مائیں، بیٹیاں سانجی ہوتی ہیں۔انہیں قبیلوں میں بانٹ کر قتل نہ کرو۔۔

حقوق نسواں تحریک کے حوالے سے میں ہمیشہ غیر جانب دار رہا ۔ میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ عورت اور مرد دونوں مل کر خوب صورت دنیا بناتے اور بساتے ہیں ۔ پر لطف زندگی کے لیے دونوں لازم و ملزوم ہیں، کیوں کوئی ایک دوسرے کا حق کھا کر خود اپنی دنیا ویران اور کیف آگیں زندگی کو بے کیف کرتا ہو گا۔ لہذا یہ ساری نعرے بازی ہی ہے۔ لیکن اب میری سوچ تبدیل ہو چکی ۔ آئے روز میڈیا میں رپورٹ ہونے والے عورتوں کے قتل کے واقعات پڑھ پڑھ کر اب میری رائے یہ بنی ہے کہ تیسری دنیا خاص طور پر پاکستان کی تمام عورتوں کو مل کر حقوق نسواں نہیں ” نجات عزت و غیرت مرداں” کی تحریک شروع کرنا چاہیے، یہ جو عورتیں سرے شام ٹی وی پر بول رہی ہوتی ہیں، یہ جو عورتیں ” میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں ان کو اصل مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے کہ سب مل کر ایسے مردوں کو پیغام دیں جو عزت صرف عورت اور غیرت صرف عورت کا قتل سمجھتے ہیں کو یہ سمجھایا جائے کہ،۔ خدا راہ ہمیں عزت اور غیرت کے نام پر اس بے دردی سے قتل نہ کرو۔ ہماری نسل سے نسل آدم کی بقاء ہے۔ نسل آدم کو ختم نہ کرو ۔۔ یہ عورت کے ساتھ نہیں مرد اپنے ساتھ ظلم کر رہا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل سماج کا حصہ نہ بناو ۔ عزت، غیرت اور شرم حیاح سب عورت کے لیے مخصوص نہ کرو۔ مرد کی عزت صرف عورت اور غیرت صرف عورت کو قتل کرنا ریپ کرنا نہیں، اور بھی بہت سارے کام ہیں ۔ اگر گھر اور معاشرے میں کوئی بگاڑ ہے تو اس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں۔ صرف عورت کو ہی سزا کہاں کا انصاف ہے ۔آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کے گاوں گوگڈرا کی نوجوان اور بالغ لڑکی نے اپنی پسند سے لائف پارٹنر چن لیا تو یہ اس کا مذہبی، آئینی اور اخلاقی حق تھا۔ ان ماں بیٹی کا کیا قصور جو لڑکے کی ماں اور بہن تھی کہ، عزت سے چور غیرت سے بھر پور کچھ مردوں نے مل کر ان کو نہ صرف بے دردی سے قتل کیا بلکہ لائشوں کے ساتھ کھیلتے بھی رہے ۔ ابھی یہ اندازہ نہیں کہ ان ماں بیٹی کا ریپ انہوں نے قتل سے پہلے کیا یا بعد ۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور قوم پرست طلبہ تنظیم این ایس ایف کے بانی راجہ ممتاز حسین راٹھور کے نام سے منصوب تحصیل ممتاز آباد کی حدود میں واقع نو تعمیر شدہ گھر دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔جہاں مبینہ راٹھور برادری کے مردوں کی غیرت نے گجر برادری کی جواں سال اور عمر رسیدہ خواتین کی لائشیں لٹکائی ہیں ۔ لگتا ہے ہمارے معاشرے میں غیرت اور عزت کی تان عورت پر ہی ٹوٹتی اور اسی پر جڑتی ہے۔ اب تو ہمارے معاشرے کا یہ حال ہو رہا ہے کہ عورت کو اگر معاشرے سے نکال لیا جائے تو لفظ عزت اور غیرت لغت میں بے معنی رہ جائے گا۔ غیرت کے نام پر گزشتہ تین سال کے دوران تیں ہزار تین سو سے زیادہ عورتیں بے دردی سے قتل کی گئی۔ ماڈرن سوسائٹی کی عورتیں حقوق نسواں تو مانگ رہی ہیں لیکن مظلوم دیہاتی عورت کی زندگی کی بھیک کوئی نہیں مانگ رہا۔ ان تین ہزار عورتوں کے قتل پر کوئی جلوس کوئی شور غوغا بھی نہیں ہوا اور ان میں سے بہت سارے مقدمات پر تو مردوں نے مل جل کر مٹی پا لی ہو گی۔۔حویلی کے اس کیس میں مبینہ طور پر کئی افراد نے مل کر ان ماں بیٹی کو ریپ کیا۔ بعد ازاں بے دردی سے قتل کیا۔ اس پر بھی ان کی غیرت نہیں سوئی۔ بلکہ لائشوں کو صحن کے چھت سے بے رحمی کے ساتھ ٹانگ دیا۔۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ اس لیے کیا گیا کہ سمجھا جائے عورتوں نے خود کشی کی۔ لیکن تصویر کہہ رہی ہیں کہ یہ اقدام خوف اور دہشت کا پیغام دینا تھا کہ ،اے گجرو ہماری عزت پر ہاتھ ڈالو گے تو راٹھور کی غیرت ایسا انتقام لیتی ہے ۔ عزت کیا تھی ایک جواں اور بالغ لڑکی جو اپنے پسندیدہ نوجوان کے ساتھ شادی کرنے چلی گئی جس کو ورثاء صرف اس لیے ڈولی میں ڈال کر باعزت رخصت نہیں کرنا چاتے تھے کہ راٹھور کی عزت گوارہ نہیں کرتی کہ اس کی بیٹی گجر کے گھر بیاہ کر جائے ۔ لڑکی کو لائف پارٹنر کے لیے وہی لڑکا پسند تھا ۔اس لیے اس کو ایسا کرنا پڑھا۔ ٹیکنالوجی کے سیلاب نے دنیا کی تقسیم کی تمام سرحدوں کی دیواریں توڑ دی ہیں ۔تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ، ذات پات اور برادری ازم کی اونچ نیچ میں کوئی ایسی سرحد ابھی باقی ہے جس کے بھیچ میں لوگ ابھی زمانہ قدیم کی سوچ کے دل دل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ حویلی دور دراز علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کچھ سال پہلے تک ذرائع نقل و حمل محدو تھے ۔لوگوں کا روز گار زمین داری، غلہ اور گلہ بانی تھا ۔ اس وقت برتری اور کم تری کا ترازوں بھی امیری غریبی یا پیشہ تصور ہوتا تھا۔ راٹھور غلہ بان تھے اور گجر گلہ بان ۔۔ ان دونوں پیشہ میں کوئی خاص فرق نہیں تو اونچ نیچ کیسی ۔ بڑا چھوٹا ہونے کا امتیاز کیسا ۔ یہ معیار کس نے بنایا کہ کون سا قبیلہ اعلی ذات کا ہے اور کون سا کم تر۔ کچھ عرصہ راٹھور پونچھ کے راجہ ضرور رہے ۔یہ دو تین سو سال پرانی تاریخ ہے ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ پلنگی کے ہر راٹھور کا دادا ہی راجہ رہا ہو۔ اب تعلیم اور سروسز، تجارت و فن و حرفت نے قبیلوں اور برادریوں کے سارے امتیاز مٹا دئے ہیں ۔ یہ ذات پات اور اونچ نیچ کہاں باقی رہی۔ اس قتل کا ذمہ دار بھاگنے والی لڑکی کے ورثاء اور علاقہ پولیس ہے ۔ورثاء غزت و غیرت کے نام پر جوان اور بالغ عورت کی خواہشات کا قتل کر رہے تھے۔ اس نے اپنی پسند اور مرضی کا فیصلہ کیا ۔ مذہب، قانون اور اخلاقیات نے لڑکے لڑکی کو یہ حق دیا ہے تو پھر پولیس نے مقتولین کے مردوں کو اپنی طویل میں کیوں رکھا ہوا تھا۔ اگر ایسا کرنا ضروری تھا تو اس گھر کو تخریب کاروں سے محفوظ رکھنے کے لیے اسکورٹی اقدامات کیوں نہیں کئے ۔ علاقہ پولیس یہاں کے معروضی اور موروثی حالات سے واقفیت ہونی چاہئے کہ یہاں کا اسمبلی ممبر دوچار افراد کا خون لے کر ہی اسمبلی میں جاتا ہے ۔ یہاں کے انتخاب سیاسی معرکہ آرائی نہیں راٹھور اور گجر برادریوں کے درمیان عملا میدان جنگ ہوتے ہیں۔اس گھر کی اسکورٹی نگرانی کیوں نہیں کی گئی ۔ بے شک ریاست ہر گھر پر پولیس کھڑی نہیں کر سکتی لیکن کشیدہ حالات میں اسکورٹی فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری تھی جس میں وہ مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہے۔ماں اور بیٹی کے ساتھ جو افسوس ناک، شرم ناک اور اخلاق باختہ درندگی کا واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوا اور جو تصویر شائع ہوئی اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں ۔ اس کی تو مثال ایسی ہی ہے کہ مرغی نے پڑوس میں انڈا دیا۔ مالک نے مرغی کو باندھنے کے بجائے پڑوسن کو قتل کر دیا ۔ اے غیرت کے بتو تمیں اپنی بیٹی کو روکنے پر بس نہیں چلا تو ان مظلوم عورتوں کو قتل کر دیا جن کا اس سارے واقعہ سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ کوئی واستہ نہیں تھا۔مائیں بیٹیاں سانجی ہوتی ہیں انہیں قبیلوں میں بانٹ کر قتل نہ کرو۔ چھوٹی چھوٹی باتیں درگزر کرنا سیکھو۔ اگر واقعی آپ بڑے ہو، آپ عزت و وقار والے ہو ۔اس طرح معصوم عورتوں کو قتل کر کے نہ کوئی انسان بڑا ہوتا ہے نہ کوئی خاندان، نہ کوئی قبیلہ اور نہ کوئی برادری ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جب تخریب کار یہ منصوبہ بنا رہے تھے تو راٹھور برادری کے معززین اس گھر کے پہرے دار کے طور پر کھڑے ہو جاتے جہاں یہ لرزہ خیز واردات ہوئی ۔۔۔۔۔ کمیشنر پونچھ مسعود الرحمان اور ڈی آئی جی نے جنازے میں شرکت کر کے اچھا پیغام دیا لیکن اس سے بھی اچھا پیغام عوام میں جب جائے گا جب قتل کی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا ۔ایس ایس پی حویلی شوکت مرزا کا روایتی بیان مطمئن نہیں کر رہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں،تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ لگتا ہے اس علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا ۔ گزشتہ انتخابات کے روز سرے عام فائرنگ میں کئی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ۔اب کے بار انتخابی مہم میں تلخی بھی ہو گی اور سختی بھی ۔ راجہ ممتاز فیصل راٹھور پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں جب کہ چوہدری محمد عزیز مسلم لیگ کے سنیئر رہنماء ۔ دونوں کے درمیان مقابلے کی صورت میں انتخابات نہیں فسادات کا خطرہ ہے ۔ عوام میں نفرتوں کے خاتمے کے لئے دونوں کو مل برادریوں کے نہیں سیاسی انتخابات کا ماحول بنانا چاہیے ۔ مشترکہ پریس کانفرنس کریں یا کو اجتماع تاکہ دونوں برادریوں کے افراد کے درمیان ملاقات کا اہتمام ہو محبت اور یکجہتی کا پیغام عام اور نفرتیں کم ہوں۔

بشیر سدوزئی ۔۔