پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں

پانی نہیں ملتا تو کوکاکولا پی لیں ۔یہ بات پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں ا یک مقدمے کی سماعت کے دوران خود فاضل عدالت کی طرف سے کہی گئی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد میں ہوئی جہاں چیف سیکرٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا گیا جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکاکولا پی لیں؟ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے رویے کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کرلیا تاکہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جا سکے عدالت کے استفسار پر وکلاء نے بتایا کہ نئی گج ڈیم ضلع دادو میں بنے گا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکٹری دادو کی زمین سیراب کرنے اور عوام کو پانی کی ضرورت سے متعلق بیان دے دیں سندھ حکومت جن بااثر افراد کی زمینیں سیراب کرنا چاہتی ہے اس کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کیا سندھ حکومت یہی چاہتی ہے کہ عدالت میں نام لیے جائیں کیا سندھ حکومت چاہتی ہے کہ باقی عوام چاہے مر جائے فرق نہیں پڑتا ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نئی گج ڈیم منصوبہ 26 ارب کا تھا یہ چالیس ارب تک پہنچ چکا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سند ھ حکومت ایکنک کا فیصلہ بھی تسلیم نہیں کر رہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے پھر سندھ حکومت کہے گی کہ پانی نہیں ملتا تو کوکاکولا پی لیں ۔عدالت نے مزید سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں