پرچی میرے پاس آگئی ہے سندھ اسمبلی کا اجلاس

کراچی (نامہ نگار خصوصی )سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کواسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔کارروائی کے آغاز میںبحریہ ٹاون میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی گئی اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ اربوں روپے نقصانات کے ازالے کی استدعا کی گئی ۔ارکان کا کہنا تھا کہ کئی افراد کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی پر جس قسم کے واقعات ہورہے ہیں وہ تشویشناک ہیں ۔پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ امید ہے وزیراعلیٰ سندھ اس معاملے پر پالیسی بیان دینگے۔ایوان میںٹرین حادثے میں جاںق افراد کے ایصال ثواب کے لئے دعا مانگی گئی اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاکی گئی۔
ایوان نے کینڈا میں پاکستانی نژاد فیملی کے افراد کی ہلاکت پر اظہار افسوس اور ایصال ثواب کے لئے دعاکی ۔اجلاس میںکورونا وباءسے جاں بحق افراد کے لئے بھی دعاکی گئی ۔
اجلاس میںعلامہ سعد حسین رضوی کی جلد رہائی کے لئے دعاکی استدعا کی گئی ۔اجلاس کی تاخیر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے اسپیکر آغا سراج درانی سے کہا کہ
اسپیکر صاحب اپ وقت پر آجاتے ہیں مگر حکومتی ارکان وقت پر نہیں آتے ۔خرم شیرزمان نے حکومتی بینچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کہیں یہ بھی وقت پر آجایا کریںکیونکہ ٹیکس کا پیسہ ضائع ہوتا ہے۔اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے کہا کہ یہ تین روز سے احتجاج کرکے ٹیکس کا پیسہ ضیاع کررہے ہیں ان کو بھی احساس ہونا چاہیے۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی )پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات یوسف بلوچنے کہا ہے کہ گڈاپ میں جتنی بھی غیر قانونی فیکٹریاں موجود ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔حکومت سندھ نے 200 غیر قانونی فیکٹریاں بند کی ہیں۔انہوں نے یہ بات منگل کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ماحولیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہا کہ غیر قانونی فیکٹریاں حکومت سندھ کی نالائقی کی وجہ سے کھلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
میں شراب کی دکان پر گیا وہاں رش تھا،پورا شہر بند تھا لیکن کورنگی شراب کی دکانیں کھلی تھی جس پر وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ خرم شیرزمان کو زیب نہیں دیتاکہ وائن شاپ جائیں۔مکیش کمار چاﺅلہ کی اس بات پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیا نے کہا کہ پارلیمانی سیکریٹری کو ایوان میں جواب دیناچایئے ۔جس پر یوسف بلوچ نے کہا کہ پرچی میرے پاس آگئی ہے سوال کا جواب دے سکتاہوں ۔ ٹی ایل پی کے رکن اسمبلی مفتی قاسم فخری نے سوال کیا کہ غیرقانونی فیکٹری کب سے قائم ہیں اور کتنی غیرقانونی فیکٹریوں کے خلاف حکومت نے ایکشن لیا جس پر پارلیمانی سکریٹری یوسف بلوچ نے کہا کہ جہاں سے شکایات موصول ہوتی ہیں ہم ایکشن لیتے ہیں۔پارلیمانی سکریٹری ماحولیات نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سندھ بھر میں 38ہزار گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے کارروائی کی جاتی ہے ۔ان گاڑیوں کے چالان کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ای پی اے کے ریجنل دفاتر موجود ہیں۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے دریافت کیا کہ 50لاکھ گاڑیوں کی فٹنس کا نظام کیوں نہیں لایا جارہا۔جس پر وزیر ایکسائز مکیش کمار نے کہا کہ سندھ میں 40لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور
فٹنس سرٹیفکیٹ لوڈنگ گاڑیوں کا ہوتا ہے۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے کئی نجی بل منظور ی کے لئے پیش کئے گئے لیکن حکومت کی جانب سے ان بلوں کی مخالفت کے باعث کوئی ایک بل بھی منظور نہ ہوسکاجن میں ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید کا اٹھارہ سال کی عمر والے بچوں کی لازمی شادی سے متعلق بل بھی شامل ہے۔اس بل کے ذریعے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لازمی شادی کی تجویز پیش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ مجوزہ قانون کے تحت 18سال کے بچوں کی شادی نہ کرانے پر والدین کو جرمانہ عائد کیا جائے۔وزیر اپرلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ کی مخالفت کے باعث یہ بل منظور نہ ہوسکا اور اسپیکر نے اسے مسترد کردیا ۔سندھ اسمبلی کی خاتون رکن رابعہ اظفر کی جانب سے سندھ پروہیبیشن آف میتھامیٹافائن کا غیر سرکاری بل پیش کیاگیا تھا جو بعد میں انہوں نے واپس لے لیا گیا۔ایوان نے پی ٹی آئی کی رکن ادیبہ حسن کا ایک اور نجی بل بھی رد کردیا ۔ادیبہ حسن سندھ نے چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ترمیمی غیر سرکاری بل پیش کیا اسے بھی ایوان کی جانب سے رد کردیا گیا۔بل کے تحت اتھارٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس میں کس طرح کام ہورہا ہے۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کی مخالفت کے بعد ایوان نے غیر سرکاری بل کو مسترد کردیا۔تحریک انصاف کے سعید آفریدی نے سود کے خلاف غیر سرکاری بل ایوان میں پیش کیا ، ان کا کہنا تھا کہ سود حرام ہے اس لئے یہ بل ایوان سے منظور کیا جائے۔مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ اس طرح کاسرکاری بل ہم ضرور لیکر آئیں گے فی الوقت اس کی منظوری نہیں دلاسکتے۔ایوان نے اس بل کو مسترد کردیا۔ پی ٹی آئی کے رکن فردوس شمیم نقوی نے سندھ بچوں کی شادی پر پابندی سے متعلق ترمیم کا غیر سرکاری بل پیش کیا۔ اور کہا کہ ہم نے این جی اوز کی درخواست پر بل لیکر آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرتا ہے۔
اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔وزیر اپرلیمانی امورمکیش کمار چاولہ نے کہا کہہم اس کو اس لیے مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ پہلے سے قانون میں موجود ہے۔اسپیکر نے بل کومسترد کردیا جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل پندرہ جون تک ملتوی کردیا گیا۔