مسلم لیگ نون ہائی کورٹ سے نوازشریف کی ضمانت کے حصول کے لیے پُراعتماد

کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کرنے کے بعد مسلم لیگی رہنماوں نے صحافیوں کو بتایا کہ نوازشریف کو علاج کی فوری ضرورت ہے ان کی ضمانت کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا رہا ہے ہمیں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص کی دل کی سرجری ہوتی ہے وہ اپنے متعلقہ ڈاکٹر سے ہی علاج کرا سکتا ہے نواز شریف کو ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کی امید ہے اس صورت میں وہ فوری طور پر اپنا علاج کروا سکیں گے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما احسن اقبال نے اس حوالے سے کہا کے ملک کو نوازشریف کی ضرورت ہے وہ اس وقت پاکستان کے سینئر ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں اور وہ ملکی معیشت کی خراب صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی غربت اور بے روزگاری اور عوام کے مسائل کی وجہ سے سخت فکرمند ہیں ان کی اپنی صحت گر رہی ہے۔


ہمیں ان کی صحت کے بارے میں تشویش ہے انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے مسلم لیگ نون نے ہائی کورٹ سے ضمانت کے حصول کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے اور امید ہے کہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل جائے گی اور نواز شریف علاج کے لیے اپنے مالک کے پاس جا سکیں گے ۔
دوسری طرف سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کو طبی بنیاد پر ہائیکورٹ سے ضمانت ملتی ہے اور انہیں بیرون ملک جاکر اپنے مال سے علاج کرانے کی اجازت مل جاتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے چلائی جانے والی حکومت مخالف تحریک کا دباؤ ختم ہو جائے گا اگر نواز شریف بیرون ملک چلے گئے اور وہاں کچھ عرصہ علاج کرانے کے لیے انہیں رکنا پڑا تو حکومت پر سیاسی جماعتوں کے حکومت مخالف دباؤ کا اثر کم ہو جائے گا اور حکومت کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے فیصلے کرنے کی آزادی مل جائے گی ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات آہستہ آہستہ سیاسی جماعتوں کی سینئر قیادت کو عملی سیاست سے دوری کی طرف لے جا رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی قیادت اور فیصلہ سازی کا اختیار نوجوان قیادت کی طرف آتا نظر آ رہا ہے ہے مستقبل قریب میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور فیصلہ سازی کا اختیار والے بن نوازشریف اور آصف زرداری کے پاس نہ رہے اور یہ فیصلے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کرتی نظر آئیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں