بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ کی واضح ہدایات ہیں، وائلڈ لائف کی بہتری کیلئے اقدامات پر حکومت کی سپورٹ ملے گی۔ سردار عثمان عالمانی

چیف گیم وارڈن محکمہ وائلڈ لائف سردار عثمان عالمانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کے شکار پر وفاق کے اجازت نامے جاری کرنے پر سندھ حکومت نے تحفظات کا اظہار کردیا،  وفاقی حکومت کو شکار کے اجازت نامے جاری کرنے سے قبل مشاورت کرنی چاہئے،  وائلڈ لائف میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، گاڑیاں نہیں ہیں۔ اس محکمہ کو سرد خانے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ کی واضح ہدایات ہیں۔ وائلڈلائف کی بہتری کے لیے اقدامات پر حکومت کی سپورٹ ملے گی۔ لوکل برڈز جو اسمگل ہوکر باہر جاتے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔


وائلڈ فورس اور پولیس کی سپورٹ چاہیے۔ وائلڈ لائف کیسز زیر التوا چلے جاتے ہیں۔ ہم نے وزارت قانون کو خط لکھا ہے کسی جج کو مختص کردیا جائے جو وائلڈ لائف کے کیسز سنے، شکار پر پابندی ہے، اس وقت سیزن بھی نہیں ہے، مخصوص پرندوں پر پابندی ہونی چاہیے، ان کی پاپولیشن کی سینسز نہیں ہوئی، کچھ سیزن یا کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کی جائے، ہم ایکو ٹیورازم کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں، وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کا یونیفارم کا فیصلہ کیا جائے گا تاکہ ان کی ایک پہچان ہو، ہمارے پراجیکٹس میں ہالے جی لیک کی ریسٹوریشن ہے، اکڑو ٹو نواب شاہ میں پانی کی قلت ہوگئی ہے۔ وہاں قدرتی طور پر مگرمچھ پائے جاتے ہیں، وہاں سولر پروجیکٹ یا ونڈ ملز کے ذریعے پانی کی سپلائی شروع کی جائے گی۔ جنگلی حیات کے نقصان کا تخمینہ ابھی تک نہیں لگایا۔ اسے ریگولرائز اور چینلائز کرنا ہے۔ سو لوگوں کی افرادی قوت ہے ہمارے پاس، انہیں ریشنلائز کریں گے، سندھ میں کمیونٹی ہنٹنگ ہوتی ہے، ان کے پرمٹ آکشن ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں