اگلے بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت کا آئینی جواز ختم کیا جاسکتا ہے

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو معاشی محاذ پر جن زبردست مشکلات کا سامنا ہے ان میں اپوزیشن جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی مزید اضافہ کر سکتی ہیں ۔وفاقی دارالحکومت میں یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کے تیار کردہ بجٹ کو منظور کرانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہی نہیں حکومت کی اپنی صفوں میں بھی اختلافات ہیں جن کا فائدہ اٹھایا جائے وزیرخزانہ کی تبدیلی کے بعد غیر منتخب لوگوں کے ہاتھ میں معاملہ چلے گئے ہیں جس پر پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اور منتخب اراکین میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر حکومت نے مقدمات کی وجہ سے گھیرا تنگ کر رکھا ہے دباؤ سے نکلنے کے لیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی جوابی حکمت عملی وضع کر رہی ہیں سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والا بجٹ اپوزیشن کے لیے ایک سنہری موقع ہوگا جس کے ذریعے حکومت کو زبردست دباؤ کا شکار کیا جاسکے گا۔


سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں پی ٹی آئی کے ناراض اتحادیوں کو یکجا کر لیا اور بجٹ کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر کے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں تو ایم ایف کے ہاتھوں سخت شرائط کا سامنا کر کے پہلے سے دباؤ کا شکار پی ٹی آئی کی حکومت مزید جھک جائے گی اگر کوئی حکومت بجٹ منظور نہ کرا سکے تو بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت کا آئینی جواز ختم ہو جاتا ہے ۔یہ اہم نقطہ سرکاری بینچوں پر بیٹھے لوگ بھی جانتے ہیں اور حزب اختلاف کے جہاں دیدہ اورتجربہ کار ارکان بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں ۔
اگر مقتدر حلقوں کی طرف سے اوپریشن جماعتوں پر دباؤ آیا تو بجٹ منظور کرانے میں حکومت کی مدد کرنے کے عوض اپوزیشن جماعتیں یقینی طور پر اپنے لیے ریلیف حاصل کرنے کے اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیں گی ۔ایسی صورت میں پی ٹی آئی کی حکومت آیت بجٹ تو منظور گھر والے کی لیکن اسے اپوزیشن کی کی شرائط کے سامنے جھکنا پڑے گا



اپنا تبصرہ بھیجیں