صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں الیکٹرک ڈیوٹی کے براہ راست ڈپازٹ کے لئے ایک میکنزم تشکیل دیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ

کراچی-  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سندھ حکومت کی طرف سے صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے الیکٹرک سٹی ڈیوٹی وصول کی ہے لیکن وہ رقم صوبائی حکومت کو منتقل نہیں کررہے، لہٰذہ انھوں نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں الیکٹرک ڈیوٹی کے براہ راست ڈپازٹ کے لئے ایک میکنزم تشکیل دیا جائے۔ یہ بات انھوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOS) کو بلز کی ادائیگی اور ان سے (DISCOS) سے بجلی ڈیوٹی وصول کرنے جوکہ صوبائی حکومت کی جانب سے وصول کئے جاتے ہیں سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔


اجلاس میں وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز علی شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ نجم شاہ، سیکریٹری توانائی مصدق خان اور دیگر متعقلہ افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے بجلی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOS) جیسے کہ کے۔الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو نے سندھ حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں کے ذریعے 1.5 فیصد الیکٹرک سٹی ڈیوٹی گھریلو صارفین سے وصول کررہے ہیں جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین سے بل کے 2 فیصد الیکٹرک سٹی ڈیوٹی وصول کرتے ہیں، لیکن انھوں ابھی تک رقم صوبائی حکومت کو منتقل نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ایک تخمینہ کے مطابق کے۔ الیکٹرک (KE) سالانہ 3 ارب روپے کے قریب الیکٹرک سٹی ڈیوٹی وصول کررہی ہے اسی طرح حیسکو اور سیپکو بھی یہ وصولیاں کرتے ہیں، لیکن انھوں نے سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں ابھی تک وہ رقم ڈپازٹ نہیں کی۔ مراد علی شاہ نے وزیر توانائی امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ سیکریٹری توانائی کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دیں جوکہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOS) کے ساتھ بجلی کی ڈیوٹی کے اعداد و شمار کا موازنہ کرکے اس رقم کو سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جاسکے۔ انھوں نے وزیر توانائی کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ گورنر اسٹیٹ بینک سے ملاقات کرکے بینکنگ کا ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت الیکٹرک سٹی ڈیوٹی کی ادائیگی جو بجلی کے بلوں کی صورت میں ہوتی ہے، براہ راست صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوسکے۔


بجلی بلز کی ادائیگی: وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ کے ایم سی (KMC) کے 580 ملین روپے کے بجلی بلز تھے جسکو صوبائی حکومت نے ادا کرنے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر توانائی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے ان بلز کو ری کنسائل کریں اور اس کے بعد اقساط یں ادائیگی کریں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام محکمے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB)، خودمختار و نیم خودمختار تنظیمیں، ڈیم ایم سیز (DMCs)، بلدیاتی اداروں و دیگر افسران سے متعلق تمام بجلی بلز کو محکمہ توانائی سے سختی سے ری کنسائل کروایا جائے اور اسکے بعد انکی ادائیگی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں