رمضان ٹرانسمیشن نے میری زندگی بدل دی ۔ رابعہ انعم

رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے پاکستان کے سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز کے درمیان ایک مقابلے کی فضا قائم ہے ہر ٹی وی چینل کی کوشش ہے کہ وہ اپنی رمضان ٹرانسمیشن کو بہتر سے بہتر میزبان کے ذریعے ناظرین تک پہنچائے اور سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل کرے ۔
رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے اس مرتبہ پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ فنکاروں کو رمضان نشریات سے روکا جائے اس قرارداد کی حمایت اور مخالفت میں بحث شروع ہوگئی ۔


گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی مختلف ٹی وی چینلز پر رمضان نشریات میں کی نامور فنکار بھی نشریات کا حصہ بنے ہوئے ہیں جبکہ پیشاور ٹی وی اینکر اور صحافی بھی رمضان نشریات کی میزبانی کر رہے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں نیوز کاسٹر کے طور پر اپنا کیریئر شروع کرنے کا موقع ملا تھا اور اب انہوں نے مختلف پروگراموں کی میزبانی کے حوالے سے اپنی شناخت اور منفرد مقام بنا لیا ہے ۔
وسیم بادامی سےلےکر جویریہ سعود اور احسن خان جیسے نامور لوگ رمضان نشریات کا حصہ بن گئے ہیں اور بہت عمدگی سے اپنے فرائض نبھا رہے ہیں ۔رمضان نشریات کو بلاشبہ عامر لیاقت حسین نے ایک نیا رنگ اور نئی رونق عطا کر رکھی ہے اور وہ ہر سال کچھ نیا کرتے ہیں ۔


اس مرتبہ جیو ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن احساس رمضان کی میزبانی نیوز اینکر رابعہ انم کر رہی ہیں انہوں نے اپنے میڈیا کے دوستوں کو بتایا ہے کہ میں اس پورے مہینے سحری اور افطاری کے دوران اس ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہو ہم نے اپنی ٹرانسمیشن کا آغاز چاند رات سے ہی کر دیا تھا رابیہ انم کہتی ہیں کہ رمضان ٹرانسمیشن کا گزشتہ سال کا تجربہ نہایت شاندار تھا اور رمضان ٹرانسمیشن کے تجربے نے میری زندگی بدل دی میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے ایسا موقع ملا اور وہ بھی اکیلے ۔میرے ساتھ کوئی شریک میزبان نہیں البتہ کہیں نامورشخصیات ضرور پروگرام میں شرکت کرتی ہیں رابیاانم کا کہنا ہے کہ ہم کسی سے مقابلہ نہیں کر رہے نہ ہی مقابلے کا ارادہ ہے صرف توجہ اس بات پر ہے کہ مہذب اور مثبت ٹرانسمیشن پیش کریں ۔ان کا کہنا ہے کہ جب کسی مریض کی امداد ہوتی ہے جب کسی بچھڑے ہوئے بچے کو والدین سے ملایا جاتا ہے تو یہ لمحات نہیں بھول سکتے ۔یہ زندگی کا سرمایہ بن جاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں