بھارت،ایک ماہ میں خطرناک یورینیم کی فروخت کا دوسرا واقعہ، پاکستان کا شدید ردعمل

بھارت میں خطرناک تابکاری مواد یورینیم کی فروخت کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، انڈین پولیس نے 6 کلو گرام یورینیم برآمد کرلی، پاکستان نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ بھارت کے اندر جوہری مواد کی ممکنہ بلیک مارکیٹ الارمنگ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا میں لاپرواہی، کمزور ریگولیٹری و انفورسمنٹ میکانزم پر تشویش ہے، تحقیقات کی جائیں یورینیم فروخت کی کوشش کہیں عالمی امن کے خلاف مقاصد تو نہیں تھے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک ماہ کے دوران یورینیم برآمدگی کا دوسرا واقعہ سامنے آگیا، پولیس نے 6 کلو گرام یورینیم برآمد کرکے 7 افراد کو گرفتار کرلیا۔

یورینیم برآمدگی کا واقعہ بھارت کی مشرقی ریاست جھاڑ کھنڈ کے ضلع بوکارو میں پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس اب تک اس شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس نے یورینیم فروخت کی تھی۔

ایس پی چندہن جاہا نے بتایا کہ ہمیں اطلاعات ملی تھیں کہ 7 افراد یورینیم مارکیٹ میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے، اس ضمن میں تفتیش جاری ہے جبکہ یورینیم کو مزید ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات سخت تشویش کا باعث ہیں، لاپرواہی، کمزور ریگولیٹری و انفورسمنٹ میکانزم پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر جوہری مواد کی ممکنہ بلیک مارکیٹ الارمنگ ہے، پاکستان ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات پر زور دیتا ہے، جوہری مواد کو غلط سمت جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ جوہری مواد کا غلط ہاتھوں استعمال روکنے کے لیے پابند بناتا ہے، عالمی جوہری توانائی ایجنسی بھی ریاستوں کو جوہری مواد سے متعلق پابند بناتی ہے، سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 جوہری مواد سے متعلق ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سراغ لگایا جائے یورینیم کی فروخت کی کوشش اور اس کے پیچھے کارفرما عناصر کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے، یورینیم فروخت کی کوشش کہیں عالمی امن کے خلاف مقاصد تو نہیں تھے