ڈالر نے حکومت کو چت کردیا ۔ ذمہ دار حکومت نہیں اسٹیٹ بینک ہے ۔ پی ٹی آئی کا موقف

ڈالر کی اونچی اڑان نے پاکستانی روپے کو بری طرح زمین بوس کرتے ہوئے حکومتی دعووں کی دھجیاں اڑادی ہیں ڈالر آج ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے کاروباری دن کا آغاز ہوتے ہی انٹر بینک میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں بھی اضافہ ہوا ہے انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 147 روپے تک پہنچ گئی دوسری جانب روپے کی قدر کم ہونے پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی منفی رحجان دیکھا گیا فاریکس ڈیلر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آنے تک روپے کی قدر مستحکم ہونے کا امکان نہیں ۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کہتے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی ذمہ دار حکومت نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک ہے ۔وزیراعظم نے روپے کی قدر میں کمی کا نہیں بلکہ کرنسی کی اسمگلنگ کا نوٹس لیا تھا ڈالر کی قدر میں اضافے کا معاملہ اسٹیٹ بینک کا کام ہے۔


ڈالر کی اونچی اڑان کے سامنے حکومتی وزرا اور نئی معاشی ٹیم بے بس نظر آرہی ہے وزیراعظم کو صورت حال سے آگاہی دی جا رہی ہے وزیراعظم بھی صورتحال پر پریشان ہیں اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے روپے کی قدر میں کمی کے معاملے کو قومی اسمبلی کی خزانہ مور کمیٹی میں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ آئی ایم ایف معاہدہ نہیں جب تک میں ایم ایم اے میں شامل تھا تب تک ڈالر کی قدر بڑھنے سے متعلق کوئی شرائط عائد نہیں تھی ۔ ڈالر کی شرح میں ردوبدل کی وجہ سے پاکستان کے ایکسپورٹ امپورٹ پر نمایاں فرق پڑ رہا ہے جبکہ ملک کے اندر مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں