مزاحمتی صحافت جنگ و جیو گروپ کا طرہ امتیاز تھی ” انا لله وانا اليه راجعون “

مزاحمتی صحافت جنگ و جیو گروپ کا طرہ امتیاز تھی ” انا لله وانا اليه راجعون ”


حامد میر کے حوالے سے جنگ اور جیو گروپ نے جو اقدام اٹھایا ہے اس پر صحافی تنظیموں اور مختلف صحافیوں کی جانب سے جنگ اور جیو گروپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔
سوشل میڈیا پر جنگ اور جیو گروپ کی مزاحمتی صحافت کی تاریخ کے حوالے سے تبصرے آرہے ہیں جن میں جنگ اور جیو گروپ کے تازہ اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔
دوسری طرف صحافی اسد طور جن پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حامد میر نے پرجوش تقریر کی تھی ۔انہوں نے پاکستان کی نامور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جب تک جیو انتظامیہ حامد میر کو واپس نہیں لے آتیں وہ ان کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کا بائیکاٹ کریں ۔
واضح رہے کہ جیو گروپ نے حامد میر کو جبری رخصت پر بھیج دیا ہے اور ان کی جگہ ان کا پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
حامد میر نے بھی کہا ہے کہ وہ ہر قسم کی صورتحال اور نتائج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں سوشل میڈیا پر حامد میر کے حق میں اور ان کی مخالفت میں دونوں طرح

کے تبصرے آ رہے ہیں خود حامد میر نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
صحافی حلقوں میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا حامد میر نے جنگ اور جیو گروپ کا پلیٹ فارم استعمال کیا تھا ؟اگر انہوں نے اپنے پروگرام میں یا اپنے کالم میں کوئی سخت بات کی تھی تو پھر انتظامیہ کا ایکشن درست ہوتا _لیکن ایک ہی جلسے یا احتجاجی ریلی میں اگر حامد میر نے کوئی باتیں کی ہیں تو یہ ان کی ذاتی رائے ہے اس پر جنگ جیو گروپ کی انتظامیہ دباو میں کیوں آئی ۔
دوسری طرف بعض صحافیوں نے دلائل دیے ہیں کہ بی بی سی اور سی این این سمیت مختلف عالمی اداروں میں ایسا ہوتا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اگر آپ کسی ملازمت کے کنٹریکٹ میں ہوتے ہوئے کوئی ایسی بات کریں جس سے ادارہ کے مفادات یا پالیسی کو نقصان پہنچے یا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ ادارے آپ کو ملازمت سے فارغ کر دیتے ہیں ۔
لیکن سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اتنے آئیڈیل حالات

اور اتنے مثالی معاہدے نہیں ہیں ہمارے صحافی بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ہے اور آزادی صحافت مشکل دنوں سے گزر رہی ہے ۔یہاں ہر کسی کی آزمائش ہو رہی ہے

۔عوام کو باہر سچ جاننے کا حق حاصل ہے اور انہیں سچ بتانے سے روکنا نہیں چاہیے

پاکستان کے آئین میں جو آزادی اور حقوق دیے گئے ہیں ان کا احترام ہونا چاہیے