹھ گیا اور اپنی رہائش تک پہنچتے پہنچتے ہی میں نے تین گنا زیادہ سفر کیا وہ اس لیے کہ اگر میری نگرانی ہو رہی ہو تو اسے جھٹک سکوں۔

ہوٹل پہنچ کر میں نے دروازہ اچھی طرح سے بند کر لیا اور پیکٹ کھولا پیکٹ میں آٹھ ورق تھے جن کی ایک طرف ہندی میں لکھا ہوا تھا اور دس ہزار بھارتی روپے تھے میں نے موم بتی جلائی اور صفحات کے سادہ اطراف کو موم بتی سے گرمی پہنچائیں آہستہ آہستہ نارنجی رنگ کے حروف ا بھرنے شروع ہوئے اور 15منٹ تک سارے صفحات کی خفیہ روشنائی سے لکھی عبارت نمایاں ہو گئی۔یہ آٹھ ورق ہم پانچوں کے لیے تھے ۔خیریت سے بارڈر کراس کرنے اور دہلی پہنچنے کی مبارکباد دی گئی تھی حوصلہ بڑھانے کے لیے الفاظ کی تھپکی تھی ۔مجھے ایک نئے مشن کو سب پر فوقیت دے کر فوری طور پر اسے مکمل کرنے کا حکم تھا ڈاک ملنے کی رسید حالات کا سرسری جائزہ اور اب تک کے کام کو لکھنے کی ہدایت تھی میں نے جواب لکھنے کے لیے پہلے سے تیار کردہ خفیہ روشنائی سے دو صفحات لکھے اور ورک کو کوئی دوسری طرف انگلش نظموں کے کچھ حصے لکھے ۔خفیہ روشنائی اب کوئی بھیج نہیں آج کل تو مائیکرو فلمز کے ذریعے کامن پن کے سرے جتنی جگہ میں چالیس سے زیادہ صفحات منتقل کیے جا سکتے ہیں ہم جو خفیہ روشنائی استعمال کرتے تھے وہ پیاز لہسن یا لیموں کا پانی ہوتا تھا اس سے کاغذ پر لکھا جائے تو سوکھنے کے بعد کاغذ پر کوئی نشان نہیں رہتا اور جب اسی کاغذ کو گھر میں پہنچائی جائے تو لکھے ہوئے الفاظ نمایاں ہوجاتے ہیں۔


مجھے اگلے دن رابطے کو ایک دوسری جگہ دس بجے ملنا اور اپنا پیکٹ اسے دینا تھا دوسرے دن ٹھیک دس بجے ہم مقررہ جگہ پر ملے اور میں نے اپنا پیکٹ اس کے حوالے کردیا ساتھیوں کے خط میں نے رابطے کے واپس جانے کے بعد انہیں دیے ہم اپنے وطن سے اس پہلے رابطے پر بہت خوش تھے ۔ان آٹھ ورقوں نے ہمارے حوصلے اور بڑھا دیے تھے ہم نے ایک بار پھر اپنے مشن کی تکمیل کے لئے تجدید عہد کی اور تھوڑی دیر بعد میں واپس ہوٹل آ گیا اور نئے مشن کی تکمیل کے لئے تیاریوں میں مصروف ہوگیا میں نے لپٹن گرین لیبل اور برو ک بانڈز ریڈ لیبل کے چھ چھ ٹین لیے رات کو ان کی بلینڈنگ کی اور انہیں اندازہ د و سو گرام کے پیکٹوں میں باندھ کر سلوشن ٹیپ سے بند کر دیا ۔میں مشن کی عملی تکمیل کے لیے دہلی سے باہر جا رہا تھا لہذا رات بھر مختلف ترقی میں سوچتا رہا دوسرے دن میں نے ساتھیوں کو الوداع کہا ٹرانس میٹر جو ان کے آگرہ اور جھانسی جانے کے دوران میں نے اپنے پاس رکھ لیا تھا انہیں واپس کیا ۔ہوٹل واپس آکر میں جلد ہی گہری نیند سو گیا اگلے روز صبح سویرے مجھے روانہ ہونا تھا مجھے احمد نگر جانا تھا احمد نگر بھارتی آرمڈ یعنی ٹینکوں کی ٹریننگ کا مرکز ہے۔ ….جاری ہے۔  راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار


اپنا تبصرہ بھیجیں