132

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 4

کیچڑ اور سرکنڈوں سے ہمارے جسم مٹی اور خراشوں سے بھر گئے تھے ہمیں کچھ پتہ نہ تھا کہ ہم کب بھارت میں داخل ہوئے کیونکہ سرحد کا کوئی نشان موجود نہ تھا ہم بس آگے ہی آگے بڑھتے جارہے تھے کے گائیڈ نے کہا نہر آ گئی ہے۔
ہم ایک ایک کر کے نہر میں اتر گئے گولیاں دونوں طرف سے تڑ اخ تڑا خ چل رہی تھیں ۔نہر کو ہم نے کھڑی پوزیشن میں تیر کر عبور کیا ۔بھارت کی طرف کا کنارہ پانی سے خاصا اونچا اور نوے درجے کا تھا اس پر چڑھنے میں خاصی دقت ہوئی اس کنارے پر پٹڑی بھی تھی جس پر بی ایس ایف۔۔۔۔ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس گشت کرتی تھی ۔ہمیں جلد از جلد اس پٹڑی کو عبور کر کے کھیتوں کی طرف دوڑنا تھا احتیاطی تدابیر کے مطابق پٹڑی پر ہمیں الٹے قدموں چلنا تھا تاکہ اگر ہمارے پاؤں کے نشان کوئی دیکھے بھی تو یہ سمجھے کہ کچھ لوگ بھارت سے پاکستان کی طرف گئے ہیں ۔پٹری سے الٹے قدموں گزر کر ہم کھیتوں کی طرف بھاگے ۔کھیتوں کی منڈیروں پر ہم تیز بھاگتے گئے ۔وہاں بھی کھیتوں میں ڈیرے بنے ہوئے ہیں ہم ان ڈیروں سے حتی الوسع دور رہنے کی کوشش کر رہے تھے اسی وجہ سے ہمیں دیوار ایک کھیت عبور کر کے کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب جانا پڑتا کیونکہ ڈیروں پر پالتو کتے ہوتے ہیں ۔غرض یہ کہ صرف ایک جگہ دس منٹ آرام کر کے ہم نے اپنا سفر جاری رکھا ۔ہنومان گڑھ اسٹیشن سے تقریبا آدھا کلومیٹر پہلے ایک نہر آئی ۔ہم نہر میں کود پڑے اچھی طرح سے نہآئے اور جسم کی آلودگی دور کی انڈرویر اور بنیان سے جان چھڑائیں اور سویلین لباس پہن لیے گائیڈز نے ہمارے لیے ٹکٹ لینے جانا تھا لیکن میں نے انہیں روک دیا اور کہا کہ پیسے تم رکھ لو اور اندھیرے اندھیرے میں ہی واپس اس گاؤں میں پہنچ جاؤ جہاں تمہارا انتظار کیا جارہا ہے ۔اس دوران میں نے اپنا ریوالور لوڈ کر لیا تھا وہ دونوں اسی وقت واپس روانہ ہوگئے ۔میں نے اپنے ایک ساتھی کو ان کے پیچھے بھیجا کہ وہ واقعی واپس جا رہے ہیں یا کہیں راستے میں چھپ گئے ہیں اسمگلرز سے ہر بات ممکن ہے ۔میں نے ساتھی کو بھی اپنا ریوالور لوڈ کرنے کو کہا کہ اگر یہ ذرا بھی ادھر ادھر ہونے کی کوشش کریں تو فورا گولی مار دینا۔


تقریباً بیس منٹ کے بعد میرا ساتھی واپس آیا اور بتایا کہ وہ اسی راستے پر بھاگتے ہوئے جارہے تھے اسی اثناء میں دور سے گاڑی کے وسل کی آواز آئی اور ہم نے اسٹیشن کی راہ لی ۔یہ بھٹنڈہ جانے والی گاڑی تھی ۔بالکل چھوٹا سا اسٹیشن تھا اور ابھی ہلکا ہلکا اجالا ہوا تھا ہم چار ساتھی اسٹیشن سے ذرا فاصلے سے پٹڑی کی دوسری جانب اور پانچواں ساتھی ٹکٹ لینے اسٹیشن کی طرف چلا گیا ۔گاڑی غالبا ایک یا دو منٹ وہاں رکی ۔ہمارے ساتھی نے ٹکٹ لے کر گاڑی کی دوسری طرف ہمیں اشارہ کیا اور ہم دوسری جانب گاڑی میں سوار ہو گئے ۔ہمارا ساتھی دروازے کے ساتھ ہی کھڑا تھا اس نے ایک ایک کرکے ہمیں دروازہ سے گزرتے ہوئے ٹکٹس کمائے اور ہم پانچوں اجنبی بن کے ایک ہی ڈبے میں بیٹھ گئے ۔تقریبا پون گھنٹہ بعد گنگا نگر آیا ۔یہ خاصا بڑا اسٹیشن ہے ہم ایک ایک کر کے اترے اسٹا ل سے پوریاں اور چائے کا ناشتہ کیا اور پھر دو الگ الگ ڈبوں میں بیٹھ گئے اب ہماری منزل بھٹنڈا جنکشن تھی جہاں سے ہم نے دہلی کے لیے گاڑی پکڑنی تھی۔

بھٹنڈہ مغربی بھارت کا بہت بڑا جنکشن ہے گاڑی بھٹنڈہ پہنچی ہم اسٹیشن سے ایک ایک کر کے باہر آ گئے ۔اب ہم سرحد سے خاصی دور جاچکے تھے بارڈر کراس کرنے کی ٹینشن بھی کچھ کم ہوگئی تھی شہر چھوٹا سا تھا ہم نے بازار سے شیونگ کا سامان وغیرہ خریدا اور سگریٹ لیے وائرلس سیٹ بھی خاصی پریشانی کا موجب بن رہا تھا ایک ہی بیگ میں ذاتی سامان اور وایرلس تھا اور اسے سنبھالنے کے ذمہ دار کو ہر بار بیگ کھلتے وقت گھبراہٹ طاری ہوتی تھی لہذا ہم نے ایک بیگ وائرلیس سیٹ رکھنے کے لئے خریدا اور دہلی تک کے سفر کے دوران اس بیگ کی نگرانی ہم سب نے بانٹ لی۔

شہر کے ایک ہوٹل سے ہم نے کھانا کھایا اور پھر اسٹیشن کی طرف پلٹ آئے ۔ویٹنگ روم میں ہم نے شیو بنائی نہآئے اور اپنا حلیہ درست کیا میں نے ساتھیوں کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ بجائے کسی ایکسپریس یا پنجاب میل کے ہم پسنجر ٹرین میں د ہلی تک کا سفر کریں گے تاکہ راستے میں مختلف اسٹیشنوں پر رکتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو وہاں کے حالات سے باخبر ہو سکیں۔

فاسٹ پیسنجر سہ پہر3بجے دہلی کے لئے چلتی تھی ہم نے اپر کلاس کے ٹکٹ لیے ۔بھٹنڈا اسٹیشن پر ہم نے ایک ملٹری ٹرین دیکھی جو یقیناً بار ڈر کی طرف جا رہی تھی ۔ہماری گاڑی پلیٹ فارم پر آ لگی اور ہم ایک ڈبے کا انتخاب کرکے اسی میں اکٹھے بیٹھ گئے ۔فیصلہ یہ ہوا تھا کہ وا ئر لیس کا بیگ اوپر کی برتھ پر رکھا جائے اور جس کی ڈیوٹی ہو وہ اس پر سر رکھ کر خود کو سوتا ظاہر کرے ۔ٹرین مقررہ وقت پر روانہ ہوئی پسنجر ٹرین میں سکھ مسافروں کی اکثریت تھی ۔ایک عجیب بات محسوس ہوئی کی سکھ مسافر بھی خاموش اور مایوس سے دکھائی دے رہے تھے ورنہ سکھوں کی تو عادت ہے کہ جہاں بھی دوسکھ موجود ہوں وہاں قہقہے اور اونچی آواز میں باتیں لازمی ہو جاتی ہیں ۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ بھارتی پنجاب کی سکھ اپنی آزادی کی منزل 71 کی جنگ سے وابستہ کر بیٹھے اور ان کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا یا پھر وہ ہمیں ہندو سمجھ کے محتاط اور متنفر سے تھے میں نے دو تین بار ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار نہایت مختصر جواب دیا ۔ہم نے بھٹنڈا سے براہ راست دہلی جانے سے پہلے جالندھر اور پھر دلی جانے کو ترجیح د ی ۔اس طرح ہمارے سفر کے دوران تین بڑی بھارتی چھاؤنیاں تھیں ۔جالندھر ،لدھیانہ اور انبالہ ۔ان چھاونیوں کے اسٹیشنوں پر کافی چہل پہل تھی دہلی سے امرتسر جانے والی ٹرینوں میں بھارتی فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کے آدمی مسافروں کی چیکنگ کرتے بھی دکھائی دیے ۔۔اس کی وجہ سے مشرقی پاکستان سے ہمارے فوجیوں کی بھارت کے POW کیمپس سے فرار کے درجنوں واقعات تھے ۔16 دسمبر 1971 کو پاکستان کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فوجیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے بلکہ کچھ برما کی طرف اور بیشتر بھارتی سرحدوں میں داخل ہوگئے سے اور چھپتےچھپاتے پاکستان کے پنجاب کے با رڈر کی طرف جا رہے تھے انہیں پکڑنے کے لیے بھارتی پنجاب میں امرتسر کی جانب جانے والی ٹرینوں کی تلا شی لی جاتی تھی۔


بھٹنڈا سے دہلی کے سفر کے دوران ہم نے تین اور ملٹری اسپیشل دیکھیں ۔ایک تو بھٹنڈا اسٹیشن پر کھڑی تھی دو اور ٹرین دیکھیں جن پر فرانس کے بنے ہوئے AMX.13 روسی 76۔T ٹینک P چند تو پیں، ہوانٹر ز  اور ٹائیگر کیٹ میزائل کی بیڑیاں لد ی ہوئی تھیں۔ان تینوں کو باقی سب ٹرینوں پر فوقیت دے کر تھرو کیا جاتا تھا ان ٹرینوں کے پاکستانی سرحد کی طرف جانے سے بھارتی عزائم کا صاف پتا چلتا تھا کے وہ اب مغربی پاکستان پر فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے اور سابقہ مشرقی پاکستان سے فوجی ہٹا کر مغربی پاکستان کی سرحد پر جمع کر رہا ہے۔روسی ساختہ PT.76 Amphibious ٹینک یعنی پانی میں تیرنے والے ٹینک ہیں سیز فائر کے بعد ان مخصوص ٹیم کو پاکستانی بارڈر پر لانے سے بھارتی ارادے صاف ظاہر ہو رہے تھے ایک ٹرین میں بھارتی فوجی سوار تھے صرف آدھے دن میں ہم نے چار فوجی ٹرینیں دیکھی تھیں ۔میں نے ان ٹرینوں اور ان کے کارگو کو اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیا تاکہ اپنی پہلی رپورٹ میں ان کا ذکر کر سکو ں۔
تقریبا ساڑھے نو بجے رات ٹرین شاہدرہ اسٹیشن پر رکی ۔دہلی میں بھی جمنا کے مغربی جانب شاہدرہ اسٹیشن ہے بالکل لاہور والے شاہدرہ اسٹیشن کی طرح ۔ہم نے اس اسٹیشن پر سے گاڑی کو چھوڑا اور دو ٹیکسی لے کر دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق سبزی منڈی اسٹیشن کے قریب گھنٹہ گھر چوک میں ہم نے دو معمولی ہوٹلوں میں قیام کیا ۔کیونکہ بھارت میں شناختی کارڈ رائج نہیں ہیں اس لئے ان ہوٹلوں میں کمرے حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی وہاں ہم سب نے خود کو ایسے معمولی کاروباری کی حیثیت سے متعارف کرایا جو گردونواح کے چھوٹے شہروں سے خریداری کے لیے آئے ہیں ۔      ….جاری ہے۔ راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں