پاکستان میں فیملی پلاننگ کے لیے ماڈرن طریقوں اور مختلف مصنوعات کے استعمال میں نمایاں اضافہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں فیملی پلاننگ کے لیے سرگرم سرکاری اور نجی شعبے کی اہم شخصیات کا بتانا ہے کہ پاکستان میں فیملی پلاننگ کے لیے ماڈرن طریقوں اور مختلف مصنوعات کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ سرکاری اور نجی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اپنا نیٹ ورک بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید طریقوں اور مصنوعات کے حوالے سے عوامی شعور اور آگاہی کا فروغ ہے ۔حالیہ برسوں میں پاکستان کے طول و عرض میں شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں دیہاتوں اور غریب کچی بستیوں پسماندہ علاقوں میں رہنے والی خواتین تک فیملی پلاننگ کی خدمات کو پہنچانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی فیملی پلاننگ کے حوالے سے بہتر آگاہی فراہم کی جا رہی ہے ان کوششوں اور اقدامات کے بہتر مثبت اور انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں وہ تمام ادارے تنظیمیں اور افراد قابل تعریف ہیں جنہوں نے کرونا وبا کے مشکل دنوں میں بھی اپنے کام کو پوری لگن محنت اور جذبے کے ساتھ جاری رکھا اور اپنی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈال کر ہم وطنوں تک فیملی پلاننگ کی خدمات دستیاب بنائی ۔یقینی طور پر یہ کوئی معمولی بات نہیں اس حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر فیملی پلاننگ کی خدمات کی فراہمی جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا تھا عالمی اہداف کے حصول میں سارے ملکوں کو مشکلات درپیش ہیں کیونکہ کرونا کی وبا نے ہر جگہ اپنا اثر دکھایا ہے اور معمول کی زندگی اور معاملات کو بری طرح متاثر کیا ہے پاکستان میں بھی اس وبا نے بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں اس کے باوجود ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی رفتار پر قابو پانے کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کے شعبے میں ہونے والی کوششیں جاری ہیں ۔شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ دینے اور اس مقصد کے لیے ماڈل طریقے اور مصنوعات کے استعمال سے روشناس کرانے کے لیے جاری پروگرام کافی کامیاب نظر آتے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں فیملی بنانے کے لیے زیادہ وسائل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عملے کی تربیت ،ہسپتالوں کلینک میں بہتر سہولتوں کی فراہمی پر کام کر رہی ہیں نجی شعبہ بھی حکومت کا ہاتھ بٹا رہا ہے مختلف این جی اوز کا کردار نمایاں اور قابل ستائش ہے جن میں فیملی پلاننگ اسوسی ایشن آف پاکستان ،گرین اسٹار سوشل مارکیٹنگ ،ڈی کے ٹی ،ماری اسٹاپس سوسائٹی نمایاں کام انجام دے رہی ہیں ان کے علاوہ بھی مختلف بین الاقوامی اور علاقائی اور ملکی این جی اوز بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں پاکستان دنیا میں زیادہ آبادی والے ملکوں میں پانچویں نمبر پر آ چکا ہے دنیا کے ملکوں میں آبادی عام طور پر ساٹھ سال میں ڈبل ہوتی ہے لیکن پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح اتنی بلند ہے کہ ماہرین کے مطابق اگلے تیس سال میں پاکستان کی آبادی ڈبل ہو جائے گی لہذا سال 2030 اور سال 2050 میں پاکستان کی آبادی دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہوسکتی ہے لیے عالمی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ پاکستان اپنی آبادی میں تیز رفتار اضافے کو کیسے کم کرتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں آبادی کے دباؤ سے پیدا ہونے والے مسائل اور وسائل کے حوالے سے درپیش چیلنجوں سے عوام الناس کو آگاہ رکھا جائے ان کے اور آگاہی بڑھائی جائے حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کریں شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ کے لیے ضروری آگاہی کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ میں مددگار ثابت ہونے والی مصنوعات تک ان کی رسائی اور ان مصنوعات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اس سلسلے میں خدمات کی فراہمی پر توجہ دی جائے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں فنڈ میں اضافہ کریں تربیتی سیشن بڑھائے جائیں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر شادی شدہ جوڑے تک ان خدمات اور مصنوعات کی فراہمی ممکن ہو اور لوگ باآسانی ان مصنوعات تک رسائی حاصل کرسکیں انہیں استعمال کرسکیں اور پورے ملک میں ماں اور بچے کی صحت کو بہتر اور محفوظ بنانے کے لیے کام کیا جائے پاکستان میں دیگر ملکوں کی طرح فیملی پلاننگ کے لیے جدید اور ماڈرن طریقے اور مصنوعات کا استعمال آسان اور ان کی دستیابی یقینی بنائی جائے فیملی پلاننگ کے لیے خواتین کو کھانے والی گولیوں سے لے کر ،‏IUDs اور انجکشن سے لے کر Implants تک مختلف مصنوعات کے استعمال سے روشناس رکھنا اور ان کی مصنوعات اور خدمات کو یقینی بنانا ضروری ہے اسی طرح مردوں کے لئے تولیدی صحت کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کرنا اور کنڈوم سمیت دیگر موڈرن طریقوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے مفید ہے صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ماں کی صحت اچھی ہو ۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس سلسلے میں لیے جانے والے سوموٹو ایکشن کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل پا چکی ہیں صوبہ کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کے لیے ورکنگ گروپ بھی کام کر رہے ہیں صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے لے کر وزرا اعلی تک سبھی اس سلسلے میں ان بورڈ ہیں میڈیا میں بھی اس اہم اور حساس معاملے کی بھرپور کوریج اور کھلے عام اس موضوع پر بات کرنا اور لوگوں کو شعور پر آگاہی دینا ضروری ہے ۔اس سلسلے میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کافی کام ہو رہا ہے اور جو ادارے تنظیمیں اور افراد اس کام سے جڑے ہوئے ہیں ان کی خدمات قابل قدر اور قابل تحسین ہیں۔
———————————————–
Salik-Majeed—————-jeeveypakistan.com—-report
—whatsapp—–92-300-9253034