ڈاکٹر کی ڈائری…..

ڈاکٹر کے بارے میں معاشرے کا عمومی رویہ، جس پر پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کا اعتقاد مضبوط ہوتا جا رہا ہے…
ڈاکٹر قصائی ، ڈاکٹر ڈکیت،ڈاکٹر ظالم ….
پرائیوٹ اسپتال ناجائز کمائی کے اڈے ،ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس پر پابندی ہونی چاہئے،ہزاروں روپے فیس چارج کرتے ہیں….
اور اسطرح کی ساری بحث کرنے والے اینکرز ، اخباروں کے صفحے کالے کرنے والے جرنلسٹ، اور میڈیکل میں ایڈمیشن نہ ہونے کو دکھ بنا لینے والےکچھ ذہنی مریض ،عوام، کوئی بھی کبھی آپ کو اس سوال کا جواب نہیں دے گا کہ…
دس لاکھ کیس کی فیس چارج کرنے والا وکیل ڈکیت نہیں ہے.؟؟؟
 دس لاکھ میچ کی فیس چارج کرنے والا کھلاڑی ڈاکو نہیں ہے؟؟؟
دس لاکھ میں گھر کا نقشہ بنانے والا آرکیٹیکٹ ڈاکو نہیں ہے…؟؟؟
دس لاکھ میں شادی کا جوڑا بنانے والا ڈیزائنر ڈکیت نہیں ہے…؟؟؟
دس لاکھ میک اپ اور فوٹو گرافی کا چارج کرنے والا اسٹوڈیو ڈکیت نہیں ہے…؟؟؟
سات ہزار کا لان کا برانڈڈ سوٹ خرید کر،آٹھ ہزار کا چائنیز اٹالین فوڈ کھا کر ، چار ہزار کا جوتا خرید کر، پندرہ سو ڈاکٹر کی فیس سن کر کہتے ہیں، ” اتنی زیادہ صرف چیک اپ کی فیس 
کھلاڑیوں ، ڈیزائنرزاور ڈھابوں سے پلازے کھڑے کر دینے والے فوڈ چینز کی محنت اور ہمت کی داستانیں سب کو یاد ہوں گی ….”
مگر زندگی کے پچیس، تیس سال کی سخت محنت اور مشکل ترین پڑھائی کے بعد پندرہ سو ، دو ہزار فیس لینے والا ڈاکٹر قصائی ہے اور ہزاروں روپے پرائیوٹ چارج کرنے والے اسپتال ڈکیت ہیں
( مگر فائیو اسٹار ہوٹلز,گیریژن کے بینکوئٹ لاکھوں روپے چارج کرنے پر حق بجانب ہیں)
اس وقت کوئی یہ نہیں سوچتا کہ
کوئی بھی پرائیوٹ اسپتال مریض کو علاج کے لئے مجبور نہیں کرتا…
کوئی بھی شخص اگر اعتزاز احسن، اے بی ڈویلیر ،فیصل رسول،اطہر شہزاد، جنید جمشیدکو افورڈ نہیں کر سکتا تو ان کے پاس نہیں جائے گا….
اور نہ ہی ان کے دروازوں پر کھڑا ہو کر انہیں گالیاں دے گا…
مگر ڈاکٹرز کے لئے یہ اسپیشل رویہ پورے پاکستان میں ہے…
ڈاکٹر اور ہاسپٹل کو آپ جب چاہیں جہاں چاہیں کھڑے ہو کر گالی دے دیں….
افسوس….
ڈاکٹر فرح رحمان

اپنا تبصرہ بھیجیں