کیا پی ایس او ڈوب رہا ہے شیئر ہولڈرز کا مستقبل کیا ہوگا ؟

کہنے کو تو پاکستان اسٹیٹ آئل ملک کی سب سے بڑی انرجی کمپنی ہے اسے سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس سب سے بڑا ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک ہے 3754 آؤٹ لیٹس ہیں ۔اس کے علاوہ پی ایس او کے پاس سب سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ۔کراچی سے گلگت تک کس کے پاس نو بڑی انسٹالیشن اور 23 بڑے ڈپو ہیں اور ملکی ضروریات کا 68 فیصد ذخیرہ رکھنے کی گنجائش ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان جتنا بھی بلیک اینڈ وائٹ آئل امپورٹ کرتا ہے اس کا 90 فیصد پی ایس او کے ذریعے ہو رہا ہے اور پاکستانی آئل ریفائنریز سے سب سے زیادہ مال بھی پی ایس او مارکیٹ کرتا ہے ۔پی ایس او اپنی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لئے تین اہم طریقے استعمال کرتا ہے جن میں سرکا بچنے والے آئل ٹینکرز ،ریلوے کی مال گاڑیوں کی بوگیاں ،اور پائپ لائن کے ذریعے ترسیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود پاکستان اسٹیٹ آئل تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شامل نہیں ہے بلکہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں ہے کیونکہ یہ الٹے پاؤں دوڑ رہی ہے اس کی ترقی منفی میں ہو رہی ہے یہ کمپنی سال2015 میں جہاں کھڑی تھی آج بھی وہی ہے اس کے قابل اور ذہین انتظامیہ اس کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے لے جانے کا باعث بنی ہوئی ہے گزشتہ برس اس نے ریکارڈ نقصان اٹھایا ہے صرف ایک کوارٹر میں اس کو اتنا نقصان ہوا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کسی کو اس کا تصور بھی نہیں تھا شیئر ہولڈرز پریشان ہیں انہیں زبردست جھٹکا لگ چکا ہے شیئر ہولڈرز کی ایکویٹی میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی ہو چکی ہے ۔کمپنی کے کرنٹ ایسٹ 23 فیصد سے نیچے گر چکے ہیں پھر اس کمپنی سے بہتری کی توقع کیسے رکھی جائے خاص طور پر موجودہ انتظامیہ سے ؟

پاکستان اسٹیٹ آئل کے قابل وصول واجبات بڑھتے جا رہے ہیں دسمبر 2020 میں یہ تین سو اٹھارہ ارب تک پہنچ چکے تھے 196 ارب کو صرف پاور سیکٹر سے لینے ہیں 30 ارب روپے سے زیادہ پی آئی اے اور دیگر اداروں نے دینے ہیں سوئی نادرن گیس کمپنی پر 92 ارب روپے سے زیادہ رقم قابل وصول ہے دوسری طرف پی ایس او نے 18 ارب روپے تو ریفائنریوں کو دینے ہیں مالی سال 2020 میں پی ایس او کو ساڑھے چھ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے کمال کی بات یہ ہے کہ مالی سال 2020 میں پہلے تین کوارٹرز میں 3 ارب کا منافع کمایا گیا تھا لیکن چوتھے کوارٹر میں خسارہ اس قدر زیادہ ہوا کہ سب کیے کرائے پر پانی پھر گیا 30 جون 2020 کو شئیرز میں 13،77 کا نقصان ہوا صرف چوتھے کوارٹر میں 16 ارب 40 کروڑ کا نقصان ۔۔۔۔۔کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا یہ سب کچھ موجودہ انتظامیہ کی وجہ سے ہوا ہے اب یہ جتنے بھی جواز پیش کریں وجوہات لے کر آئیں لیکن زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے ۔ماہرین کے مطابق پی ایس او کو بچانا ہے تو انتظامیہ میں بڑی تبدیلی لانی ہوگی ورنہ صاف نظر آ رہا ہے کہ پی ایس او ڈوب رہا ہے اور یہ اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی ڈبو دے گا ۔