آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے ڈاکٹر آصف فرخی کی پہلی برسی کے موقع پر آن لائن پروگرام کے ذریعے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیاگیا

ادیبوں کا یوں اچانک دنیا سے چلے جانا کسی صدمے سے کم نہیں، آصف فرخی کی کمی کو کوئی پورا نہیں کرسکتا، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) آصف فرخی رگوں میں سرائیت کرنے والا آدمی تھا اس نے اپنے کام کے ذریعے سب کو متاثر کیا، ان سے ملنے والا انسان ان کا عادی ہوجاتا تھا، مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ آصف فرخی ہم میں موجود نہیں، ان کی کمی کو کوئی پورا نہیں کرسکتا،ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد شاہ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ڈاکٹر آصف فرخی کی یاد میں منعقدہ پہلی برسی کی مناسبت سے آن لائن پروگرام میں کیا ،انہوں نے کہاکہ آصف فرخی نے گیارہ سال کی عمر سے کہانیاں لکھنا شروع کیں، افسانے اور تنقید کے ساتھ ساتھ اُردو سے انگریزی ترجمہ پر بہت کام کیا، عالمی اُردو کانفرنس اورKLF میں آصف فرخی کا بڑا کردار رہا، احمد شاہ نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل نے ان کے کچھ افسانوں کو پڑھنت اور ریکارڈ کی شکل دی ہے جس کی سیریز جلد شروع کریں گے۔پروگرام کی صدارت افضال احمد سید نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سید کاشف رضا نے ادا کیے، افضال احمدسید نے صدارتی خطبہ میں کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ آرٹس کونسل نے آصف فرخی کو یاد رکھا۔ آصف کی کئی شخصیتیں تھیں جن کا انہوں نے معاشرے پر اثر ڈالا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ ان کی شاخت ان کی یاد اردو ادب میں بحیثیت افسانہ نگار ہمیشہ رہے گی۔ کامران اسدر نے امریکہ سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یقین نہیں آتا کہ آصف ہم میں نہیں رہے۔ وہ ڈاکٹر،ادیب،مدیر،شفیق والد اور ایک اچھے دوست تھے ہمیشہ ان کے ہمارے تعلق کی یادیں باقی رہیں گی۔ کرن سنگھ نے کہاکہ آصف فرخی ہمارے ہاں ادب کا پارس تھا، ان کی خوبی تھی کہ وہ خود تو کام کرتے تھے لیکن دوسروں سے کام کروانے میں ملکہ حاصل تھا۔آصف میں ایک خوبی تھی کہ ہر دوست سمجھتا تھا کہ وہ ان کے زیادہ قریب ہے، انعام ندیم نے کہاکہ میرا تعلق آصف فرخی سے بائیس پچیس برس پرانا تھا، گزشتہ پانچ برس سے آصف اور میں ایک ہی کورس پڑھاتے تھے، میں ان کی حیثیتوں سے واقف ہوں ایسا کوئی انسان نہیں جو ان کی قدر نہ کرتا ہو۔ان کا انداز بہت مختلف تھا، ان کا جو طریقہ کار تھا طالب علم ان کے پرستار تھے، وجاہت مسعودنے لاہور سے آن لائن گفتگو نے کہاکہ آصف فرخی بنیادی طور پر تخلیق اور تمدن کے انسان تھے، آصف لکھے ہوئے لفظ میں جینے والا شخص تھا، تخلیق، انتظامی سطح، دوسروں کی تخلیق کو سامنے لانے میں آصف فرخی جیسا کوئی نہیں،ان کا خلاءکبھی پورا نہیں ہو سکتا، خالد جاوید نے (دہلی سے آن لائن)گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آصف کے انتقال کی خبر انڈیا کے تمام اہل اردو کیلئے سکتے کی خبر تھی، آصف اردو ادب کے سفیر تھے، جو اب ہم میں نہیں رہے، وہ جب کسی موضوع پر لیکچر دیتے تھے وہ بہت مختلف ہوتا تھا، ان کا تنقید کا انداز سب سے منفرد تھا، غیر ملکی ادب پر آصف فرخی کی نظر نہایت گہری تھی، تنویر انجم نے کہاکہ جس وقت آصف فرخی انٹر میں فرسٹ آئے تھے اسی دور سے ان کی مقبولیت کا دور شروع ہوا۔ ادب سے جو ان کی دلچسپی تھی وہ نظر آتی تھی، عطیہ داﺅدنے کہاکہ آصف فرخی کو سندھی ادب سے بہت لگاﺅ تھا، آصف کی خوبی تھی کہ وہ تخلیقی لوگ جو منظر عام پر نہیں تھے ان کو پلیٹ فارم۔مہیا کرتے تھے، میری نظمیں وہ مجھ سے اردو میں نہیں سندھی میں ہی سنتے تھے، آصف فرخی تمام ادیبوں کو ملانے کے لیے پل کا کردار ادا کرتے تھے، فاطمہ حسن نے کہاکہ میرا آصف سے صرف ادبی تعلق نہیں تھا بلکہ ان کے والد نے مجھے بیٹی بنایا ہوا تھا، آصف فرخی فہمیدہ ریاض سے بہت محبت کرتے تھے، فہمیدہ ریاض کے انتقال کے بعد ان کی تخلیقات کو جمع کرنا ایک بہت بڑا کام تھا جو آصف نے سرانجام دیا، میرے پاس تو یادوں کا ایک ذخیرہ ہے، رکھ رکھاﺅ آصف فرخی کی تہذیبی تربیت کا نتیجہ تھا، ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہاکہ آصف فرخی کے ساتھ میں نے بہت سفر کیے ہیں، وہ سندھ کے دوردراز علاقوں میں میرے ہمسفر رہے، حمید شاہد نے کہاکہ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ ایک سال پہلے آصف ہمارے ساتھ تھے آج نہیں ہیں، لیکن پچھلے ایک سال میں جس شخص پر سب سے زیادہ پروگرام کیے گئے وہ آصف ہیں، ان کے افسانوں کی صورت میں ایک نیا تجربہ سامنے آتا ہے، جس طرح کی زبان آصف لکھ رہے تھے اس طرح کوئی اور نہیں لکھ سکتا، پروگرام میں آصف فرخی کے افسانوں کے مجموعے پر مبنی رخسانہ پروین کی کتاب “مجموعہ آصف فرخی” کی رونمائی کی گئی۔