پاکستانی دلہنوں کے چینی سوداگروں کی ضمانت مسترد

پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادی اور چین میں لے جا کر جسم فروشی کرنے کے اسکینڈل میں ملوث گرفتار چینی باشندوں کی لاہور کی مقامی عدالت نے ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کی اور فیصلہ سنا دیا چینی باشندوں کی جانب سے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان کو جھوٹے مقدمے میں بے بنیاد نامزد کرکے گرفتار کیا گیا ہے اور الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے نے خود ہی ایک جھوٹی کہانی تیار کر کے ملزمان کو گرفتار کرلیا ملزمان پاکستان میں بزنس کے لیے آئے تھے مگر ان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مقدمے میں ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ چینی باشندوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست منظور کی جائیں دوسری جانب ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پاکستانی لڑکیوں سے دھوکے سے شادی کرتے تھے اور پاکستانی لڑکیوں کوچین لے جاکر ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد چینی باشندوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انہیں خارج کر دیا ۔اسی طرح ہائی کورٹ میں کچھ ایسی درخواستیں بھی آئی ہیں جن میں لڑکیوں نے اپنے چینی شوہروں کے ساتھ پسند کی شادی کرنے اور ان کے ساتھ چین جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں آف لوڈ کیے جانے اور چین جانے سے روکے جانے کے اقدام کو چیلنج کردیا ہے صائمہ، بسم اللہ، سبحانہ عشق نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں وزارت خارجہ چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے ان کا موقف ہے کہ جنوری میں ان کی الگ تاریخوں میں شادی ہوئی اور جب وہ اپنے چینی شوہروں کے ہمراہ چین جا رہی تھیں تو چینی شوہر کے ہمراہ ایف آئی اے نے سات مئی کو اپلوڈ کر دیا اور کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر غیر قانونی حراست میں رکھا اور چینی شوہروں کے ساتھ جانے سے روکا جبکہ چینی شوہروں کو زبردستی بیویوں کے بغیر چین بھجوا دیا گیا درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ پاک چین دوستی کو بد نام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکیوں اور چینی لڑکوں کی شادیوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے بیوی کو شوہر کے ساتھ چین نہ جانے دینا آئین کے آرٹیکل 425 کی خلاف ورزی ہے ہم اپنے چینی شوہروں کے ساتھ خوش ہیں اور ان کے ساتھ چین جانا چاہتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں