63

ضلع بلدیہ غربی اور صوبائی محکمہ بلدیات کے درمیان سرد جنگ کا آغاز

کراچی-صوبائی وزیر بلدیات سندھ کے فوکل پرسن رحمت اللہ شیخ کی ضلع بلدیات میں بے جا مداخلت کے سبب ایک بار پھر ضلع بلدیہ غربی اور صوبائی محکمہ بلدیات کے درمیان سرد جنگ کا آ غاز ہوگیا ہے ۔صوبائی محکمہ بلدیات کے قریبی زرائع کے مطابق 7روز قبل سپرٹینڈنٹ انجینئر ضلع غربی معشوق راجپر معیاد ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوگئے جس کے بعد چیرمین بلدیہ غربی اظہار احمد خان نے میونسپل کمشنر وسیم سومرو کی باہمی مشاورت کے بعد قانون کے مطابق گریڈ 19 کے انجینئر (سول) مقصود بدرالدین کو تعیناتی کی این او سی جاری کرتے ہوئے سیکریٹری بلدیات سندھ سے تحریری درخواست کی تھی کہ مقصود بدرالدین کو سپرٹینڈنٹ انجینئر ضلع گربی تعینات کیا جائے ،مقصود بدرالدین اس سے قبل ضلع غربی کے مختلف زونز میں بحیثیت ایکس ای این فرائض انجام دیتے رہے ہیں زرائع کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات کوآرڈینیٹر رحمت اللہ شیخ نے منتخب چیئرمین کی درخواست رد کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مقصود بدرالدین کی بجائے ضلع شرقی میں تعینات انجینئر شاہد چوھدری کو سپرٹینڈنٹ انجینئر ضلع غربی تعیناتی کے احکامات جای کردیے جس کے باعث ضلعی بلدیات اور صوبائی محکمہ بلدیات کے درمیان نیا تنازعہ کھڑا ہورہا ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی رحمت اللہ شیخ کی خواہش پر شاہد چوھدری کو اس وقت ایس ای غربی تعینات کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جب ایس ای غربی معشوق راجپر عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں رخصت پر تھے واپسی پر معشوق راجپر کو ان کے عہدے کا چارج لینے سے روکنے کی کوشش کی گئی اور یہ تنازعہ اتنا بڑھا کہ سندھ میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت تک جاپہنچا اور پیپلزپارٹی کی بااثر ترین مرکزی خاتون رہنماء کو اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی معتبر زرائع کے مطابق پارٹی کی خاتون رہنماء نے معشوق راجپر کو بلا جواز ہٹانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زیر بلدیات کو ہدات کی تھی کے معشوق راجپرکے ملازمت کے اخری چند ماہ بچے ہیں لہذاء انہیں ریٹائرمنٹ تک نہیں ہٹایا جائے،زرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی پی پی کی خاتون رہنماء نے وزیر بلدیات کے کوارڈینیٹر رحمت اللہ شیخ کی بلدیاتی اداروں میں بے جا مداخلت پر ناپسندگی کا اظہار کیا تھا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں