آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے پر متفق

وزیراعظم عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کے لیے ایک اہم خبر آئی ہے کیوں پوزیشن کی بڑی جماعتیں عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے پر متفق ہوگئی ہیں ۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کی اجازت اپنی پارٹی مسلم لیگ نون کو دے دی ہے پیپلز پارٹی پہلے ہی آصف زرداری کے گرین سگنل کی وجہ سے عید کے بعد بھرپور تحریک چلانے کی تیاریاں کر رہی ہے نوازشریف اور آصف زرداری سے پہلے جمیعت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اب مسلم لیگ نون پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی تینوں بڑی جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے پر متفق نظر آتی ہیں اور عید کے فورا بعد حکومت کے لیے بڑی مشکلات پیدا کرنے کے لئے تیار ہیں ۔


تفصیلات کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف سے ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں نے اہم ملاقاتیں کیں ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی رہنماوں کو عید الفطر کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مہم تیز کرنے کی ہدایت کردی انہوں نے کہا کہ شہباز شریف حمزہ شہباز اور مریم نواز بھی اس احتجاج کے دوران عوام کے درمیان ہوں گے ملاقات میں نواز شریف نے پارٹی رہنماوں کو احتجاج کی حکمت عملی وضع کرنے سمیت اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔دوسری طرف سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو عید کے فورا بعد حکومت مخالف تحریک کی تیاری کی ہدایت کردی ہے جب کہ مولانا فضل الرحمن مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کرکے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر سلام مشورہ کر رہے ہیں انہوں نے بلوچستان کے اہم رہنما سردار اختر مینگل سے ملاقات کرکے بلوچستان اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے تیار ہیں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نئے اور عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے مختلف رہنماؤں کے خلاف مزید مقدمات لے جا رہے ہیں گرفتاریاں عمل میں آ رہی ہیں ان سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ بڑھا کر اپنے اوپر آنے والے دباؤ کو کم کریں اور عوام کو متحرک کرکے مہنگائی بے روزگاری غربت اور معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال پر حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کمزور ٹیم کو ایکسپوز کریں ۔رمضان المبارک کے دوران ملک میں مہنگائی کی زبردست لہر آئی ہے جب کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں مزید مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے یہ حالات کسی بھی اپوزیشن کے لیے آئیڈیل حالات ہیں کہ وہ حکومت مخالف تحریک چلائے اور عوام کی آواز بنے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں