ایک خطرناک بات ہونے کا اندیشہ ہے، اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو، عامر لیاقت حسین

ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاست کا آغاز کرنے والے عامر لیاقت حسین جواب اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے اپنے پورے کیرئیر میں مختلف تنازعات اور اسکینڈلز میں گھرے نظر آتے ہیں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور آمریت میں وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور کی حیثیت سے انہیں اسلام کی نئی شکل قرار دیا گیا ۔انہوں نے عالم آن لائن جیسے مشہور پروگرام سے شہرت حاصل کی سیاست میں وفاقی کابینہ تک کا سفر کیا ۔لیکن اصل شہرت انہوں نے اپنی رمضان نشریات سے حاصل کی جسے وہ ہر سال مختلف ٹی وی چینلز پر کرتے رہے ہیں کیمرہ نے ان کے پروگرام پر پابندی بھی لگائی ان کے پروگراموں کے حوالے سے  تنازعات میڈیا پر آتے رہے ہیں ۔
 2019 کو انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کیا انہوں نے لکھا ۔
ایک خطرناک بات ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو.

اس پیغام نے انکے تمام جاننے والوں اور بہی خواہوں میں ہلچل مچا دی ۔سب فکرمند ہوگئے کی اللہ خیر کرے ایسی کیا خطرناک بات ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے ۔
سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہوئے اور یہ بات سامنے آئی کہ اسٹاف سے بدسلوکی پر عامر لیاقت پی ٹی وی سے باہر ہورہے ہیں ۔


یاد رہے کہ متعدد تنازعات کا شکار رہنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور ٹی وی اینکر عامرلیاقت حسین رواں سال پی ٹی وی پر پہلی مرتبہ رمضان نشریات کی میزبانی کر رہے ہیں اور انکے ٹو یٹ سے یہ بحث شروع ہوئی ہے کہ کیا ان کا رویہ اپنے سٹاف کے ساتھ ناروا رہتا ہے اور کیا اسی بنیاد پر انھیں رمضان نشریات سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ایک روز پہلے وہ لائیو افطار ٹرانسمیشن درمیان میں ہی چھوڑ کر سیٹ سے چلے گئے تھے عامرلیاقت چوتھے روزے کی افطاری ٹرانسمیشن کے دوران وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت حسین کا سفر یہیں پر اختتام پذیر ہوتا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ عام لیاقت حسین کو اس رمضان ٹرانسمیشن سے اجازت دیجئے۔
اس کے بعد یہ افواہیں سامنے آئیں کہ عامر لیاقت کو چینل کے اسٹاف اور منیجمنٹ کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث ٹرانسمیشن سے الگ کر دیا گیا ہے اگلی سحری کی نشریات میں جب وہ ٹرانسمیشن کا حصہ نہیں بنے تو ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ۔
بعدازاں معاملات میں بہتری آئی تو عامر لیاقت نے ایک نیا ٹویٹ کیا جس میں بتایا گیا کہ وہ طبیعت خراب ہونے کے باعث سحری ٹرانسمیشن کا حصہ نہیں بن پائے تھے پی ٹی وی نیوز کے ناظرین انشاءاللہ افطار نشریات سے مجھے دیکھ سکیں گے طبیعت ناساز ہے اس لئے ابھی میں نہیں آسکا ناظرین سے معذرت خواہ ہوں ۔


اس کے بعد  دوسرے روز دوبارہ نشریات شروع کرنے آ گئے ۔یاد رہے کہ پی ٹی وی سے پہلے عامر لیاقت حسین جیو نیوز، اے آر وائی اور بول پر بھی رمضان نشریات کی میزبانی کر چکے ہیں ۔
رمضان نشریات کے حوالے سے عامر لیاقت  سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کرنے والے ٹی وی اینکر ہیں ہر ٹی وی چینل کی انتظامیہ یہ خواہش رکھتی ہے کہ رمضان نشریات میں عامر لیاقت حسین اس کے نیٹ ورک سے رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کریں ۔
رواں ماہ رمضان میں عامر لیاقت حسین کی پہلی اہلیہ بشریٰ بھی ایک نجی ٹی وی چینل ہم نیوز سے رمضان ٹرانسمیشن میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں