صدر نیشنل بینک عارف عثمانی کے قریبی دوست دفاع میں آگئے۔ وفات شدہ ملازمین کے بچوں کی نوکری کا معاملہ اٹھانے پر سیخ پا ؟ ہم آئینہ دکھاتے رہیں گے ۔

جب سے جیوے پاکستان نے نیشنل بینک آف پاکستان میں وفات شدہ ملازمین کی اولادوں کو ملازمت فراہم کرنے کا معاملہ اٹھایا ہے اور یتیم بچوں کے لئے انصاف مانگتا ہے تب سے ملک بھر سے بڑی تعداد میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ملازمین کی جانب سے جیوے پاکستان کو اس سلسلے میں مزید دستاویزات ، کوائف ، درخواستیں ،اخباری تراشے ،ماضی میں انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے وعدے ،محتسب اعلی کی عدالت میں ہونے والی کاروائی ،مختلف عدالتوں میں آنے والے فیصلے ،یونین کی جانب سے تیار کردہ فہرستیں اور اس سلسلے میں تیار کی گئی متعدد ویڈیوز ،تصاویر اور دیگر شواہد بھی جا رہے ہیں جن کے ساتھ جیوے پاکستان کے لیے ڈھیروں دعائیں اور یتیم بچوں اور وفات شدہ ملازمین کے لواحقین کی جانب سے اس مسئلہ کو اٹھانے پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف صدر نیشنل بینک آف پاکستان عارف عثمانی کے قریبی دوست اور حامی افراد اور بعض مفاد پرست عناصر اس سلسلے میں جیوے پاکستان پر تنقید بھی کر رہے ہیں بات سوشل میڈیا گروپس پر اعتراضات اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں عارف عثمانی کا دفاع کرنے کے لئے ان کے دوست میدان میں آگئے ہیں ان کی پارسائی کے دعوے کیے جا رہے ہیں ان کو 15 سال کی عمر سے جاننے کے دعوے داروں کا کہنا ہے کہ لوگ عارف عثمانی کو کتنا جانتے ہیں ان کی کردار کشی کیوں کی جارہی ہے ؟۔صدر نیشنل بینک کے حوالے سے جو لوگ مختلف سوشل میڈیا گروپوں میں بے بنیاد اعتراضات اور سوالات اٹھا کر یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ عارف عثمانی کو بہت قریب سے اور بہت برا نا جانتے ہیں اور ان کی کردار کشی برداشت نہیں کر سکتے دراصل کسی یتیم اور بے سہارا کے حق کے لیے آواز اٹھانا کسی طرح بھی صدرنیشنل بینک عارف عثمانی کی کردار کشی نہیں ہے جو لوگ عارف عثمانی کے

قریبی دوست ہیں انہیں تو چاہیے کہ وفات شدہ ملازمین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کریں اور یتیم بچوں کی ملازمت کے مسئلہ کو صدر نیشنل بینک عارف عثمانی تک پہنچائیں تاکہ یہ جائز مسئلہ حل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیشنل بینک میں ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اس حوالے سے کوئی بھی کیس زیرالتوا نہیں ہے اور اس حوالے سے دی جانے والی خبریں جھوٹی ہیں اور بے بنیاد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں ایسے متعدد لوگ موجود ہیں جن کے پاس اس حوالے سے تمام دستاویزی ریکارڈ اور شواہد موجود ہیں اور وفات شدہ ملازمین کی اولادیں خود سب سے بڑا ثبوت ہے جو نیشنل بینک کے دفاتر اور مختلف عدالتوں اور محتسب اعلی کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر نیشنل بینک کی جانب سے کئے گئے وعدے وفا ہونے کے منتظر ہیں یہ جیتے جاگتے لوگ ہیں اگر کوئی ان کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو اللہ اس کو ہدایت دینے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جیوے پاکستان کو اس سلسلے میں جو ریکارڈ موصول ہو رہا ہے اسے سلسلہ وار شائع کرکے انتظامیہ تک پہنچایا جائے گا تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ کسی کی حق تلفی نہ ہو اور اس سلسلے میں انصاف ہو سکے ۔اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہے اس کا دعوی جھوٹا ہے اس کی دستاویزات جعلی ہیں اور وہ فراڈ کر رہا ہے تو اسے بھی ہر حال میں اپنے انجام تک پہنچانا چاہیے نیشنل بینک کا پورا ایک شعبہ اس سلسلے میں

ریکارڈ کیپنگ کرتا ہے اس کے پاس تمام ملازمین کا مکمل ریکارڈ اور ڈیٹا موجود ہے جو لوگ ملازمت کر رہے ہیں ان کا ریکارڈ بھی ہے اور جو وفات پا چکے ہیں ان کا ریکارڈ بھی ہے پھر یونین کے پاس بھی تمام صوبوں میں اپنے دفاتر میں ریکارڈ موجود ہے وفات شدہ ملازمین کی اولادیں اپنے ساتھ اپنے والدین کا ریکارڈ رکھتی ہیں اور اپنا ریکارڈ اور دستاویزات پیش کرنے کے لئے تیار ہیں لہذا اس معاملے کو ٹالا نہیں جا سکتا اسے سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا چاہیے اگر کسی نے ماضی میں فراڈ کیا ہے کسی کا حق مارا گیا ہے یا کسی کو انصاف نہیں ملا اور موجودہ صدر نیشنل بینک عارف عثمانی ایک خوف خدا رکھنے والے انسان

ہیں تو انہیں اس معاملے میں انصاف پسندی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی تعامل نہیں ہونا چاہیے ۔اگر لوگوں کے دعوے سچے ہیں تو ان کو حق ملنا چاہئے اگر لوگوں کے دعوے جھوٹے ہیں تو انہیں اس فراڈ کی سزا ملنی چاہیے لیکن اس معاملے کو یوں ہی ہوا میں معلق نہیں رکھا جا سکتا اس سلسلے میں جو لوگ ملازمت کے منتظر ہیں اور دستاویزات کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں انہیں بلانا چاہیے سننا چاہیے ان کے ریکارڈ کا جائزہ لینا چاہیے

یہ لوگ وزیراعظم عمران خان سے بے حد توقعات لگائے بیٹھے ہیں تحریک انصاف کے دور میں انہیں انصاف ضرور ملے گا جنرل مشرف سے لے کر آصف زرداری اور نواز شریف کے دور تک نیشنل بینک وفات شدہ ملازمین کے بچے اس سلسلے میں اہم پیشرفت کے منتظر ہیں ان کی رہنمائی کون کرے گا ان کے ساتھ سچ کون بولے گا اور ان کو انصاف کون دے گا کیا اس سلسلے میں آواز اٹھانا صدرنیشنل بینک عارف عثمانی کی کردار کشی کہلائے گا ؟