ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا دائرہ کار سیاستدانوں اور سرکاری عہدے رکھنے والوں تک بڑھایا جائے۔ سابق وفاقی وزیر سید ضیاء عباس

اسلام میں جان بچانے کے لئے حرام کو بھی حلال قرار دے دیا جاتا ہے اس وقت ملکی معیشت کو بچانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں ۔
کراچی- سابق وفاقی وزیر اور سینئرسیاست دان سید ضیاء عباس نے کہا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کے لیے لائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا دائرہ کار سیاستدانوں اور سرکاری عہدے رکھنے والی تمام ان شخصیات تک بڑھایا جائے جو مختلف ادوار میں حکومتی سیٹ اپ کا حصہ رہے اور انہوں نے سرکاری عہدوں اور مراعا ت کا بھرپور فائدہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اس اسکیم میں ملکی سطح پر پر چار فیصد اور غیر ملکی سطح پر چھ فیصد کا تناسب رکھا گیا ہے اسی طرح سیاستدانوں اور ماضی میں سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے لیے بھی ملکی دولت اور جائیداد اثاثے ظاہر کرنے پر 25 فیصد اور غیر ملکی اثاثے اور جائیداد ظاہر کرنے پر 15 فیصد کا اطلاق کیا جائے تاکہ قومی خزانے میں پیسہ جمع ہوسکے اس پر ملکی معیشت کو بچانے کے لئے انتہائی ناگزیر ہے کہ جن لوگوں نے بھی ملک اور بیرون ملک جائیداد اور اسے چھپا رکھے ہیں وہ آئیں اور ٹیکس ادا کرکے اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں اس طرح قومی دولت قومی خزانے میں جمع ہو سکے گی اور ملک آگے بڑھ سکے گا انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کردیا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کے دفاع کے اوپر بھی مزید اخراجات کرنا ہماری مجبوری ہوگی لیکن جس طرح صرف دو دن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ساٹھ روپے کم ہو گئی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے دفاعی بجٹ پر کتنا بہت بڑھ گیا ہے اور ہماری معیشت پر کتنا کٹھن وقت آگیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے دشمن ملک کی چالوں کو سمجھیں اور اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ہرممکن وہ قدم اٹھائیں جو ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی مودی سرکار نے فروری کے مہینے میں پاکستان کے خلاف جس طریقے سے جارحانہ عزائم دکھائے تھے اسے پاک فوج نے بہت عمدگی سے نا صرف ناکام بنا دیا بلکہ پوری دنیا کو بتادیا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور پاکستان کی طرف کوئی بھی بری نگاہ سے دیکھے گا تو اس کا حشر بھی وہی ہو گا جو بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا ہوا ۔سید ضیاء عباس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اگر اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کرنے ہیں تو یہ سنہری موقع ہے کہ وہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا دائرہ کار ان تمام سیاستدانوں اور سرکاری افسران پر بڑھا دی جنہوں نے مختلف حکومتوں کے ادوار میں اہم پوزیشنوں پر رہ کر خوب دولت جمع کی اگر ان لوگوں سے دولت حکومتی خزانے میں واپس آ جاتی ہے تو معیشت مضبوط ہو جائے گی آخر میں انہوں نے کہا کہ میرا اس ایمنسٹی اسکیم سے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں مجھے پوری دنیا جانتی ہے میرا اس سے کوئی فائدہ نہیں میں صرف ملکی مفاد میں وزیراعظم کو یہ مشورہ دے رہا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں