”نہ“ کا مطلب ”نہ“ ہے!

گرل فرینڈ ہو،?  ورکرہو یا آپ کی بیوی کیوں نہ ہو، ”نو“ کہے تو رک جائو

کراچی میں شیر خان نامی نام نہاد سورما کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والی اداکارہ اور ماڈل فرح نظام کی کہانی بالی ووڈ کی مقبول فلم پنک سے ملتی جلتی ہے، جس میں آزاد خیال لبرل لڑکیوں کو صرف اس بنا پر ہراسمینٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ لڑکوں کی طرح رات دیر تک شہر میں گھومتی ہیں۔ مردوں کی طرح ملازمت کر کے اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے والی لڑکیوں اور خواتین کو جرائم پیشہ لوگ آسان ہدف سمجھ کر اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ شوبز سے وابستہ خواتین تو اس سے بھی بدتر اور کمزور ترین پوزیشن میں ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ زیادتی یا تشدد کا اگر کوئی واقعہ پیش آئے تو معاشرہ اور ادارے ان کو انصاف دلانے کے بجائے توہین آمیز رویہ اپناتے ہیں۔ انصاف دینے کے بجائے ایسی خواتین کے لباس سے لے کر رہن سہن کے اطوارتک کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسے ہر طنز کی تان اس جملے پر ٹوٹتی ہے کہ ”اب بھگتو!“ اس جاہلانہ طرز عمل کے باعث جرائم پیشہ ذہنیت رکھنے والے لوگوں ہی نہیں بلکہ عام مردوں کو بھی ایسی خواتین کے خلاف جرم کرنے کی شہہ ملتی ہے۔ اداکارہ فرح نظام کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور اسے انصاف ملنا چاہیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں