آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر مسلم لیگ نون کا موقف سامنے آگیا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مسلم لیگ نون کی جانب سے پہلی مرتبہ کھل کر موقف سامنے آگیا ہے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے اس حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا ہے ایک ٹی وی پروگرام میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہم نے دینی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رائے دینی چاہیے لیکن ماضی میں جب بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی تو ملک اور ادارے دونوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔


ایک اور سوال کو شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈیل کیا ہوتی ہے ڈیل سے ملک یہاں تک پہنچا ہے ہم اپنا منہ بند کر لیں تو پھر ملک تباہی کے راستے پر جاتا ہے جب بھی اپوزیشن کی آواز کو دبایا جاتا ہے تو ملک تباہی کی طرف جاتا ہے لہذا معذرت کے ساتھ ہمارے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہے ملٹری کورٹس کے حوالے سے جب ان سے سوال کیا گیا تو سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کا قیام ایک اچھا قانون نہیں ہے لیکن اس ملک میں مخصوص حالات تھے اس لیے ہم نے پارلیمنٹ میں اس کو تین سال کے لیے بنایا تاہم اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احتساب کے سب سے بڑے حامی ہم خود ہیں مگر  سیاسی مخالفین کو دبانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت آئی ایم ایف کی وجہ سے ملک کا ہر شخص پریشان ہے ملک میں بجلی گیس اور دیگر مسائل ہیں۔