سندھ میں ویکسینیشن میں دہرا معیار اپنایا گیا ہے ،غریب عوام دھوپ میں لائن میں لگ کر ویکسین لگوارہے ہیں،بلاول کے دوست اور امراء کو گھروں پر ویکسین لگوائی جارہی ہے

سندھ اسمبلی کی خبریں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج اوراسپیکرڈائس کا گھیراؤ کرکے شدید نعرے بازی کرنے کے باعث منگل کو پرائیویٹ ممبرڈے پرایوان کی کارروائی ایجندے کے مطابق نہیں چلاجاسکی ہے،اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے ایوان میں حکومتی اوراپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی اورنوک جھونک بڑھ جانے کے باعث کچھ ہی دیربعد اجلاس برخاست کردیا۔منگل کوپرائیویٹ ممبرڈے پرسندھ اسمبلی کا اجلاس تقریبا ڈیڈھ گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا،وقفہ دعا کے بعد ایم کیوایم پاکستان اوراپوزیشن جماعتوں کے ارکان نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔ ایم کیوایم پاکستان کے محمد حسین نے مطالبہ کیا کہ کراچی اورحیدرآباد میں کورونا اوردیگرمسائل پران کی گذشتہ روزجمع کرائی گئی قرارداد ایوان میں زیربحث لائی جائے،کورونا کے باعث کراچی اورحیدرآباد کی صورتحال پر پہلے بات کی جائے اورقرار داد پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کہا کہ ابھی وقفہ سوالات ہوگا آپ بیٹھ جائیں،آخر میں وقت دوں گا، ایم کیوایم پاکستان کے ارکان قرارداد زیربحث لانے پرمصررہے اسپیکرسندھ اسمبلی نے اپوزیشن ارکان کواپنی نشستوں پربیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے وقفہ سوالات کی رولنگ دے دی۔قرارداد پربات کرنے کی اجازت نہ ملنے پرایم کیوایم پاکستان نے ایوان میں احتجاج شروع کردیا اورشدید نعرے بازی کی ایوان میں ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی ارکان کےدرمیان نوک جھونک تلخ کلامی اورشوشرابے کے باعث ایوان مچھلی منڈی بن گیا،ایم کیوایم پاکستان کے ارکان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق تحفظات ہیں۔محمد حسین نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی آڑ میں لوٹ مار کی جارہی ہے۔اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے کہاکہ ایوان کی کارروائی ضابطے کے تحت چلے گی،میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لونگا،آپ بے شک کارروائی میں نہ شریک ہوں،میں ہاؤس کو چلاؤنگا۔ایم کیوایم پاکستان کے ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے آگئے اوراحتجاجی کتبے لہراکرایوان میں نعرے بازی کی اورکورونا ایس اوپیز کی آڑمیں حکومتی زیادتیوں کے خلاف احتجاج شروع کردیا اورشدید نعرے بازی کی ۔پیپلزپارٹی کے وزیرپارلیمانی امورمیکش کمارچاؤلہ کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیوایم والے سندھ کے پانی کےمسئلے پر احتجاج کرتےتو ہم بھی ساتھ دیتے ،یہ طریقہ نہیں بات کرنے کا،وفاقی حکومت سے ریلیف پیکج کا مطالبہ کریں ،وفاقی حکومت کو ریلیف پیکج دینا چاہیئے وہ اپوزیشن ارکان کو ماسک پہننے کی بھی تلقین کرتے رہے،اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے کہاکہ آپ ایوان کا بزنس چلانے نہیں دیناچاہتے۔اسپیکر آغا سراج درانی نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنورنوید جمیل نے کہاہے کہ کراچی حیدرآباد کو مفتوحہ علاقہ سمجھ کر کورونا ایس اوپیز کی آڑمیں لوٹ مارکی جارہی ہے اورتاجروں کوتنگ کیا جارہا ہے۔سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کنور نوید جمیل نے کہاکہ کراچی اورحیدرآباد کے مسائل پر ایم کیو ایم کی جمع کرائی گئی قرار داد پربات نہیں کرنے دی گئی۔انہوں نے کہاکہ باہر سے لائے ہوئے پولیس اہلکاروں نے کورونا کو عید کا سیزن سمجھ لیا ہے،ایس اوپیز کی آڑمیں تاجروں اورشہریوں کو تنگ کیا جارہا ہے،پیرکے روز سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر نے قرار داد آتے ہی اجلاس ملتوی کردیا اورآج منکل کے روز پرائیویٹ ممبرڈے پربھی بات نہیں کرنے دی گئی اسپیکر ان سوالات پر بات کرنا چاہتے تھے جو 2017 میں جمع کروائے گئے تھے،اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ کورونا کراچی حیدرآباد میں ہے،لوگ مسائل کا شکارہیں ہم کراچی کے لیے ریلیف پیکیج کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے لیکن اجلاس ملتوی کرکے ہماری آوازدبائی نہیں جاسکتی ہے،ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،حکمران کراچی حیدرآباد کو بھی سندھ کا حصہ سمجھیں،اس کو مفتوحہ علاقہ نہ سمجھا جائیں،کورونا کے زریعے جیبیں خالی نہ کرائیں،لاک ڈاؤن سے متعلق ہمارے تحفظات ہیں لاک ڈاؤن کی آڑ میں لوٹ مار کی جارہی ہے۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر)تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہاہے کہ سندھ میں ویکسینیشن میں دہرا معیار اپنایا گیا ہے ،غریب عوام دھوپ میں لائن میں لگ کر ویکسین لگوارہے ہیں،بلاول کے دوست اور امراء کو گھروں پر ویکسین لگوائی جارہی ہے،سندھ میں کتے بچوں کو کاٹ رہے ہیں مگرحکومت سندھ کے پاس اس کی ویکسین ہی نہیں ہے۔وہ سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔خرم شیرزمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اقدامات کے تحت رواں سال کے اختتام تک سات کروڑ سے زائد عوام کو ویکسین لگوادی جائے گی ،سندھ میں ویکسینیشن میں دہرا معیار اپنایا گیا ہے غریب عوام دھوپ میں لائن میں لگ کر ویکسین لگوارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں کتے بچوں کو کاٹ رہے ہیں،مگر سندھ میں کتوں کے کاٹے کی ویکسین موجود نہیں ہے،چونتیس ارب روپے سوشل پروٹیکشن کے ذریعے عوام میں تقسیم کیے جانے تھے ،یہ پیسے سندھ میں کہاں گئے کسی کو نہیں معلوم۔ خرم شیر زمان نے کہاکہ زرداری اور بلاول نے سندھ کے لوگوں کو ٹھینگا دیا ہے،آج زراعت کے شعبے میں بہتری ہوئی ہے،پنجاب کے وزیر اعلیٰ جواب دے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیرآبپاشی سہیل انور سیال نے کہاہے سندھ میں پانی کی قلت 49 فیصد تک پہنچ گئی ہے،سندھ میں بیراجوں کے پانی پرچوری ثابت نہیں ہوئی ہے۔ وہ سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔سہیل انورسیال نے کہاکہ پنجاب میں پانی کی قلت 38 فیصد ہے اورسندھ میں یہ قلت 49.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے،گڈو بیراج پر 64 فیصد پانی کی قلت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سے آئے ہوئے افسرکے جائزے کے بعد بیراجوں پر کوئی پانی کی چوری ثابت نہیں ہوئی ہےہم نے ثابت کردیا چوری نہیں کررہے ہیں،بین الاقوامی قانون پر بھی پنجاب پانی کی قلت سندھ پرڈال دیتا ہے،57ہزار کیوسک پانی کی قلت بنتی ہے،ہمارے ساتھ فراڈ کیا جارہاہے،ٹی پی لنک بیراج بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ٹیلی میٹر سسٹم کے ذریعہ پانی کی تقسیم یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہاکہ پانی چوری یا پانی کی قلت کی شکایات کے لیےہم نے ویب سائٹ پرشکایتی سیل قائم کردیا ہے،واٹس ایپ نمبرپربھی شکایات بھیجی جاسکتی ہیں اگرکہیں کوئی چوری ہورہی ہے تو ہمیں بتائیں۔انہوں نے کہاکہ میں کوٹری بیراج دریا پر بیٹھ کر پریس کانفرنس کروں گا۔پانی کی قلت سے 30.8 ملین ایکٹر ہمیں نقصان دے رہے ہیں ،رائس کینال میں پانی کی قلت ہے ،یہ جو تاثر دیا جاتا ہے کہ زرداری فیملی پانی لیتی ہے یہ غلط ہے،وہاں پر پانی ابھی تک زیرو ہے،شکار پور کا ایشو بعد میں ہوا تھا پانی کی قلت کا مسئلہ پہلے سے موجود ہے۔انہوں نے کہاارسا کہتا ہے کہ پانی بڑھا دیا ہے جبکہ سندھ میں پانی کی قلت اور بڑھ گئی ہے۔