سابق وزیراعظم محمد نوازشریف بھی حامد میر پر عائد پابندیوں کیخلاف بول اٹھے


پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی سینئر صحافی حامد میر پر عائد پابندیوں کیخلاف بول اٹھے، انہوں نے کہا کہ حامد میر پر تازہ ترین وار ہو، صحافیوں کا قتل، اغواء یا پھر زد وکوب کرنا شامل ہو، فسطائیت کی جانب سے پاکستان کا وجود خطرے میں ڈالنے سے قبل اس کا راستہ روکنا ہوگا۔
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حامد میر پر تازہ ترین وار ہو، سلیم شہزاد کا قتل، ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ، مطیع اللہ جان اور گل بخاری کا اغواء یا احمد نورانی، اسد طور، عمر چیمہ، بلال فاروقی اور اعزاز سید کو زد و کوب کرنا، اس سے پہلے کہ فسطائیت پاکستان کا وجود خطرے میں ڈال دے، ہمیں اس کا راستہ روکنا ہو گا! اسی طرح سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ حامد میر صاحب کے پروگرام پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اپنے لیے مزید مشکلات اور مسائل کو جنم دینا ہے۔
اس سے آگ بجھے گی نہیں بلکہ مزید بھڑکے گی۔ مگر کون سمجھائے؟ دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آئینی آزادیوں کے قتل کی تیاری ہے فسطائیت کو قانون کا نام دے کر مسلط کرنے کی مذموم سازش کی جارہی ہے۔ میڈیا اتھارٹی غیرآئینی اور آئین کے آرٹیکل 19 کے ساتھ متصادم ہے۔ ہم عمران صاحب کی کالی حکمرانی کی طرح ان کا کالا قانون مسلط نہیں ہونے دیں گے۔
آج نیشنل پریس کلب میں اس آمرانہ کالے قانون کے حقائق عوام کو بتائے جائیں گے۔ میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ اوررائے کی آزادی کے بنیادی حق کے فروغ کا قانون لانے کی بجائے کالا قانون بنایا جا رہا ہے پارلیمنٹ کو تالا لگا کر عمران صاحب اب اظہاررائے کے حق کا گلا کاٹنے کے لئے چھری تیز کررہے ہیں۔

https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2021-05-31/news-2818263.html