مسافت

سوا سو میل کی اس ہولناک مسافت میں خالد بن ولید ؓکے لشکر پہ کیا گزری۔ یہ انسان کی جنگی تاریخ کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک ہے۔ اس قدر تعجب خیز اور ہولناک کہ مورخ کا قلم کانپ اٹھتا ہے۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ شمال میں سورج کی تمازت بڑھ گئی ہے ۔ بلند و بالا کوہساروں پہ برف زیادہ تیزی سے پگھلنے لگی ہے۔ مئی میں آفتاب کی حرارت کم رہی۔ چنانچہ پانی کی فراہمی تیس فیصد کم ہو گئی۔ اب خسارہ صرف 15فیصد ہے۔ امکان یہ ہے کہ چند دنوں میں برائے نام رہ جائے گا۔ دریائوں کی سطح بلند ہو گی تو زہریلے بیانات لہروں کے مدوجزر میں ڈوب جائیں گے۔اچھے اور برے وقت آتے ہیں۔آدمی کا اسی میں امتحان ہوتا ہے۔ جو گھبرا اٹھیں ،آفت ان پر اترتی ہے اور آسانی سے ٹلتی نہیں۔ جو صبر سے کام لے سکیں رفتہ ‘رفتہ زندگی کی شاہراہ ان پہ کشادہ ہونے لگتی ہے۔ باقی صدیقی نے کہا تھا: نہ شاخ گل ہی اونچی ہے نہ دیوار چمن بلبل تری ہمت کی کوتاہی‘ تری قسمت کی کشتی ہے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے آسمان سر پہ اٹھائے رکھا کہ ان کے حصے کا پانی پنجاب نے ہڑپ کر رکھا ہے۔ حقائق حکومت پنجاب نے واضح کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا کے نقارخانے میں دب کر رہ گئی۔ پیشکش کی گئی کہ سندھ کے انجینئر پنجاب میں پانی کے بندوں کا معائنہ کر لیں۔ مہربانی فرما سکیں تو پنجاب کے ماہرین کو سندھ کا جائزہ لینے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ واںفریاد کی لے پیہم بلند ہوتی گئی، مارے گئے‘ لوٹے گئے‘ برباد کر ڈالے گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر چار برس کے بعد پانی کی رسد کم ہو جاتی ہے۔ تھوڑی سی نہیں‘ بیس تیس فیصد کم۔ پاکستان بنا تو کل آبادی سوا تین کروڑ تھی‘ اب تئیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ رفتہ رفتہ سندھ کے ریگ زار آباد ہوتے گئے۔ خطے میں جاگیرداروں کی جلوہ گری ہے۔ صنعت نہ بڑے پیمانے کا کاروبار ‘ دیہی سندھ میں معیشت کا تمام تر انحصار زراعت پہ ہے۔ اس پر ستم یہ کہ پنجاب کے برعکس یہاں بے دریغ پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ زرعی اصطلاح میں اسے طوفانی آبپاشی Flood Irrigationکہا جاتا ہے۔ پانی ہر کہیں ضائع ہوتا ہے۔ کچھ زمین جذب کر لیتی ہے اور کچھ بخارات بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ یہ حل پنجاب میں اس کا تلاش کیا گیا کہ نہروں اور کھالوں کو پختہ کیا جائے۔ سندھ میں ایک بے نیازی ہے کہ مستقل اور متواتر ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروںکا حربہ یہ ہے کہ پانی کم پڑے تو شور مچایا جائے۔ اس قدر ہنگامہ کہ لاہور اور اسلام آباد کے اعصاب ٹوٹنے لگیں۔ پنجاب میں پانی کا زیاں چھ فیصد اور یا للعجب سندھ میں تیس سے چالیس فیصد ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قابل کاشت اراضی کا ایک حصہ سیم و تھور کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب کا جنوب بھی قبائلی رنگ ڈھنگ میں ڈھلا ہے مگر سندھ میں قدامت پسندی اور بھی سواہے۔ مؤرخ ٹائن بی کے بقول‘ برصغیر کے المیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ماضی میں وہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ الزام یہ تھا کہ اعداد و شمار میں ہیرا پھیری ہے۔ سندھ کے انجینئرز نے پرسوں پنجند بیراج کا دورہ کیا۔ ارسا کے اعداد و شمار کو درست پایا۔پنجاب کے ماہرین کل گدو پہنچے تو حیران رہ گئے ۔کوئی ایکس ای این اور نہ ایس ڈی او‘ ایک صوبیدار صاحب براجمان تھے۔ پانی کی سطح اور اخراج ماپنے کے آلات غائب ۔ آویزش انگریزی عہد سے چلی آتی تھی۔صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا حتمی معاہدہ‘1991ء میں ہوا ۔ سندھ کی نمائندگی جام صادق اور پختون خوا کی امیر افضل نے کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے طے کر رکھا تھا کہ مصالحت کر لی جائے اور کسی بھی قیمت پر۔ چنانچہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ کو بیس فیصد زیادہ فراہمی پر آمادگی ظاہر کی۔ شرط یہ تھی کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر وہ صاد کر دیں۔ سمجھوتے کی چودھویں شق میں لکھا ہے’’ اور ایک ڈیم تعمیر کیا جائے گا‘‘ مراد اس سے کالا باغ ڈیم تھا۔ دونوں وزراِ اعلیٰ نے مگر یہ کہا کہ ڈیم کا نام نہ لکھا جائے۔ اپنے عوام کو خوش خبری سنا کر بتدریج ماحول کو وہ سازگار بنائیں گے؛تاآنکہ ایک دن پانی کے اس ذخیرے کا سنگِ بنیاد رکھ دیاجائے۔ ساٹھ لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ۔ یہ الگ بات کہ اپنا وعدہ وہ ایفا نہ کر سکے۔ یہی نہیں، بلکہ سندھ اور پختون خوا کی اسمبلیوں نے ڈیم کے خلاف قرار دادیں منظور کیں۔ ہمیشہ کے لیے راستہ ہی روک دیا،اندمال کا جس پہ انحصار تھا۔ کبھی کبھار بارشوں کے سوا پاکستان میں پانی کا پورا بہاؤ صرف تین ماہ کو محیط ہوتاہے۔ جون، جولائی اور اگست۔ باقی آٹھ نو ماہ کے لیے آب رسانی کی ضمانت پانی کے بڑے بندوں کی تعمیر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ تربیلہ اور منگلا کی تعمیر کو نصف صدی بیت گئی۔ راوی اور بیاس کو مکمل طور پر بھارت کے سپرد کرنے کے بعد طے یہ پایا تھا کہ پانی کے بند بنائے جائیں گے۔سندھ، چناب اور ستلج سے ان زرعی زمینوں کے لیے نہریں کھدیں گی، راوی اور بیاس سے جو سیراب ہوتی ہیں۔ ساہیوال تک کا علاقہ راوی کے رحم و کرم پہ تھا۔ ادھر بہاولپور ڈویژن میں بیاس کا پانی صحرائی کھیتوں کی پیاس بجھاتا۔ افتاد ایک گھر پہ اترتی ہے، ایک لشکر اور ایک قوم پر بھی۔ یہ مئی 534ء کے آخری ایا م تھے، ایران میں حیرہ کے مقام پر اسلامی لشکر کے سربراہ کو ایک پیغام ملا’’عتیق بن ابوقحافہ کی طرف سے خالد بن ولید کے نام‘‘ میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ جاؤ اور اب رومیوں کے خلاف لڑو۔ دیکھو!سستی میں ہرگز مبتلا نہ ہونا۔ یاد رکھو، تمام فضل و کرم کا مالک اللہ ہے او روہی اعمال کا صلہ دیتاہے۔ روم کے چند شہر ہی مسلمانوں نے نے فتح کیے تھے۔مدینہ میں اچانک پھر خبر پہنچی: بصرہ اور جابیہ میں وہ ایک طوفان کا سامنا کرنے والے ہیں۔ ایک عظیم رومی لشکر بڑھتاآرہاتھا۔ اتنا بڑا لشکر کہ عرب افواج نے کبھی جس کاتصور تک نہ کیا تھا۔ ایران سے بلادِ شام کو جانے والی دو معروف گزرگاہیں تھیں۔ ایک دومتہ الجندل سے جانے والا جنوبی راستہ۔ رکاوٹ کوئی نہ تھی مگر طوالت بے پناہ۔ ادھر مدینہ سے تعجیل پہ اصرار تھا۔ دوسرا دریائے فرات کے کنارے شمالی راستہ۔اس میں مگر جگہ جگہ ایرانیوں ا ور پھر رومیوں سے مڈبھیڑ کا اندیشہ تھا۔ کمانڈروں نے کہا کہ کسی تیسری راہ سے وہ واقف نہیں۔ خالد بن ولیدؓ نے مگر تہیہ کر رکھا تھا۔ مشہور جنگجو رافع بن عمیر نے اچانک کہا: ایک راہ مجھے معلوم ہے، جو عین التمر اور مضیح کے راستے قرا قر پہنچا سکتی ہے۔ البتہ واضح کہا کہ ایک اکیلا مسافر بھی جان کی بازی لگا کرہی اس بے آب و گیاہ صحرا کو عبور کر سکتاہے۔ پانی کادور دورتک نام نہیں۔ سوا سو میل کی اس ہولناک مسافت میں خالد بن ولیدؓ کے لشکرپہ کیا گزر ی۔یہ انسان کی جنگی تاریخ کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک ہے۔ اس قدر تعجب خیز اور ہولناک کہ مورخ کا قلم کانپ اٹھتا ہے